ابھیشیک رنجن سنگھ
تقریباً55سال قبل کئی عوامی فلاحی مقاصد کو لے کر قیام میں آئی فوڈ کاپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) آج لاپروائی، من مانی اور بدعنوانی کا اڈہ بن گئی ہے۔ ملک کا کسان آج فاقہ کشی ،بدحالی کا شکار ہے اور خود کشی کرنے کے لئے مجبورہے، لیکن اسی کے خون پسینہ سے پیدا شدہ لاکھوں ٹن اناج ایف سی آئی مینجمنٹکی بدنظمی اور بدنیتی کے سبب کھلے آسمان کے نیچے سڑنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ پورے ملک میں ایف سی آئی کے تقریباً1451گودام ہیں، جو ضرورت کے حساب سے کافیکم ہیں۔ مرکزی حکومت ہر سال کل زراعتی پیداوار کا تقریباً15سے 20فیصد حصہ یعنی گیہوں اور چاول خریدتی ہے۔ایف سی آئی مینجمنٹکی لاپروائی کی وجہ سے ہزاروں ٹن اناج بہتر رکھ رکھائو کے فقدان میں سڑ جاتا ہے۔ اناج کی اس بربادی کے سبب ملک کے کروڑوں غریب عوام بھلے ہی دو وقت کی روٹی سے محروم رہ جائیں، لیکن فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کیمینجمنٹ  کے لئے اناج کا سڑنا کافی فائدے مند ہے۔چوتھی دنیا نے جب ایف سی آئی کے گوداموں کا جائزہ لیا تو مینجمنٹ کی شدید لاپروائی سامنے آئی۔ایف سی آئی کے ذریعہ خریدا گیا لاکھوں ٹن اناج گوداموں، ریلوے پلیٹ فارم اور سڑکوں پر یوں ہی کھلے آسمان کے نیچے برباد ہونے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ بارش میں بھیگنے کی وجہ سے اناج اس قدر خراب ہو جاتا ہے کہ وہ کسی کے کھانے لائق نہیں رہتا۔اعداد وشمار کے مطابق، گزشتہ ماہ جنوری میں ایف سی آئی کے گوداموں میں 10,688لاکھ ٹن اناج سڑا ہوا پایا گیا۔ اناج کی یہ مقدار10سالوں تک چھ لاکھ لوگوں کے کھانے کے لئے کافیتھی۔1997اور 2007کے درمیان 1.83لاکھ ٹن گیہوں، 6.33لاکھ ٹن چاول، 2.20لاکھ ٹن دھان اور 111لاکھ ٹن مکا فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے مختلف گوداموں میں خراب ہو گیا۔ ایف سی آئی کے گوداموں میں اناج کے رکھ رکھائو کے لئے کافیجگہ ہے ، پھر بھی بڑی مقدار میں اناج گودام کے احاطہ میں کھلے آسمان کے نیچے سڑرہا ہے۔
اناج کی یہ ناقدری دیکھ کر عام آدمی بھلے ہی اپنا سر پیٹ لے،لیکن فوڈ کارپوریشن کے افسران ، ملازمین کے لئے یہ کسی بخشش سے کم نہیں ہے۔کیونکہ ہر سال ایف سی آئی کے گوداموں میں برباد ہونے والا ہزاروں لاکھوں ٹن اناج شراب بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ ملک کے عوام بھوکے ہیں اور ایف سی آئی انتظامیہ اور شراب مافیا مالامال ہو رہے ہیں۔ ایف سی آئی کے اناج اسٹوریج سسٹم کی خامیوں کے بارے میں جب عدالت اور سماجی تنظیموں کے ذریعہ احتجاج درج کرایا جاتا ہے تو وہ گوداموں کی کمی کا رونا روتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے کئی گوداموں میں اناج کی جگہ شراب کا اسٹوریج ہو رہا ہے، کیونکہ وہ جگہ اس نے کسی اور کو کرائے پر دے رکھی ہے۔ ایف سی آئی میں بدعنوانی کا عالم یہ ہے، دوسری طرف مرکزی حکومت فوڈ سیکورٹی بل لانے کی تیاری میں ہے۔ وہ ایسا کس کے بھروسہ پر کرنے جا رہی ہے، یہ بات سمجھ سے پرے ہے۔قابل ذکر ہے کہ ایف سی آئی کسانوں سے کم از کم امدادی قیمت(ایم ایس پی)پر گیہوں اور دھان خرید تی ہے اور خریدے ہوئے اناج کو پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (پی ڈی ایس) کے ذریعہجاری کرتی ہے۔اس کے علاوہ قیمتوں کو قابو کرنے کے لئے اوپن مارکیٹ سیلس اسکیم(او ایم ایس ایس) کے ذریعہ بازار میں گیہوں  فروخت کرتی ہے۔ گیہوں اور چاول ایکسپورٹ بھی دوسرے ممالک کو ایف سی آئی کے گوداموں سے ہی ہوتا ہے۔علاوہ ازیں فوڈ کارپوریشن آف انڈیا موٹے اناجوں اور چینی کی بھی خریداری کرتی ہے۔ چینی کی سپلائی کئی ریاستوں میں پی ڈی ایس کے ذریعہکی جاتی ہے، جبکہ موٹے اناجوں کی فروخت کھلے بازار میں ٹینڈر کے ذریعہ ہوتی ہے۔ اس خرید و فروخت میں بھی جم کر دھاندلی ہوتی ہے۔
اقتصادی بحران
مینجمنٹکی بدنظمی کے سبب آج حالت یہ ہے کہ فوڈ کاپوریشن آف انڈیا( ایف سی آئی) سنگین مالی بحران سے دو چار ہے، جس سے نجات پانے کے لئے اسے مرکزی حکومت سے فوری طور پر کروڑوں روپے کی سخت ضرورتہے۔ یہ روپیہ اسے گوداموں میں بھرے اناج کے رکھ رکھائو، ربیع کے سیزن میں گیہوں کی خرید کی بقایا ادائیگی اور چالو خریف کی فصل میں دھان کی خرید کے لئے چاہئے۔ اس نے مرکزی حکومت سے فوری طور پر مدد کرنے کی درخواست کی ہے۔
گوداموں کی گنجائش
ایف سی آئی کے چھت والے گوداموں کی کل اسٹوریج کیپیسٹی 225.64لاکھ ٹن ہے اور وہاں رکھے گئے اناج کی کل مقدار 218.35لاکھ ٹن ہے۔ شمالی علاقہ میں ایف سی آئی کے چھت والے گوداموں کی کل اسٹوریج کیپیسٹی 127.48لاکھ ٹن ہے، جبکہ ان میں محض111.22لاکھ ٹن اناج ہی رکھا گیا ہے۔ جنوبی ریاستوں میں گوداموں کی کل اسٹوریج کیپیسٹی 57.39لاکھ ٹن ہے، جبکہ وہاں رکھے کل اناج کی مقدار 54.24لاکھ ٹن ہے۔مشرقی ریاستوں میں گوداموں کی کل اسٹوریج کیپیسٹی 23.99لاکھ ٹن ہے، جبکہ وہاں 17.10لاکھ ٹن اناج رکھا گیا ہے۔شمال مشرقی ریاستوں میں واقع گوداموں میں4.48لاکھ ٹن اناج رکھا جا سکتا ہے، جبکہ وہاں موجود اناج کی مقدار صرف 3.50 لاکھ ٹن ہے۔ مغربی ریاستوں میں واقع گوداموں کی کل اسٹوریج کیپیسٹی 43.30لاکھ ٹن ہے، جبکہ وہاں رکھے اناج کی مقدار صرف 32.29لاکھ ٹن ہے۔ ایف سی آئی کے گوداموں میں اناج اسٹوریج کی کافی کیپیسٹی ہے۔پھر بھی بڑی مقدار میں اناج یہاں وہاں سڑ رہا ہے۔ اپنے گوداموں میں کافیجگہ ہونے کے باوجود ایف سی آئی بچولیوں کے توسط سے پرائیویٹ گودام اور ویئر ہائوس کرائے پر لے رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کام کے لئے اعلیٰ افسران کو موٹا کمیشن ملتا ہے۔ ایف سی آئی انتظامیہ کو دوہرا فائدہ ہو رہا ہے۔ پہلا تو یہ ہے کہ وہ جگہ کے فقدان کا رونا رو کر پرائیویٹ گودام اور ویئر ہائوس کرائے پر لیتا ہے اور اس میں کمیشن بازی ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ سڑا گلا اناج کوڑیوں کے بھائو شراب فیکٹریوں کو بیچنے سے وہاں بھی موٹی کمائی ہوتی ہے۔
فوڈ سیکورٹی بل اور ایف سی آئی
عام آدمی کو بھرپیٹ کھانے کا قانونی حق دینے کے لئے فوڈ سیکورٹی بل جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ حکومت نے قومی صلاحکار کونسل کے مشورہ پر عمل کیا تو آئندہ کچھ مہینوں بعد 72فیصد عوام کو 3روپے کلو کے حساب سے گیہوں اور 2روپے کلو کے حساب سے چاول ملنے لگے گا، لیکن حکومت کے قول و عملمیں فرق کا اندازہ اناج کی سرکاری خریداری، اس کے رکھ رکھائو اور ڈسٹری بیوشن سے جڑی بے ضابطگیوں کو دیکھ کر آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ اناج کی خرید و فروخت کے معاملہ میں ایف سی آئی کے افسران کے بھی اپنے کچھ کھیل ہیں۔ کچھ ماہ قبل عالمی بینک نے اپنی ایک رپورٹ میں کہاتھا کہ پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم میں سرکار جتنا پیسہ لگاتی ہے، اس کا 40فیصد ہی اناج کی شکل میں لوگوں تک پہنچ پاتا ہے۔ اتنی خامیوں سے پر، بدعنوان اور سست نظام کے تحت لایا جا رہا فوڈ سیکورٹی قانون کیا لوگوں کا پیٹ بھر دے گا، اس کی فی الحال تو کوئی امید نظر نہیںآتی ہے۔ غذا کی کمی اور فاقہ کشی کا شکار سماج کاایک بڑا طبقہ ایک وقت کی روٹی کے لئے جدوجہد کر رہا ہے اور دوسری طرف لاکھوں ٹن اناج کی بربادی! یہ صورتحال عوامی فلاح کا دم بھرنے والی حکومت اور اس کی پالیسیوں پر سوال کھڑے کرتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق، ملک کی 21فیصد سے زیادہ آبادی بی پی ایل کے زمرے میں آتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے سات فیصد بچے معقول غذا نہ ملنے کے شکار ہیں، وہیں 52فیصد خواتین انیمیا کی شکار ہیں۔
اناج سڑنے کی وجوہات
ایک رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کا فوڈ مینجمنٹ بحرانمیں مبتلا ہے۔ ایف سی آئی کے گوداموں میں جگہ کی مبینہ کمی، کولڈاسٹوریج کا فقدان، گوداموں کا دوسرے کاموں کے لئے استعمال اور مناسب انتظام نہ ہونے سے اناج سڑرہا ہے۔ کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ حکومت نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا مال اپنے کولڈ اسٹوریج میں بھر رکھا ہے۔ اس وجہ سے سرکاری اناج ریلوے اسٹیشنوں پر کھلے آسمان کے نیچے پڑے پڑے خراب ہو رہا ہے۔ حالانکہ حکومت نے پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت سے اناج کی اسٹوریج کرنے کی بات کہی ہے۔ کولڈ اسٹوریج سے متعلق اس نے ایک اسکیم ’’وژن 2015‘‘تیار کی ہے، جس کے تحت گوداموں میں اناج کی سیکورٹی کی ذمہ داری انڈین گرین اسٹوریج مینجمنٹ اور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی جی ایم آر آئی) کے سپرد کی گئی ہے۔
ہندوستان میں فوڈ گرین پروڈکشن
ہمارے ملک  کی 60فیصد سے زائد آبادی کھیتی کسانی پر انحصار کرتی ہے۔ حالانکہ گزشتہ پانچ دہائیوں میں کل گھریلو پیداوار(جی ڈی پی) میں اس کا اشتراک دیگر شعبوں کے مقابلہمیں کم ہوا ہے، لیکن ابھی بھی جی ڈی پی میں اس کا اہم کردار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 11ویں پنچ سالہ اسکیم میں زراعتی شعبہ کے لئے 4فیصد شرح ترقی کا ہدف رکھا گیا ہے۔
مہنگائی کی آگ
تنازعات اور شرد پوار کا کافی نزدیکی رشتہ ہے۔ایف سی آئی کے گوداموں میں سڑتے اناج کے بارے میں وزیر زراعت شرد پوار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی ہوبہو تعمیل نہیں کی جا سکتی۔ اناج بھلے ہی سڑ جائے، لیکن اسے مفت میں غریبوں کو دینا ممکن نہیں ہے۔ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے گوداموں میں اناج کس طرح برباد کیا جا رہا ہے، اسے بہار، اتر پردیش، راجستھان، پنجاب اور مدھیہ پردیش کے گوداموں میں جا کر دیکھا جا سکتا ہے۔ گزشتہ سال سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ جس ملک میں ہزاروں لوگ بھوکے مر رہے ہوں، وہاں اناج کے ایک دانے کی بربادی بھی جرم ہے۔ اس پورے معاملہ میں ہم فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے ورکنگ سسٹم کو کلین چٹ نہیں دے سکتے۔ ایف سی آئی کے گوداموں میں کیا ہو رہا ہے، اس پر نظر رکھنے کا کام مینجمنٹ کو کرنا چاہئے، لیکن اس معاملہ میں وہ پوری طرح ناکام رہا ہے۔
ورکرس یونین کی ناراضگی
فوڈ کارپوریشن آف انڈیاکا مینجمنٹ خود کو چاہے جتنا دودھ کا دھلابتائے، لیکن یہاں کام کرنے والے ہزاروں مزدور ان کی باتوں سے اتفاق نہیں رکھتے۔ایف سی آئی ہینڈلنگ ورکرس یونین کا کہنا ہے کہ افسران کے لئے یہ جنت ثابت ہو رہا ہے،وہیں یہاں کام کرنے والے مزدوروں کی حالت بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ یونین کے صدر ہری کانت شرما کا کہنا ہے کہ یہاں کام کرنے والے مزدوروں کے چاردرجے ہیں۔ پہلے نمبر پر محکمہ جاتی ملازمین ہیں، جن کی ملک بھر میں کل تعداد 20ہزار ہے۔ یومیہ مزدوروں کی تعداد 31ہزار ہے۔نو ورک نو پے سسٹم کے تحت کل مزدوروں کی تعداد 3ہزار ہے اور کانٹریکٹ بیسس پر کام کرنے والے مزدوروں کی کل تعداد 25ہزار ہے۔محکماتی ملازمین کو چھوڑ کر باقی مزدوروں کی حالت انتہائی قابل رحم ہے۔یونین کے اہم مطالبات میں ملازمین ریاستی بیما اسکیم ( ای ایس آئی)نافذ کرنا، نوٹیفائڈ ڈپومیں نو ورک پے سسٹم نافذ کرنا، تمام مزدوروں کو کم سے کم مزدوری دینا، پہلے کی طرح محکمہ جاتی یا ڈی پی ایس کے مہلوک مزدوروں کے منحصرین سے ہمدردی کے ناطہ نوکری دینا، بونس ریسورس آرڈیننس 2007کے مطابق ڈی پی ایس اور نو ورک نو پے میں تعینات مزدوروں کو اضافی شرح سے بونس،ایکس گریشیا کی ادائیگی، ٹھیکیداری کی روایت ختم کرنا اور بند پڑے ریل سائڈنگ کو دوبارہ کھولنا وغیرہ شامل ہے۔یونین کا الزام ہے کہ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا ایسا بے لگام ادارہ ہے ، جو نہ عدالت کا فیصلہ مانتا ہے اور نہ حکومت کی ہدایات کی تعمیل کرتا ہے۔ غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہر سال ہزاروں ٹن اناج خراب ہو جاتا ہے۔ گوداموں کی مبینہ کمی کی آڑ میں ایف سی آئی مینجمنٹ کمیشن کا کھیل کر رہا ہے۔کچھ سال قبل خاص ضرورت پڑنے پر 1روپے 20پیسے اسکوائرفٹ کی شرح سے پرائیویٹ گودام کرائے پر لئے جاتے تھے، وہیں اب سینٹرل ویئر ہائوسنگ کارپوریشن اور اسٹیٹ ویئر ہائوسنگ کارپوریشن کے ذریعہ 3روپے فی اسکوائر فٹ کی شرح سے گودام کرائے پر لئے جا رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایف سی آئی اپنے گودام دوسروں کو کرائے پر دے رہا ہے۔ یونین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے ایف سی آئی مینجمنٹ نئے مزدوروں کی بھرتی نہیں کر رہا ہے اور مزدوروں کی تعداد مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ مینجمنٹ کامنشا ہے کہ مزدوروں کی تعداد دن بدن کم ہوتی چلی جائے، تاکہ ٹھیکے پر مزدوروں کو رکھنے کا راستہ صاف ہو جائے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران6ہزار افسران کی تقرری کی گئی، لیکن مزدوروں کی نہیں۔سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونین(سیٹو) کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا کے ممبر تپن سین نے مرکزی حکومت کو مزدور مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بچولیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔حکومت نہیں چاہتی کہ ایف سی آئی کی شناخت ایک مضبوط اور شفاف ادارے کی شکل میں ہو۔ سین کے مطابق، ایف سی آئی ورکرس یونین کے حقوق کی خاطر ملک کی تمام ٹریڈیونینس متحد ہوں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here