اگر جنگل میں بم گراتے تو پاکستان جوابی حملہ کیوں کرتا، کتنے مرے یہ گننا ہمارا کام نہیں: فضائیہ سربراہ

Share Article

indian-air-force-chief

نئی دہلی: پاکستان کے بالاکوٹ میں دہشت گردانہ ٹھکانوں پر کی گئی ایئر اسٹرائک کے بعد پہلی مرتبہ فضائیہ کے سربراہ بی ایس دھنوا نے میڈیا سے بات کی۔ اس دوران انہوں نے کئی سوالات کا جواب دیتے ہوا کہا کہ ابھی آپریشن ختم نہیں ہوا ہے۔ایئر اسٹرائک پر سوال اٹھانے والوں کو جواب دیتے ہوئے فضائیہ کے سربراہ نے کہا، ’ہمارا آپریشن ابھی ختم نہیں ہوا، ہم نے ایئر اسٹرائک میں ہدف کو نشانہ لگایا۔ بالاکوٹ فضائی حملے میں ہلاک ہوئے دہشت گردوں کی تعداد کی معلومات حکومت دے گی۔‘

ہدف کے بارے میں سیکرٹری خارجہ نے اپنے بیان میں تفصیل سے بتایا تھا…… اگر ہم کسی ہدف پر نشانہ لگانے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، تو ہم اسے نشانہ بناتے ہیں، ورنہ کیوں انہوں نے (پاکستان کے وزیر اعظم نے) جواب دیا ہوتا……اگر ہم نے جنگل میں بم گرائے ہوتے ، تو وہ کیوں جواب دیتے …..؟‘

کتنے دہشت گرد ہلاک ہوئے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاشیں گننا ہمارا کام نہیں ہے، ہمیں جو کرنا تھا وہ ہم نے کامیابی کے ساتھ کیا۔ پاکستان کے ایف 16 کو گرانے والے مگ 21 کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایف 16 جنگی طیارے کا مقابلہ کرنے کے لئے استعمال کیاگیا مگ 21 جدید ہتھیار سے لیس اعلی درجہ کا طیارہ تھا اور ہوا سے ہوا میں مارکرنے والی میزائل اور بہتر ہتھیار سسٹم ہے۔ائیرچیف مارشل نے یہ بھی کہا کہ ابھی بھی ہمارا آپریشن جاری ہے، اس لئے زیادہ جانکاری سبھی کے سامنے نہیں بتا سکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *