ہندوستان نے ڈونالڈ ٹرمپ کے کشمیر ثالثی سے متعلق بیان کو کیا مسترد

Share Article
India rejects Donald Trump’s claim of PM Modi seeking help on Kashmir

 

نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کو مسترد کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ کشمیر مسئلہ کے حل کے لئے ثالثی کریں۔ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ پیر کو وائٹ ہاؤس میں بات چیت کے دوران میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے یہ متنازعہ بیان دیا تھا۔

Image result for India rejects Donald Trump's statement regarding Kashmir arbitration

ٹرمپ کے مطابق گذشتہ 28 جون کو اوساکا (جاپان) میں ملاقات کے دوران نریندر مودی کی جانب سے ثالثی کا یہ درخواست کی گئی تھی۔اس بیان کے بعد سفارتی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی اور پیر آدھی رات کوہندوستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے وضاحت جاری کیا گیا۔

Image result for India rejects Donald Trump's statement regarding Kashmir arbitration

وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے جاری بیان میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر میں ثالثی کے لئے صدر ٹرمپ سے کوئی درخواست نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ہندوستان کی ہمیشہ سے یہ واضح پالیسی رہی ہے کہ تمام مسائل کا حل دو فریقی بنیاد پر کیا جانا چاہئے۔

Image result for India rejects Donald Trump's statement regarding Kashmir arbitration

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا’ہماری توجہ امریکی صدر کے اس بیان کی طرفمبذول کرائی گئی کہ اگر ہندوستان اور پاکستان درخواست کرے تو وہ کشمیر مسئلے پر ثالثی کیلئے تیار ہیں۔ ایسی کوئی درخواست وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ نہیں کی۔ہندوستان کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہسبھی مسائل پر دو طرفہ بات چیت ہو سکتی ہے۔

 

ترجمان نے کہا’پاکستان کے ساتھ کسی قسم کے رابطے کے لئے ضروری ہے کہ سرحد پار دہشت گردی ختم ہو، شملہ معاہدہ اور لاہور منشور سبھی معاملات کا دوطرفہحل کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ڈونالڈ ٹرمپ نے عمران خان کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس میں دیے گئے اپنے متنازعہ بیان میں کہا’دو ہفتے پہلے میں اور مودی کے ساتھ تھے اور ہم نے اس مسئلے پر بات چیت کی تھی۔ مودی نے مجھ سے کہا کہ کیا آپ ثالثی نا پسند کریں گے۔ میں نے پوچھا، کہاں؟ مودی نے کہا، کشمیر. ۔یہ مسئلہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ یہ مسئلہ اتنے زیادہ وقت سے چل رہا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان پر عمران نے تبصرہ کیا کہ یہ مسئلہ 70 سالوں سے چل رہا ہے۔

 

ٹرمپ نے آگے کہا’مجھے لگتا ہے کہ وہ (مودی) اس مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ آپ (عمران خان) بھی اس کا حل چاہتے ہیں۔ اگر میری مدد معاون ہوتی ہے تو میں ثالث بننے کے لئے تیار ہوں۔ اس بات پر یقین مشکل ہے کہ دو حیرت انگیز ملک اور ان کی ہوشیار قیادت اس مسئلہ کو حل نہیں کر پائی۔ اگر آپ مجھ سے ثالث بننے کی اپیل کرتے ہیں تو میں اس کے لئے تیار ہوں۔‘

 

عمران خان ٹرمپ کے اس بیان سے کافی خوش ہو گئے اور انہوں نے کہا’صدر صاحب، میں آپ سے ابھی اور یہیں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ ایک ارب لوگوں کی دعائیں ہیں۔ آپ اس معاملے پر ثالثی کریں اور مسئلہ حل ہو‘۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *