ہند ، ایران مضبوط تلعقات: وقت کی اہم ضرورت

Share Article

ایران دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ ہندوستان کے نہایت قدیم اور قریبی تعلقات رہے ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں ایران کے ساتھ امریکہ کی بڑھتی ہوئی مخاصمت کی وجہ سے دنیا کے بعض ممالک کو نہ چاہتے ہوئے بھی امریکہ کے دباؤ میں آکر ایران سے متعلق اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنا پڑ رہا ہے۔ ہندوستان بھی انہی حالات سے گزرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اسی موضوع پر چوتھی دنیا کے خصوصی نامہ نگار قمر تبریز نے جواہرلال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی کے ہندوستانی زبانوں کے مرکز سے وابستہ ڈاکٹر خواجہ اکرام سے بات کی، جنہیں حال ہی میں ایران کی آزاد یونیورسٹی یزد میںاردو ادب میں ایران کے موضوع پر لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ انٹرویو کے چند اقتباس قارئین کے لیے پیش کیے جاتے ہیں:
ایران کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ اس کے نہایت قدیم رشتے رہے ہیں اور دونوں ممالک کی تہذیب و ثقافت بھی کافی حد تک ملتی جلتی ہے کیوں کہ ہندوستان کے زیادہ تر مسلم حکمراں جب ہندوستان آئے تو وہ اپنے ساتھ ایرانی تہذیب و تمدن کو بھی لے کر یہاں آئے۔ اس کے علاوہ ایران ناوابستہ تحریک (نام) کا بھی ایک حصہ رہا ہے۔ ہندوستان کے بارے میں ایرانیوں کی عام رائے کیا ہے؟ آپ نے کیا محسوس کیا؟
ایران میں ایک ہفتے کے قیام کے دوران مختلف شہروں کو دیکھنے کا موقع ملا اور کئی طرح کے لوگوں سے رابطہ ہوا۔ لیکن مجموعی طور پر میں نے یہ محسوس کیاکہ واقعی ایرانی لوگ ہندوستان سےبڑی  انسیت رکھتے ہیں۔ ہر شخص ایک بار ضرور ہندوستان دیکھنے کی تمنا بھی رکھتا ہے ۔ میں نے کئی لوگوں سے یہ دریافت کرنے کی کوشش کی کہ ہندوستان کے تئیں انسیت کی وجہ کیا ہے ؟ الگ الگ لوگوں سے الگ الگ جوابات ملے۔ لیکن اس کی ایک بڑی وجہ جو ان کی گفتگو سے  میں نے اخذ کی وہ یہ ہےکہ ہندوستان میں چونکہ ان کے آباء واجداد نے حکومت کی تھی اور ہندوستان سے خود ایران نے برسوں سے اقتصادی اور سماجی سطح پر استفادہ کیا ہے اور آج بھی ایران کے اقتصادی اور سماجی روابط ہندوستان سے ہیں ، اس لیے بھی  تمام ایرانی ہندوستان کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور جانتے ہیں ۔اور خاص بات یہ ہے کہ وہ ہندوستانی لوگوں سے خلوص سے ملتے ہیں ۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہندوستان ایران کا دوست ملک ہے ۔
رہی بات تہذیبی لین دین کی تو ہندوستان نے ایران سے بہت کچھ لیا ہے ۔ ایرانی تہذیب کو دیکھ کر اسی لیے اپنائیت محسوس ہوتی ہے کہ وہاں کی طرز زندگی اور خوردو نوش ہمارے لیے نئے نہیں لگتے کیونکہ یہ ہماری تہذیب میں ایرانی تہذب کے عناصر ہی ہیں ۔ایران کی  تمدنی زندگی  کے اثرات بھی ہمارے یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں ۔اس لیے ایران جاکر زبان کی سطح پر اجنبیت کا احساس ہوتا ہے لیکن باقی چیزوں میں بہت حد تک مماثلت ہے ۔
سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو، حالیہ دنوں میں حکومتِ ہند کی پالیسیوں سے ایسا لگتا ہے کہ امریکہ سے اس کی قربت بڑھی ہے جب کہ ایران سے وہ دور ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں بھی ہندوستان نے ایران کے خلاف ووٹ دیا، جو ظاہر ہے کہ امریکی دباؤ کی وجہ سے تھا۔ ایسے میں کیا ایران کے لوگ یا وہاں کے سیاست داں ہندوستان کو اب بھی اتنا ہی دوست مانتے ہیں جتنا کہ پہلے مانتے تھے؟
