ہندوستان :گزشتہ چند سالوں میں ڈپریشن کے معاملات میں اضافہ 

Share Article
depression
آج کے بھاگ دوڑبھری زندگی میں اکثر لوگ تھکے ہوئے، اداس اور مایوس نظر آتے ہیں۔بہت سے لوگ روزمرہ کے کام کرنے میں ہی تھک جاتے ہیں، کچھ بھی کرنے کا دل نہیں کرتا۔چھوٹے موٹے کام بھی تھکا دینے والے اور بورنگ لگتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے جسم میں جان ہی نہ ہو ایک بوجھ محسوس ہوتا رہتا ہے۔ویسے تو ڈپریشن میں مردوخواتین دونوں شامل ہیں۔
بتایاجاتاہے کہ ہندوستان کے لوگوں میں گزشتہ چند سالوں میں ڈپریشن کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت 6.5 فیصد ہندوستانی شہری ڈپریشن کے شکار ہیں جو دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ بنیادی وجہ صلاحیت سے زیادہ کام اور ضرورت سے زیادہ فکر کرنا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کے مطابق فکر یاتناؤ زیادہ ہونے پر انسان ڈپریشن میں چلا جاتا ہے۔ اسکے ابتدائی علامات ایسے ہوتے ہیں جو کسی کو آسانی سے پتہ نہیں چل پاتا اور لوگ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایسے میں لوگوں کو ذہنی مرض کے ماہرسے مشورہ حاصل کرنا چاہیے۔ اداس شخص ہمیشہ تھکا ہوا محسوس کرتا ہے۔ ایسی صورت میں ڈپریشن کے شکار لوگوں کو کہیں دل نہیں لگتا ۔ وہ ہمیشہ اداس رہنے لگتا ہے۔اس کا اثر نیند پر بھی پڑتا ہے۔ڈپریشن کے شکار لوگ یا تو بہت کم سوتے ہیں یا بہت زیادہ سوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے مزاج میں چڑچڑاپن آنے لگتا ہے۔ اس سے اس کے دل میں منفی خیالات آتے ہیں۔ ایسے لوگ بے وجہ غصہ کرتے ہیں۔ کبھی کبھی جارحانہ بھی ہو جاتے ہیں۔ اس میں مبتلا شخص کے فیصلے کرنے کی صلاحیت میں کمی بھی آ جاتی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *