انڈین ایکسپریس کی صحافت۔2

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار
اگر کوئی اخبار یا ایڈیٹر کسی کے ڈرائنگ روم میں تاک جھانک کرنے لگ جائے اور غلط یا فرضی کہانیاں شائع کرنی شروع کر دے تو ایسی صحافت کو بزدلانہ صحافت ہی کہا جائے گا۔ حال ہی میں انڈین ایکسپریس نے ایک اسٹوری شائع کی تھی، جس کا عنوان تھا ’’سیکریٹ لوکیشن‘۔ یہ اس اخبار میں شائع ہونے والے مستقل کالم ’’Delhi Confidential‘‘کا ایک حصہ تھا۔ اس اسٹوری کو پڑھ کر کوئی عام آدمی اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ وی کے سنگھ اور انا ہزارے جو بدعنوانی کے خلاف لڑائی لڑ رہے ہیں، وہ ہمیشہ خفیہ طریقہ سے ملتے ہیں، کیونکہ کھلے میں ملنا ان کے لئے آسان نہیں ہوتا ہے اور یہ بھی کہ’ چوتھی دنیا‘ سابق فوجی سربراہ وی کے سنگھ کا بہت بڑا حامی ہے۔ نیچے پوری اسٹوری شائع کی جا رہی ہے جو انڈین ایکسپریس نے شائع کی ہے:
سیکریٹ لوکیشنز

اگر ہم اس اخبار (انڈین ایکسپریس ) کے دفتر میں آنے والے لوگوں کے پروفائل کے بارے میں لکھنا شروع کریں تو انہیں خود پر شرمندہ ہونا پڑے گا۔کیا کبھی کسی نے یہ اسٹوری کی ہے کہ شیکھر گپتا کے دفتر (انڈین ایکسپریس بلڈنگ) میں ان سے ملنے کون آتا ہے؟ کیا اسے جرأت مندانہ صحافت کہا جائے گا؟ چوتھی دنیا کا یہ اسٹائل نہیں ہے کہ وہ صحافیوں اورایڈیٹروں کے ڈرائنگ روم کی باتوں کو شائع کرے۔’ چوتھی دنیا ‘نے ہمیشہ عوام پر مرکوز صحافت کی ہے، عام آدمی کی آواز اٹھائی ہے۔ ہم نے کئی گھوٹالوں کا پردہ فاش کیا ہے۔ ہمیں کئی دھمکیاں اور قانونی نوٹس ملے ہیں۔ ہم نے کبھی بھی اس وجہ سے قومی مفاد سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ لیکن کیا شیکھر گپتا بھی ایسا دعویٰ کر سکتے ہیں؟ ہم اس طرح کا دبائوبرداشت کر سکتے ہیں، کیونکہ ہم کسی پنجابی، سندھی یا سائوتھ انڈین لابی کی نمائندگی نہیں کرتے۔ مالچا شاہراہ جیسی جگہوں پر ہمارا کوئی گھر نہیں ہے۔

’’مزیدار بات ہے کہ شفافیت کے دو خود ساخت ترجمان، جنرل وی کے سنگھ اور انا ہزارے ایسا لگتا ہے کہ ہمیشہ خفیہ طریقے سے ملتے ہیں۔ اس قسم کی پہلی طے شدہ ملاقات ٹیم کجریوال سے (انا) ہزارے کی تلخ علاحدگی کے بعد 19 ستمبر کی دیر رات میں ہوئی۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ اس وقت رام دیو اور (وی کے) سنگھ سے (انا) ہزارے کی ملاقات جنوبی دہلی میں واقع رام دیو کے ایک شاگرد کے گھر پر ہوئی تھی۔ میڈیا میں خود کو ہمیشہ بنائے رکھنے والے کارکن کو، اس رات تیز چمکدار روشنی سے کافی پریشانی محسوس ہو رہی تھی۔ ہزارے اور سنگھ کے درمیان ایسی ہی دوسری خفیہ میٹنگ، گولف لنک پر 6 دسمبر کو، ایک ہندی صحافی کے توسط سے ہوئی، جو سابق (آرمی) چیف کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ ان دونوں نے بغیر کسی تیسرے شخص کی موجودگی کے، ایک دوسرے کے ساتھ 20 منٹ گزارے۔ اتفاق کی بات ہے کہ جس جگہ ان کی یہ میٹنگ ہوئی یعنی 102 گولف لنکس کی کسی ایک منزل پر، اسے ہندی کے اخبار، چوتھی دنیا نے کرایے پر لے رکھا ہے۔ یہ اخبار سابق آرمی چیف کی حد سے زیادہ حمایت کرتا رہا ہے۔‘‘
انڈین ایکسپریس کی یہ اسٹوری بہت ساری غلطیوں سے بھری پڑی ہے اور حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ یہ اسٹوری آدھی ادھوری اطلاعات پر مبنی ہے اور کہیں سے ترغیب شدہ لگتی ہے۔یہ اسٹوری تردد سے متاثر ہے۔سب سے پہلی بات تو یہ کہ یہ اسٹوری واقعہ کے بارے میں یقینی نہیں ہے۔ نہ تو رپورٹر اور نہ ہی سب ایڈیٹر ، جس نے یہ اسٹوری لکھی ، موقعہ واردات پر موجود تھا۔ دونوں میٹنگوں کے لئے اسٹوری میں ایسے الفاظ جیسے’ظاہر ہوتا ہے‘، ’ایسا لگتا ہے‘ کا استعمال کیا گیا ہے، جبکہ پہلی میٹنگ کی خبر میڈیا میں خاصی چھائی ہوئی تھی۔ انڈین ایکسپریس کے ایڈیٹر شیکھر گپتا کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ میٹنگ 20منٹ نہیں بلکہ 2گھنٹے سے زیادہ دیر تک چلی تھی۔ اس رپورٹ سے واضح ہے کہ انڈین ایکسپریس کو اس واقعہ کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں تھا اور نہ ہی اس نے ٹی وی رپورٹس تک کو دیکھنے کی زحمت گوارا کی۔پھر انڈین ایکسپریس نے ایسی خبر کیوں چھاپی؟ سب سے بڑی غلطی یہ بتانا تھا کہ دونوں میٹنگیں ایک ہی جگہ پر ہوئیں۔ اس رپورٹ کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ رپورٹر نے آپ کے ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ کو فون کر کے پوچھا تھا، انھوں نے رپورٹر کو بتایا کہ وہ لوگ میرے گیسٹ تھے اور وہ فلیٹ’ چوتھی دنیا‘ نے کرایے پر لیا ہوا ہے۔ اس مسئلہ کو وہیں ختم ہو جانا چاہئے تھا، لیکن انڈین ایکسپریس نے اسے شائع کرنے کا فیصلہ کیا اور اس طرح سے شائع کیا کہ گویا وہاں کوئی سازش رچی جا رہی ہو۔
یہ اسٹوری نہ صرف غلطیوں سے بھری ہوئی ہے بلکہ اس کا مقصد ’چوتھی دنیا‘ اور سنتوش بھارتیہ کی عزت پر حملہ کرنا بھی تھا۔ایسا لگتا ہے کہ شیکھر گپتا حقیقت سے کوسوں دور رہنے والے انسان ہیں۔وہ کبھی بھی ہمارے اخبار کی جنرل وی کے سنگھ کے ساتھ نزدیکی کو ظاہر کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے ،لیکن شیکھر گپتا کو یہ جاننا چاہئے کہ نہ توانا ہزارے اور نہ ہی وی کے سنگھ کوئی آرمس ڈیلر ہیں اور نہ کوئی لابسٹ ہیں۔ اصل میں کسی بھی ہندوستانی کے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ انا ہزارے یا وی کے سنگھ اس کے مہمان بنیں۔ آج ہندوستان میں جس طرح سے بدعنوانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے ، کوئی بھی آدمی جو اپنے ملک سے محبت کرتا ہے ، وہ بابا رام دیو، انا ہزارے یا وی کے سنگھ سے ملنا پسند کرے گا اور ان کے ساتھ مل کر بدعنوانی کے خلاف لڑنا چاہے گا۔ہندوستان کے لوگ ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ متحد ہو کر، ان کے ساتھ مل کر، میٹنگیں کر کے بدعنوانی کے خلاف کھڑے ہونا چاہتے ہیں اور یہ توقع کرتے ہیں کہ اس سے کچھ اچھا نتیجہ اخذ ہوگا۔ صرف وہی لوگ انہیں ایک ساتھ نہیں دیکھنا چاہتے جو اس بدعنوان نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ لیکن ایک اخبار دوسرے اخبار کے دفتر میں آنے والے مہمان کے بارے میں کوئی اسٹوری کیوں شائع کرے گا؟
اگر ہم اس اخبار (انڈین ایکسپریس ) کے دفتر میں آنے والے لوگوں کے پروفائل کے بارے میں لکھنا شروع کریں تو انہیں خود پر شرمندہ ہونا پڑے گا۔کیا کبھی کسی نے یہ اسٹوری کی ہے کہ شیکھر گپتا کے دفتر (انڈین ایکسپریس بلڈنگ) میں ان سے ملنے کون آتا ہے؟ کیا اسے جرأت مندانہ صحافت کہا جائے گا؟ چوتھی دنیا کا یہ اسٹائل نہیں ہے کہ وہ صحافیوں اورایڈیٹروں کے ڈرائنگ روم کی باتوں کو شائع کرے۔’ چوتھی دنیا ‘نے ہمیشہ عوام پر مرکوز صحافت کی ہے، عام آدمی کی آواز اٹھائی ہے۔ ہم نے کئی گھوٹالوں کا پردہ فاش کیا ہے۔ ہمیں کئی دھمکیاں اور قانونی نوٹس ملے ہیں۔ ہم نے کبھی بھی اس وجہ سے قومی مفاد سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ لیکن کیا شیکھر گپتا بھی ایسا دعویٰ کر سکتے ہیں؟ ہم اس طرح کا دبائوبرداشت کر سکتے ہیں، کیونکہ ہم کسی پنجابی، سندھی یا سائوتھ انڈین لابی کی نمائندگی نہیں کرتے۔ مالچا شاہراہ جیسی جگہوں پر ہمارا کوئی گھر نہیں ہے۔ ہم کسی صنعتی گھرانے کے قریبی نہیں ہیں، جو ہمیں ممبئی میں گھر دیدے اور نہ پارک لین لندن یا اسپین میں ہمارے پاس کوئی جائداد ہے۔ نہ ہی ہمارا سینک فارم علاقہ میں کوئی فارم ہائوس ہے۔ ہم نہ تو کبھی بڑے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہ کوئی ٹیلی ویژن چینل ہماری برانڈنگ مفت میں کرتا ہے۔
آخر شیکھر گپتا نے یہ اسٹوری کیوں شائع کی؟ لوگ انہیں بدعنوانی کے خلاف لڑ رہے لوگوں کی مخالفت کرنے والے شخص کے طور پر جانتے ہیں۔ انہیں انا ہزارے، بابا رام دیو یا اروند کجریوال پسند نہیں ہیں۔ انٹرنیٹ پر ایسی کئی خبریں اور ایسے کئی مضمون ہیں، جو انڈین ایکسپریس میں کام کرنے والے صحافیوں کے لئے شرمندگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کے کردار پر پریتم سین گپتا لکھتے ہیں کہ نئی دہلی میں جب پانچ اپریل کو انا ہزارے جن لوک پال قانون کے لئے انشن پر بیٹھے، تبھی سے انڈین ایکسپریس نے 6سے 21اپریل کے درمیان تقریباً 21ایسی رپورٹیں، سات اداریے، 15 اوپینین آرٹیکل، تین کارٹون اور ایک خاکہ شائع کیا، جس سے یہ واضح ہورہا تھا کہ کس طرح کی بحث اور کس کے حق میں چلائی جا رہی ہے۔ صاف تھا کہ یہ سب کچھ قارئین اور سڑک پر اترے لوگوں کے جذبات کے خلاف اور سیاستدانوں ، تاجروں اور نوکر شاہوں کے مفاد میں تھا۔ صرف ایک بار لیٹر والے کالم میں ایک خط شائع ہوا تھا، وہ بھی انڈین ایکسپریس کے ایک سابق اسٹاف کا ، جو تحریک کی حمایت میں تھا۔
جہاں تک جنرل وی کے سنگھ کا سوال ہے ، انڈین ایکسپریس اب اسے پرسنل میٹر کی شکل میں دیکھ رہا ہے۔ یہ بات بھی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ انڈین ایکسپریس نے کیسے جنرل وی کے سنگھ کے خلاف ایک مہم چلارکھی ہے۔ جنرل وی کے سنگھ کو بدنام کرنے کے لئے اس نے ایسی خبر بھی شائع کی، جس میں فوج کے ذریعہ دہلی کی طرف مارچ کرنے کی بات کی تھی، تاکہ اس سے فوج اور وی کے سنگھ کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائیں۔ حکومت اور دفاعی ماہرین نے فوراً اس کی تردید کی۔ اس واقعہ سے انڈین ایکسپریس اور اس کے ایڈیٹر شیکھر گپتا کی معتبریت اور ساکھ پر بھی بٹا لگا۔ لیکن شیکھر گپتا کو اپنی عزت کی اتنی فکر تھی کہ انھوں نے’ آئوٹ لک‘ گروپ کے ایڈیٹوریل چیئر مین ونود مہتا، اوپن میگزین کے ایڈیٹر اور نامہ نگاروں کے نام قانونی نوٹس بھیج کر 500 کروڑ روپے ہرجانہ کا مطالبہ کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ونود مہتا کا جو انٹرویو شائع ہوا ہے، اس سے میری ہتک عزت ہوتی ہے، اس لئے اسے میگزین کی ویب سائٹ سے ہٹایا جائے، معافی مانگی جائے اور ہرجانہ دیا جائے ۔ کوئی بھی یہ امید کرے گا کہ اس واقعہ کے بعد یہ اخبار (انڈین ایکسپریس ) مستقبل میں کوئی بھی اہم اسٹوری کرتے وقت محتاط ہو کر غوروفکر کرے گا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگ کبھی بھی اپنی غلطی سے سبق نہیں لیتے یا نہیں لینا چاہتے۔ بہت سارے سینئر صحافی شیکھر گپتا کے ذریعہ اٹھائے گئے قدم سے حیران تھے۔غائبانہ طور پر لوگ کہنے لگے تھے کہ شیکھر گپتا کی صحافت کا معیار ونود مہتا کے پیروں کے برابر پہنچ گیا ہے۔
شیکھر گپتا کے ذریعہ ونود مہتا کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کرنا ہندوستانی صحافت کا سیاہ باب ہی مانا جائے گا۔ اگر انہیں یہ لگا کہ ونود مہتا نے جو کہا ہے، وہ غلط ہے ، تو انہیں اپنے الفاظ ، قلم کے ذریعہ جواب دینا چاہئے تھا۔ اخبار کے ذریعہ عوام کی عدالت میں یہ بحث ہونی چاہئے تھی۔ اس کے لئے عدالت کی ضرورت کہاں تھی؟ ایک صحافی کو اپنے الفاظ کی طاقت پہچاننی چاہئے۔ اس سے بڑھ کر صحافت کی خدمت اور کیا ہوتی،جبکہ شیکھر گپتا اپنے مضامین کے ذریعہ ونود مہتا کو جواب دیتے ۔ لیکن انھوں نے لیفٹیننٹ تیجندر سنگھ کی طرح کام کیا، جنھوں نے آرمی چیف کو 14کروڑ روپے بطور رشوت دینے کی پیشکش کرنے کے الزام میں اپنے خلاف سی بی آئی کے ذریعہ کیس درج کئے جانے کے جواب میں آرمی چیف کے خلاف ہی ہتک عزت کا مقدمہ درج کرا دیا تھا۔
میڈیا کروکس ڈاٹ کام پر روینار نے شیکھر گپتا کے بارے میں ایک مضمون لکھا ہے (شیکھر گپتا لیز این ایگ)، جس میں کہا گیا ہے کہ پریسیڈنٹ ٹرومین سے تنازعہ کے بعد بھی جنرل مک آرتھر ہمیشہ ایک مقبول جنرل رہے۔ حکومت کویہ محسوس ہو گیا تھا کہ وی کے سنگھ کے ساتھ کچھ کرنے کے لئے اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے

کیونکہ بدعنوانی کے خلاف لڑنے کے سبب ان کی مقبولیت کافی بڑھ بھی گئی تھی۔ اگر حکومت چاہتی تو جنرل وی کے سنگھ کو ہٹا سکتی تھی، لیکن وہ ایسا کرنے کی کوشش بھی نہیں کر سکی۔ اس کی جگہ جنرل سنگھ پر حکومت اور قوم مخالف میڈیا نے کیچڑ اچھالنی شروع کی۔ شیکھر گپتا کی فیلڈ کوپ والی اسٹوری اسی کا ایک حصہ تھی۔ سنڈے گارڈین میں بھی یہ رپورٹ شائع ہوئی کہ اس پورے کوپ (فیلڈ کوپ والی اسٹوری ) کا محرک ایک سینئر وزیر تھا۔ تب شیکھر گپتا نے سنڈے گارڈین کے خلاف کیس کیوں نہیں کیا، کیوں قانونی نوٹس نہیں بھیجے۔
رام ناتھ گوینکا کا انڈین ایکسپریس کبھی اخباروں، ایڈیٹروں اور رپورٹروں کے لئے باعث تقلید ہوا کرتا تھا۔ رام گوینکا اپنی بے خوف صحافت کے لئے جانے جاتے تھے۔ انھوں نے ایمر جنسی کے دور میں بھی تانا شاہ حکومت کی مخالفت کی، سوال اٹھائے۔ اس اخبار نے کبھی عام آدمی کا کارپوریٹس کے ذریعہ استحصال کے خلاف آواز اٹھانے کا کام کیا تھا۔ رام ناتھ گوینکا نے کبھی جے پرکاش نارائن کے مکمل انقلاب کی حمایت کی تھی، انہیں تعاون کیا تھا، اس بات سے بے خوف ہو کر کہ ان کا اخبار بند ہو سکتا ہے، لیکن اب رام ناتھ گوینکا کا یہی اخبار اپنی چال، کرداراور چہرہ بدل چکا ہے۔ یہ انا ہزارے اور وی کے سنگھ کے ذریعہ چلائی جا رہی عوامی تحریک اور بدعنوانی مخالفت تحریک کی مخالفت کر رہا ہے۔
بہت سارے لوگ یہ مانتے ہیں کہ انڈین ایکسپریس کی حکومت اور حکومت تک پہنچ رکھنے والے ہندوستانی اور امریکی تھنک ٹینکس کے ساتھ ساز باز ہے۔ ایسا ماننے کے پیچھے کئی وجوہات بھی ہیں۔ ہند-امریکہ نیوکلیئر بل، مائونوازوں کے خلاف فوج کے استعمال پر اور عوامی تحریکوں کے خلاف اس اخبار کے رخ کو دیکھتے ہوئے ایسا ماننے میں کچھ غلط بھی نہیں ہے۔ اسے ستم ظریفی ہی کہیں کہ کبھی کاروباری گھرانے کی مخالفت کرنے والے اخبار کا کردار آج بدل کر ایسا ہو گیا ہے کہ کوئی بزنس ہائوس آسانی سے اپنی خبر، اپنے خیالات اس پر تھوپ دیتا ہے اور جیسی چاہے، ویسی اسٹوری شائع کرا لیتا ہے۔ راڈیا ٹیپ معاملہ کے بعد سب سے پہلے رتن ٹاٹا کا انٹرویو شیکھر نے ہی این ڈی ٹی وی کے پروگرام’ واک دی ٹاک‘ میں لیا تھا۔ یا پھر یہی اخبار کیسے وہ پاور لسٹ تیار کر لیتا ہے، جس کے بنانے کے طریقوں اور جیوری کے بارے میں کسی کو بتایا تک نہیں جاتا۔ جو لوگ دہلی میں چلنے والے پاور گیم سے واقف ہیں، انہیں اس بات پرکوئی تعجب نہیں کہ کیسے شیکھر گپتا کو یو پی اے حکومت کی طرف سے 2009میں ملک کا تیسرا سب سے بڑا اعزاز پدم بھوشن مل گیا۔ اب یہاں سوال اٹھتا ہے کہ کیا انڈین ایکسپریس بدعنوانی مخالف تحریک چلانے والے لوگوں کے خلاف غلط تشہیر کرنے والی طاقتوں کا کھلونا بن کر رہ گیا ہے۔

انڈین ایکسپریس نے اوپن میگزین اور ونود مہتا پر پانچ سو کروڑ کا دعویٰ کیا
انڈین ایکسپریس نے انگریزی ہفتہ وار جریدہ اوپن اور آؤٹ لک میگزین کے ایڈیٹوریل چیئرمین ونود مہتا کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ انڈین ایکسپریس نے دونوں پر اخبار، اخبار کے ایڈیٹر اِن چیف اور اخبار کے تین صحافیوں کی ہتک عزت کا الزام لگایا ہے۔ نوٹس میں 500 کروڑ روپے کے ہرجانے کی مانگ کی گئی ہے۔ ونود مہتا نے اوپن میگزین کو ایک انٹرویو دیا تھا، جس میں انہوں نے انڈین ایکسپریس میں آرمی کے دہلی کی طرف خاموشی کے ساتھ مارچ کرنے سے متعلق شائع ہونے والی خبر کی مذمت کی تھی۔ مہتا نے بالواسطہ طور پر خبر کے ذرائع کو شرارتی عناصر اور خبر کو شائع کرنے کے فیصلہ کو بہت بڑی بھول بتایا تھا۔ نوٹس پڑھ کر مہتا نے کہا کہ اس طرح کے تنازعہ کا نپٹارہ عدالت کی بجائے بحث سے بہتر ہوتا۔ انڈین ایکسپریس کے پاس نوٹس بھیجنے کا اختیار ہے، لیکن میں امید کر رہا تھا کہ اس قسم کے مسئلہ کا نپٹارہ کورٹ کی بجائے بحث سے ہونا چاہیے۔ خیر، مجھے قانونی نوٹس سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔
قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اوپن میگزین میں شائع خبر، جس کی سرخی ’مدر آف آل مسٹیکس (سبھی غلطیوں کی ماں) ہے، ونود مہتا کے ساتھ انٹرویو کی شکل میں شائع کی گئی ہے۔ اس انٹرویو کو انڈین ایکسپریس کی شبیہ کو خراب کرنے کے مقصد سے شائع کیا گیا تھا۔ نوٹس میں معافی نامہ چھاپنے کے علاوہ انڈین ایکسپریس، شیکھر گپتا اور دیگر تین صحافیوں کے کھاتے میں چوبیس گھنٹے کے اندر 100-100 کروڑ روپے جمع کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ اخبار اب بھی اپنی خبر کے دفاع میں کھڑا ہے اور اس نے زور دے کر یہ بات کہی ہے کہ اس خبر میں کہیں بھی تختہ پلٹ کی بات نہیں کہی گئی تھی۔ سرکار بھی اس خبر کو بے بنیاد قراد دے چکی تھی۔ قانونی نوٹس میں ونود مہتا کے انٹرویو کے اقتباس کا حوالہ دیا گیا ہے اور اسے اخبار اور اس کے ایڈیٹر کے خلاف سیدھا حملہ بتایا گیا ہے۔ نوٹس میں ونود مہتا کی اس بات کو نقل کیا گیا ہے کہ ’’اخباروں کو گمراہ کرنا شرارتی عناصر کا کام ہے، لیکن ایڈیٹروں کا کام ہے کہ وہ غلطیوں کو پکڑیں اور اسے ہٹا دیں۔‘‘
بحوالہ: ڈیلی میل

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *