عابد انور
دنیامیںجس طرح انسانی حقوق کے تئیں بیداری آئی ہے اور جس طرح انسانوںکو ازمنہ قدیم اور وسطیٰ کے نظریہ سے الگ ہٹ کر دیکھا جارہا ہے اسی طرح مسلمانوں کے لیے دنیا میں زمین تنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس وقت جانوروں کے حقوق کے لیے بھی پوری دنیا میں تحریکیں چل رہی ہیں، یہاں تک کہ ترقی پسند ممالک کی خواتین برہنہ ہوکر جانوروں کے تحفظ کے لیے مظاہرے کررہی ہیں،لیکن مسلمانوں کے حقوق کے لیے کوئی سامنے نہیں آرہا ہے کوئی یہ بتانے کے لیے تیار نہیں ہے کہ ان کے بھی حقوق ہیں اور انہیں دنیا میں اپنی پسند اور اپنے مذہب کے اعتبار سے جینے کا حق ہے ۔پوری دنیا میں کسی نہ کسی طرح انہیں خلفشار میں مبتلا رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔کہیں عورتوں کے پردہ کرنے پر پابندی لگائی جارہی ہے تو کہیں سر پر اسکارف باندھنے پر قدغن ہے تو کہیں حلال گوشت کھانے پر پابندی لگادی گئی ہے، لیکن جب اس سے بھی ذہنی تسکین نہیں ہوئی تو اسلام دشمن قوتوں نے مسلمانوں پر شکنجہ کسنے کے لیے نئے نئے طریقے وضع کرنے شروع کردیے، ایک سازش تیار کی جانے لگی جس سے اس کا نقصان بھی ہو اور اس کا ناطقہ بھی بند ہوجائے۔اوسلو میں جو کچھ ہوا ہے وہ تو ہندوستان میںطویل عرصہ سے ہورہا ہے۔ ہندوستان میں پہلے فسادات میں مسلمانوں کو قتل کرکے ان کا ناطقہ بند کیا جاتا تھا، لیکن جب اس سے اس کی بدنامی ہونے لگی تو ان لوگوں نے اپناطریقہ کار بدل دیا اور دھماکے کرنے لگے اور اس کا جرم مسلمانوں کے سرمنڈھ دیا گیا ۔ اسلام دشمن طاقتوں نے میڈیا کا سہارا لے کر مسلمانوں کے خلاف نفرت کاماحول پیدا کیا اور جب بھی کہیں دھماکے ہوئے تو نام نہاد تنظیموں کا نام لے کر مسلمانوں کو مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی جانے لگی۔ یوروپ میں اسلام کے خلاف سازش آج کی بات نہیں ہے۔ جب اسلام یوروپ میں پہنچا تو کسی نہ کسی شکل میں اس کے خلاف سازش ہونے لگی اور یہاں تک پوری دنیا میں اسلام کو ایک سیلاب، ایک خوف، ایک دہشت اور نیست و نابود کرنے والی سونامی کی شکل میں پیش کیا گیا، جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ اسلام نے جہاں بھی قدم رکھا وہاں امن و امان قائم ہوا، خانہ جنگی ختم ہوئی اور ایک صالح معاشرہ تشکیل پایا۔ یہ بات اہل یوروپ سے بھلا کون بہتر جانتا ہوگا، یہ الگ بات ہے کہ اعتراف کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔
ناروے کی راجدھانی اوسلو میں جو کچھ ہوا وہ پوری دنیا کی اسلام دشمن طاقتوں کی طویل منصوبہ بندی، حکمت عملی اور سازش کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ مسلمانوں کو اس سے بڑی بڑی سازش کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا ہوگا۔ ہندوستان میں اس طرح کے حالات کاسامنا مسلمان طویل عرصہ سے کر رہے ہیں۔بھلا ہو اوسلو کے کچھ انصاف پسند میڈیا اہلکاروں کا جنہوں نے سازش کو بے نقاب کیا ورنہ اس کا ٹھیکرا مسلمانوں کے سر پھوڑنے کی مکمل تیاری ہوچکی تھی اور اس بہانے مسلمانوں کو یوروپ سے نکالنے کا منصوبہ تیار ہوچکا تھا۔ہندوستان کے بیشتر دھماکوں میں ہندو انتہا پسندوں کا ہاتھ رہا لیکن مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا اور ابھی تک سیکڑوں مسلم نوجوان جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی زندگی گزار رہے ہیں، لیکن اتنے دھماکے کرنے کے باوجود ہندو انتہا پسندوں کے چند لوگ ہی جیل میں بند ہیں، باقی سب آزاد ہیں مسلمانوں کے خلاف کسی سازش کو انجام دینے کے لیے۔ ناروے میں دھماکہ اور فائرنگ کرکے جنونی آندرس بیہرنگ بریوک (Andres Behring Breivik) نے جس طرح بہیمانہ کردار ادا کیا ہے اس کی نظیر تاریخ میںبہت کم ملتی ہے۔یہی کام اگر مسلم نوجوان نے انجام دیا ہوتا، تو پوری دنیا اورعالمی میڈیا یہ چیخ چیخ کر کہتا کہ اسلام سب سے خونریز مذہب ہے، دہشت گردی کا مذہب ہے وغیرہ وغیرہ، لیکن جب آندرس بیہرنگ بریوک نے یہ سیاہ کارنامہ انجام دیا ہے تو صرف اسے ہی برا بھلا کہا جارہا ہے، اس کے مذہب عیسائیت کو نہیں، ایسا ہونا بھی نہیں چاہیے، لیکن یہ فارمولا سب پر لاگو ہوتا ہے صرف عیسائی یا ہندو یا یہودی پر نہیں۔ افسوس کی بات تویہ ہے کہ بعض لوگ تو اس کی حمایت میں آکھڑے ہوئے ہیں اور اس کے وحشت ناک عمل کو جائز ٹھہرانے کے لیے نت نئے بہانے تراش رہے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ناروے کی تاریخ میں رونما ہونے والے اس انتہائی پر تشدد واقعہ کے نتیجے میں 92 سے زائد افراد کی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ ناروے کی دارالحکومت اوسلو کے ایک اہم مقام پر ہونے والے بم دھماکے میں اور اوسلو کے نواح میں واقع تعطیلاتی جزیرے اٹویا میں فائرنگ کے نتیجے میںاتنی زیادہ جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ یہ فائرنگ اس وقت ہوئی تھی جب وہاں حکمران پارٹی کے یوتھ کنونشن کے لیے 560 نوجوان جمع تھے۔ اس حملہ کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کا قتل تھا تاکہ مسلمانوں کے خلاف زیادہ سے زیادہ شدت کے ساتھ نفرت کا ماحول پیدا کیا جائے۔ اگر یہ منصوبہ ہندوستان میں انجام دیا گیا ہوتا وہ کامیاب بھی ہوجاتا، کیوں کہ یہاں میڈیا سب سے پہلے مسلمانوں کا ہی نام لیتا اور پولس بھی بغیر سوچے سمجھے اپنا شک اور یقین مسلمانوں پر ہی ظاہر کرتی۔
دراصل یوروپ اور مغربی ممالک اسلامک فوبیا کا شکار ہیں۔اپنے ظلم و جبر ان کو یاد آرہے ہیں جو وہ گزشتہ تین سو چار سو برسوں میں کرتے آئے ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ وقت اپنا حساب چکتا کرتا ہے خواہ اس کی زد میں کوئی بھی آئے، اسے نہ تو آنے والی نسل کو ان کے آباء و اجداد کے کارناموں کا حساب دینا ہوتا ہے اور نہ ہی یوروپ اور مغربی ممالک کے اقوام کو بھی دینا ہوگا جو اس نے پوری دنیا میں روا رکھے تھے۔ اسی خوف نے یوروپ کو اسلامی فوبیا کاشکار بنادیا ہے۔ اس کو روکنے کے لیے وہ مسلمانوں پرطرح طرح سے حملے کرتے ہیں، پابندی لگاتے ہیں، کبھی سر راہ ذلیل کرتے ہیں تو کبھی ان کے مذہبی مقامات پر حملے کرتے ہیںتو کبھی کسی سازش کا شکار بناتے ہیں تاکہ وہ اسلام کی قوت کو یوروپ اور مغربی ممالک میں روک سکیں، لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام میں وہ قوت ہے اور مقناطیسی طاقت ہے کہ لوگ خود بخود کھنچے چلے آتے ہیں۔ اسلام ایک ا سپنج کی طرح ہے جسے جتنادبایا جائے اتنی ہی تیزی سے ابھرتا ہے۔نائن الیون کے بعد امریکہ سمیت پورے یوروپ میں اسلام کے خلاف ایک لہر چلی تھی لیکن نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ امریکہ اور یوروپ میں کثیر تعداد میں لوگ اسلام میں داخل ہوئے ۔ امریکہ ، فرانس اور جرمنی سمیت یوروپ کے بیشتر ممالک میں اسلام دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے اور امریکہ میں مسلمانوں کی آبادی نوے لاکھ کے آس پاس ہے جب کہ جرمنی میں 60 لاکھ مسلمان ہیں۔ یوروپ اور امریکہ میں جس طرح اسلام کے خلاف شدت سے تحریک چلائی جارہی ہے اسی طرح وہاں کے لوگ اسلام کی طرف راغب ہورہے ہیں،جس کی وجہ سے وہاں کچھ شدت پسند گروپ پیدا ہوگئے ہیں جنہیں لگتا ہے کہ وہ اسلام کی سونامی میں بہہ جائیں گے۔ آندرس بیہرنگ بریوک نے اسی وہم کا شکار ہوکر اپنے ہی لوگوں کی جان لے لی۔ اس کی تحریر سے اس کے ذہن کی عکاسی ہوتی ہے، جس پر جنگجویانہ تصوراتی کمپیوٹرکھیلوں کا رنگ چڑھا ہوا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اس نے لکھا کہ اس نے دو فیس بک اکاؤنٹس کے ذریعے ہزاروں افراد کو اپنا منشور بھیجا ہے۔ اس کے مطابق اس نے11 جون کو پہلی بار خدا کے سامنے دعا کی کہ اگر وہ مارکس اور اسلام کے پیروکاروں کے گٹھ جوڑ کو یوروپ پر قبضہ جمانے اور عیسائیت کو مٹنے نہیں دینا چاہتا تو اسے یوروپی عیسائیت کو فتح دلانے کے لیے برسر پیکار جنگجوؤں کی مدد کو یقینی بنانا ہوگا۔ دو روز بعد اس نے دور دراز علاقے میں ایک بم کا تجربہ کیا، جو کامیاب رہا۔آندرس کو جن الفاظ سے نفرت ہے ان میں کثیر الثقافتی معاشرہ بھی شامل ہے۔ پندرہ سو صفحات پر مبنی دستاویز کے بیشتر حصے دیگر دائیں بازو اور اسلام مخالف دستاویزات سے نقل کر کے مرتب کیے گئے ہیں۔ ہلاکت خیز مہم شروع کرنے سے چند روز قبل اس نے سرقہ شدہ مواد پر مبنی آن لائن منشور میں لکھا کہ قرون وسطیٰ کے صلیبی جنگجوؤں کا نائٹس ٹیمپلر نامی آرڈر 2002 میں لندن میں دوبارہ وضع کیا گیا تھا۔آندرس بیہرنگ، جو اس وقت دہشت گردی کے الزام میں پولس کی حراست میں ہے، نے لکھا کہ اس آرڈر کا مقصد مقامی حقوق کی مسلح تنظیم اور صلیبی تحریک (جہاد مخالف تحریک) بنانا ہے۔منشور کے مطابق ایک بار جب آپ نے حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تو پھر ہر ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ افراد کو موت کے گھاٹ اتارنا ضروری ہے ورنہ حملے کا مطلوبہ نظریاتی اثر کمزور پڑ جائے گا۔
انٹرنیٹ پر موجود سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بریوک اور اس جیسے دیگر افراد کی کمی نہیں ہے جو کسی نہ کسی بہانے اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں اور انٹرنیٹ پر ایسے مواد کی بھرمار ہے جومنصوبہ بند طریقے سے، جس کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی، پیش کیا جاتا ہے جسے پڑھ کر کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جرمنی کے وفاقی صوبوں کے نوجوانوں کے تحفظ کی وزارتوں نے 1997 میں ’’یوتھ پروٹیکشن نیٹ‘‘ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی۔ اس نے پتہ لگایاہے کہ نفرت کے سوداگر نیو نازی تحریک سے وابستہ لوگ تقریباً 1900 ویب سائٹس پر اپنا نفرت انگیز اورانسان دشمن پروپیگنڈہ پھیلا رہے ہیں۔ فیس بک یا یو ٹیوب جیسے ویڈیو پلیٹ فارموں پرتو ان کی تحریروں اور اسپاٹس کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ نیو نازی بالخصوص یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق دائیں بازو کی انتہا پسندی سے متعلق شعبے کے سربراہ اشٹفن گلازر نے کہا کہ نیو نازی نیٹ ورکس کی تعداد چند برسوں کے اندر ہی تین گنا بڑھ کر 90 ہو گئی ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ کبھی انجام نہیں پاتا اگر انٹیلی جنس میکانزم کو تعصب سے پاک رکھا جاتا۔ جس طرح ہندوستان میں نوے فیصد ہندو یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہندو دہشت گرد نہیں ہوسکتے، اسی طرح مغرب اور یوروپ ممالک میں انٹیلی جنس افسران کی توجہ شدت پسند یہودی اور عیسائیوں پر مرکوز نہیں ہوتی، انہیں صرف داڑھی، ٹوپی والا مسلمان اور نقاب پوش مسلم خواتین ہی شک کے دائرے میں نظر آتی ہیں۔ اسی کا فائدہ اٹھاکر شدت پسند اپنا منصوبہ انجام دے جاتے ہیں اور افسران لکیر پیٹتے رہ جاتے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق یوروپی جاسوسی اداروں کی توجہ اسلامی شدت پسندوں پر اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ وہ دیگر لوگوں کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ 92 افراد کی ہلاکت کے بعد پہلا عوامی تاثر یہی ابھرا تھا کہ شاید یہ اسلامی انتہا پسندی ہے۔ بعد میں جس شخص نے اعتراف جرم کیا پولس اسے ’بنیاد پرست مسیحی‘ قرار دے رہی ہے، جس کے سیاسی نظریات کا جھکاؤ دائیں بازو کی جانب ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں کی زیادہ تر توجہ اسلامی انتہا پسندوں پر مرکوز تھی۔ سویڈن کی ایکسپو فاؤنڈیشن سے وابستہ ڈینیئل پوھل، جوخطے میں دائیں بازوں سے وابستہ افراد کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرتے ہیں، کا خیال ہے کہ بریوک ایک نئی طرز کی دہشت گردی کی نمائندگی کرتا ہے، جسے مسلمان مخالف جذبات نے بھڑکایا ہے۔ناروے کی انٹیلی جنس ایجنسی نے رواں سال ایک رپورٹ میں تسلیم کیا تھا کہ ملک میں دائیں بازو کے انتہا پسند موجود ہیں مگر ساتھ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ وہ شاذ و نادر ہی سرگرم دیکھے گئے ہیں۔ ناروے کی پولس سکیورٹی سروسز PST کی سالانہ رپورٹ میں بھی اسلامی انتہا پسندوں ہی کو ملک کے لیے ممکنہ براہ راست خطرہ ٹھہرایا گیا تھا۔ سویڈن میں قوم پرست اور نازی خیالات کے گروپس سے چھٹکارے کے خواہش مندوں کی مدد کرنے والی تنظیم ایگزٹ فاؤنڈیشن سے وابستہ روبرٹ اوئریل کے خیال میں اسی سوچ سے بریوک نے فائدہ اٹھایا۔
یوروپ میں نوجوانوں کی سوچ کو زہر آلود کرنے میں جہاں سیاست دانوں، صحافیوں، میڈیا اور اسلام مخالف تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا ہے وہیں یوروپ کی وہ سیاسی جماعتیں بھی ہیں، جنہیں غیرملکی اور اسلام مخالف ہونے کی بنا پر انتخابی کامیابیاں ملتی ہیں۔ اس کا نظارہ آئے دن یوروپ میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ سوچ یوروپ میں کس قدر پھیلی ہوئی ہے اس کا اندازہ اوسلو دھماکوں کے فوراًبعد ہونے والے تجزیوں سے بھی ہوتا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق دھماکہ اور فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد فوری طور پر یہ کہنا شروع کر دیا گیا کہ ناروے حکومت افغانستان میں جاری جنگ اور لیبیا کے خلاف فضائی حملوں میں شریک ہے، لہٰذا حملہ آور کوئی مسلمان ہو سکتا ہے۔ جس وقت یہ پتہ چلا کہ دہشت گرد سنہرے بالوں اور نیلی آنکھوں والا ہے تو یہ تجزیے سامنے آئے کہ اسلام قبول کرنے والا کوئی یوروپی ہو سکتا ہے ۔ جرمن ٹیلی ویژن پر اس طرح کے بیانات کے تناظر میں یہاں پرامن رہنے والے مسلمانوں نے کیا محسوس کیا ہوگا؟ کیا اس طرح کے بیانات بھی سوچ کو زہر آلود نہیں کرسکتے؟آندرے بیرنگ بریوک اوسلو میں پیدا ہوا اور اوسلو اسکول آف مینجمنٹ سے تعلیم حاصل کی۔ آندرے بہرنگ بریوک نے بعد میں اوسلو کو چھوڑ کر زرعی کمپنی قائم کی جہاں وہ سبزیاں، تربوز کاشت کرتا تھا۔ ناروے کے مقامی ذرائع ابلاغ میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ زرعی فارم کے مالک ہونے کی حیثیت سے وہ بڑے پیمانے پر مصنوعی کھاد حاصل کرنے کا حامل تھا جسے بم میں استعمال کیا گیا۔آندرے بیرنگ بریوک سے منسوب ٹوئٹر اکاونٹ پر صرف ایک پیغام ہے جس میں وہ فلسفی جان سٹیورٹ مل کا وہ قول دہراتا ہے کہ’ ایک صاحب ایمان شخص ایک لاکھ مفاد پرستوں کے برابر طاقت رکھتا ہے۔‘
یہ اندوہناک واقعہ ان لوگوں کی آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہے جو مذہب، علاقائیت، ذات پات اور رنگ و نسل کی عینک سے سب کو دیکھتے ہیں۔ خاص طور پر ہندوستان میں اس کا خدشہ زیادہ بڑھ گیا ہے کہ کوئی جنونی جو مسلمانوں کا لباس اور وضع قطع اختیار کرکے اس طرح کا بہیمانہ کارروائی انجام دے سکتا ہے اور اس کا ذمہ دار فوراً مسلمانوں کو قرار دے دیا جائے۔ اس ضمن میں یہاں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ذمہ داری دوگنی ہوجاتی ہے۔ وہ اس بات پر گہری نگاہ رکھے اور وہ اپنی عقابی نظر صرف مسلما نوں پر مرکوز نہ کرے بلکہ سب کو یکساں شک و شبہ کی نظر سے دیکھے تاکہ کسی کو اس طرح کی بہیمانہ کارروائی کرنے کا موقع نہ مل سکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here