اس واقعے کے بعد  حکمراں طبقے میں ناراضگی ضرور ہے اور وہاں کے دانشور اور صحافی بھی اس کو غیر متوقع رویہ تصور کرتے ہیں ۔ لیکن عوام میں اس کا زیادہ اثر نہیں دکھائی دیتا ۔ لیکن دو ملکوں کے روابط کے لیے یہ بالائی طبقہ  سرخیل کی حیثیت رکھتا ہے اس لیے اس بیان کے اثرات اس سطح پر دیکھنے کو کئی بار ملے ہیں ۔ مثلاً جب ایران کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بیان آیا تو یہ درا صل اسی کا رد عمل تھا کہ اس بیان میں کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالی اور پولس کی زیادتی کا ذکر تھا۔اور دوسرا رد عمل یہ سامنے آیا ہے کہ اس نے پاکستان سے قربت بڑھانے کا اشارہ دیا ۔ لیکن ایران مجبور ہے وہ پاکستان کے ساتھ بہت زیادہ قربت نہیں بڑھا سکتا۔لیکن ان تمام تلخ و ترش  واقعات کے بعد بھی ایسا نہیں ہے کہ ایران ہندوستان کو اپنا دوست نہیں سمجھتا ۔ وہ یہ ضرور سمجھتا ہے کہ ہندوستان نے کن حالات میں ایران کے خلاف ووٹ دیا۔
آپ کی نظر میں ایران سے متعلق ہندوستانی پالیسیوں کا اس خطہ پر آنے والے دنوں میں کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
دیکھئے بات یہ ہےکہ جنوبی ایشیا میں ہندوستان ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے ، اس سے انکار ممکن نہیں ۔ لہٰذا جب بھی کسی پالیسی کی بات ہوگی تو ہندوستان کی حیثیت کو سامنے ضرور رکھا جائے گا۔ رہی بات ہندوستان کی ان پالیسیوں کی تو وہ صرف ایران کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے مفید ہیں۔
آپ کا ایران کا موجودہ سفر کس حوالے سے تھا، اس پر کچھ روشنی ڈالیں۔
‘‘اردو ادب میں ایران ’’ کے موضوع پر آزاد یونیورسٹی یزد میں لیکچر تھا۔ لیکن اس سفر میں اس کے علاوہ کئی اور بھی یونیورسٹیز کے اساتذہ سے ملاقات  بھی ہوئی ۔خاص طور پر تہران یونیورسٹی میں باضابطہ اساتذہ سے ملنے کا اہتمام کیا گیا تھا اور وہاں مرکز زبانہائے خارجی میں اردو کی تعلیم کے حوالے سے بات بھی ہوئی ۔ کچھ دنوں قبل تک وہاں اردو کا باضابطہ ایک شعبہ تھا  جو ابھی بند ہے لیکن اب نئے سرے سے شعبے کے قیام پر کار آمد گفتگو ہوئی ۔انشا ءاللہ عنقریب وہاں اردوکا شعبہ قائم ہو جائے گا۔ تہران کے دوران قیام تہران یونیورسٹی کے اردو کے طلبہ وطالبات سے ہماری ملاقات ہوئی ۔ان میں سے بیشتر  طلبہ و طالبات  ویب سائٹ کےذریعے مجھ سے رابطے میں تھے ، ان سے ملاقات کے دوران اردو زبان کے حوالے سے گفتگو ہوئی اور یہ جان کر خوشی ہوئی کہ تہران میں اردو شعبے میں سات اساتذہ ہیں اور طلبہ کی بھی بڑی تعداد ہے۔
ہندو ایران کے درمیان تہذیبی و تعلیمی لین دین کے بارے میں اس وقت کس طرح کے حالات پائے جاتے ہیں اور آپ اس لین دین کو کتنا اہم مانتے ہیں؟
تہذیبی لین دین سے زیادہ آج اقتصادی لین دین کی اہمیت ہے ۔ لیکن آپ کو حیرت ہوگی کہ اس وقت ہندوستان میں تیس ہزار طلبہ وطالبات تعلیم  کے لیے موجود ہیں ۔ یہ اعداد و شمار ایران میں واقع ہندوستانی ایمبیسی سے ملے ۔ اور ہر سال ہندستان کی جانب سے 52 اسکالر شپ بھی ان کو دیا جاتا ہے ۔ اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ تعلیم کے میدان میں ہندوستان ان کے لیے کتنا اہم ہے ۔
کیا ایران میں اردو کے حوالے سے کچھ کام ہو رہا ہے؟ اگر ہاں تو اس کی کیا اہمیت ہے؟ اور اس میں مزید کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے؟
اردو کے حوالے سے ایران میں بہت زیادہ کام تو نہیں ہورہا ہے ، زبان اور ادبیات کی تعلیم کے حوالے سے البتہ بہت سے شعبے ہیں جہاں اردو   کی تعلیم ہو رہی ہے ۔
دونوں ممالک کی حکومتوں کو آپ کچھ مشورہ دینا چاہیں گے؟
ایران اور ہندوستان کے قدیمی روابط رہے ہیں اور آج بھی دونوں دوست ممالک ہیں۔ اس رشتے کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *