سامنے آیا انڈین ایئر فورس کے سرجیکل اسٹرائک کا گواہ، 35 لاشیں دیکھنے کا دعویٰ

Share Article

jaba

پلوامہ دہشت گردانہ حملے کا بدلہ لیتے ہوئیہندوستانی فضائیہ نے 26 فروری کی صبح کو پاکستان کے بالاکوٹ میں جیش محمد کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا تھا۔ فضائیہ کی اس کارروائی کے بعد کئی بین الاقوامی میڈیا نقصان کے دعوؤں پر سوال کھڑے کئے ہے۔ کہا جا رہا تھا کہ انڈین ایئر فورس اپنے نشانے سے چوک گیا جس وجہ سے ان کا پورا آپریشن ناکام رہا تھا۔

اب اس معاملے میں ایک فرانسیسی صحافی نے بڑا انکشاف کیا ہے۔صحافی کا دعویٰ ہے کہ اس نے کئی ایسے لوگوں سے بات کی ہے جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے ہندوستانی حملے میں قریب 35 جیش محمد کے دہشت گرد مارے گئے تھے۔ اتنا ہی نہیں اس حملے میں آئی ایس آئی کے کچھ سابق حکام کی بھی موت ہوئی ہے۔

jaba-1
ذرائع کا دعوی ہے کہ ایک چشم دیدنے اس بات کی تصدیق کی ہے ہندوستانی فضائیہ کے حملے کے فوراً بعد موقع سے کئی لاشوں کو ایمبولینس میں بھر کر لے جائے گیا تھا۔ مرنے والوں میں 12 جیش محمد کے دہشت گرد تھے جو ایک کمرے میں سو رہے تھے اور سبھی اسٹرائک کی چپیٹ میں آ گئے۔حملے کی خبر ملتے ہی پاکستانی آرمی کے کئی افسران موقع پر موجود تھے اور فوری طور پر تمام لاشوں کو ہٹا دیا گیا۔ فورا وہاں سے ملبوں کو بھی ٹرک میں بھر کر ہٹا دیا گیا تھا۔

چشم دید کے مطابق، ’حملے کی خبر آگ کی طرح پھیلگئی تھی، جس کے بعد پاک آرمی کے لوگ وہاں پہنچے تھے۔ سب سے پہلے حملے والی جگہ کو سیل کیا گیا اور کسی کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ وہاں موجود تمام لوگوں کے موبائل چھین لئے گئے تھے ‘۔

pulwama
ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مرنے والے لوگوں میں آئی ایس آئی کے ایک افسر کرنل سلیم کی بھی موت ہوئی ہے۔ جبکہ اس حملے کرنل جرار ذکیر شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ پشاور کے رہنے والے اور جیش محمد کے مفتی معین جو ٹریننگ کیمپ میں ٹیچر تھا اس کی بھی موت ہو گئی ہے۔ مرنے والوں میں دھماکہ خیز مواد ایکسپرٹ کے طور پر مشہور عثمان غنی کی بھی موت ہو گئی ہے۔

حملے کے وقت سبھی جیش محمد کے ٹریننگ لینے والے ہی لوگ موجود تھے، جنہیں مختلف علاقوں سے بھرتی کر کے جہاد کی ٹریننگ دی جا رہی تھی۔

balakot-7
بین الاقوامی تھنک ٹینک اور دوسری ایجنسیاں سیٹلائٹتصویروں کی بنیاد پر دعوے کر رہی ہیں کہ بم تو گرائے گئے ہیں، لیکن اس سے کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔مشہور خبر ایجنسی ’رائٹر‘ اور خلیج کے چینل ’الجزیرہ‘کے نامہ نگاروں نے جائے حادثہ تک جا کر جو دیکھا، اس کے مطابق بالاکوٹ کی جابا پہاڑی پر چار بم تو گرے، لیکن ان بموں سے جان ومال کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔’الجزیرہ‘ کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پہاڑی پر بنی جس عمارت کو جیش محمد کا دہشت گرد کیمپ بتایا جاتا ہے، وہ وہاں جوں کے توں کھڑی ہے اور بم اس سے کافی دور خالی زمین پر گرے ہیں۔

(Photo Source- Reuters)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *