کھیل کے میدان پر سیاست کی گنجائش نہیں! آرمی کیپ پہننے پر پاکستان نے آئی سی سی کی کارروائی کی مانگ

Share Article

india-tem

کراچی: پاکستان نے ٹیم انڈیا کے ذریعہ ہندوستانی آرمی کیپ پہن کر کرکٹ میچ کھیلنے کے خلاف ICC آئی سی سی سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے ہندوستانی کرکٹروں کے آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ون ڈے کے دوران فوج کی خصوصی کیپ پہننے کے لئے آئی سی سی سے کارروائی کا مطالبہ کیااور وراٹ کوہلی کی ٹیم پر کھیل میں سیاست کرنے کا الزام لگایا۔

پلوامہ دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوئے سی آر پی ایف جوانوں کے احترام کا اظہار کرنے کے لیے ہندوستانی کرکٹروں نے جمعہ کو آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ون ڈے میں فوج کی خصوصی کیپ پہنی اور اپنی میچ فیس قومی دفاع فنڈ میں دی۔پلوامہ میں 14 فروری کو ہوئے دہشت گردانہ حملے میں سی آر پی ایف کے کم از کم 40 جوان شہید ہو گئے تھے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کو اس کے بارے میں کچھ کرنا چاہئے۔

آرمی کیپ پہن ٹیم انڈیا کر رہی ہے سیاست

پاکستانی میڈیا کے حوالے سے قریشی نے کہا، ’ دنیا نے دیکھا کہ بھارتی ٹیم نے اپنی کھیل والی ٹوپی کے بجائے فوج کی خصوصیکیپ پہنی،کیا آئی سی سی نے اسے نہیں دیکھا؟ ہمیں لگتا ہے کہ یہ آئی سی سی کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے اس کا دھیان متوجہ کرائے جانے کے بجائے خود اس کا نوٹس لیں۔‘ بھارتی ٹیم اس میچ میں 32 رنز سے ہار گئی تھی لیکن پھر بھی پانچ میچوں کی سیریز میں 2۔1 سے آگے ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بھی قریشی کی بات کی حمایت کرتے ہوئے ٹویٹ کیا،’یہ صرف کرکٹ نہیں ہے۔‘

پاکستانی ٹیم بھی سیاہ پٹی باندھ کر اترے گی میدان پر

انہوں نے کہا، ’’اور اگر بھارتی ٹیم کو نہیں روکا گیا تو پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بھی دنیا کو کشمیر میں ہندوستانی زیادتی کے بارے میں یاد دلانے کے لئے سیاہ پٹی پہننی چاہئے۔‘ وزیر نے ساتھ ہی درخواست کی کہ پی سی بی کو بھارت کے خلاف کھیل کے عالمی آپریشنز ادارے میں سرکاری احتجاج درج کرانا چاہئے۔ پاکستان کے سربراہ سلیکشن اور سابق کپتان انظام الحق حالانکہ اس بحث میں گرنے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے کہا، ’ دیکھئے، میں ایک کرکٹر ہوں اور میرا کام کرکٹ سے متعلق ہے۔ یہ سب سیاست ہے اور میں اس میں نہیں پڑنا چاہتا۔‘ انضمام نے کہا کہ اگرچہ کرکٹ اور سیاست کو الگ الگ رکھنا چاہئے۔ یہ پوچھنے پر کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات سے کھلاڑیوں پر دباؤ بڑھ جائے گا جب 16 جون کو ہونے والے ورلڈ کپ کے دوران دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گی۔ اس پر انہوں نے کہا، ’ مجھے نہیں لگتا کہ اس بار کچھ الگ ہو جائے گا۔‘‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *