کشمیری صحافی شجاعت بخاری سمیت امسال دنیا بھر میں 80صحافی اپنی جاں کھوبیٹھے

Share Article

shujat-bukhari

ہارون ریشی 
سرینگر: صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم ’’رپورٹرس ود آؤٹ بارڈرز‘‘ کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2018میں دنیا بھر میں 80صحافی اپنی جاں کھو بیٹھے ہیں ۔ ان میں اکثر اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے مارے گئے ہیں۔امسال مارے گئے صحافیوں میں کشمیری صحافی سید شجاعت بخاری بھی شامل ہیں۔ ’’رپورٹرس ود آؤٹ بارڈرز‘‘ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ امسال نہ صرف 80صحافی مارے گئے ہیں بلکہ 348کو جیل بھیجا گیا جبکہ60کو یرغمال بناکر رکھا گیا۔

 

 

 

قابل ذکر ہے کہ سید شجاعت بخاری کو اس سال14جون سرینگر کی پریس کالونی میں انکے آفس کے باہر گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ سید شجاعت کو جنگجوؤں نے مار دیا ۔رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز کی سالانہ رپورٹ میں شجاعت بخاری کے قتل کے بارے میں تفصیلات دی گئی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ہلاک ہونے والے صحافیوں میں سے 50 فیصد سے زائد کو جان بوجھ کر قتل کیاگیا جبکہ 31 صحافی مختلف پرتشدد واقعات کے دوران پیشہ ورانہ ذمے داریاں انجام دیتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔

 

 

ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ غیرپیشہ ورانہ یا سٹیزن جر نلسٹ اب جنگ زدہ علاقوں یا جابرانہ حکومتوں کے خلاف خبروں کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں کیونکہ ایسی جگہوں پر پیشہ ورانہ صحافیوں کے لیے کام کرنا بہت دشوار ہو گیا ہے۔چین اور ترکی بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔صحافیوں کو جیل بھیجنے میں چین اب بھی سرفہرست ہے جہاں 60 صحافیوں کو جیل کی ہوا کھانی پڑی جن میں سے 46 بلاگرز ہیں جنہیں صرف سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پوسٹ لگانے کے جرم میں جیل میں ڈال دیا گیا اور ان سے غیرانسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

 

 

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *