گزشتہ 20 سالوں میں ذہنی مریضوں کی تعداد دوگنا بڑھی

Share Article

 

۔ ایمس کے مطابق ہر سات بالغ میں ایک تنائوکا شکار
۔ ایمس نے 1990 سے لے کر 2017 تک کیا مطالعہ

ملک میں گزشتہ 20 سالوں میں ذہنی مریضوں کی تعداد دو گنا ہو گئی ہے۔ ایمس کی تحقیقی میگزین کے مطابقتنائوکے سبب لوگ ذہنی مریض بن رہے ہیں جس کے لئے قدم اٹھانا بے حد ضروری ہے۔ ملک میں بڑھ رہے ذہنی دباؤ کو لے کر پہلی باربین الا قوامی تحقیق میگزین دی لانسیٹ سائیکاٹری پر تحقیقی مقالہ شائع ہوا ہے جس میں 1990 سے لے کر 2017 تک کے ملک کے ذہنی بیماری، علاج، عمر اور اس کا اقتصادی ترقی پر اثر وغیرہ پہلوؤں پر مطالعہ کیا گیا۔ ایمس کے ذہنی بیماری کے شعبہکے پروفیسر ڈاکٹر راجیش ساگرکی قیادت میں تحقیقی مقالہ تیار کیا گیا۔ اہم یہ ہے کہ ذہنی دباؤ کے بڑھتے اعداد و شمار پر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے بھی تشویش ظاہر کی ہے، جس کا معیشت پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔

ذہنی دباؤ اور گلوبل برڈن آف ڈیزیز موضوع پر جاری رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر سات میں ایک بالغ تنائو کا شکار ہے۔ یہ ڈپریشن، سیزوفرینیا، بایوپولر ڈس آرڈر اور اڈیوپیتھک،آٹیزم، انٹیلیکچوئل ڈس ایبلٹی وغیرہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں 1.50 کروڑ لوگوں کو اس وقت ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ 40 لاکھ سے 45 لاکھ لوگ موڈ ڈس آرڈر اورتنائو کا شکار ہیں۔ 1990 سے 2017 کے درمیان تنائو کا یہ اعداد و شمار دوگنا ہو گیا ہے۔ 1990 میں 2.5 فیصد سے بڑھ کر سال 2017 میں تنائو صورت حال 4.7 فیصد ہو گئی ہے۔ ایمس کے ذہنی بیماری کے شعبہ کے پروفیسر اور محقق ڈاکٹر راجیش ساگر نے بتایا کہ ذہنی دباؤ کا بیماریوں کے عالمی بوجھ میں خاصی حصہ داری ہے۔ گزشتہ 27 سال کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ متعدی بیماری سے کہیں زیادہ تیزی سے ذہنی بیماری کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی انسٹی ٹیوٹ ریسرچ کونسل کے ڈائریکٹر اور صحت تحقیقی محکمہ حکومت ہندکے سیکریٹری ڈاکٹر بلرام بھارگو نے بتایا کہ ریاستی سطح کے تنائوکے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوبی ریاستوں میں بالغ تیزی سیتنائو کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ شمالی ہند میں بچوں میں تنائومزید تنائو دیکھا گیا۔ اعداد و شمار کی بنیاد پر ریاستوں میں ذہنی صحت کے موضوع پر کام کئے جانے پر زور دیا جائے گا۔ تقریباً دو دہائی کے مطالعہ اور 16000 لوگوں کے جائزے کے بعد اعداد و شمار کو اشاعت کے لئے بھیجا گیا۔ تمام طرح کی ذہنی بیماری میں تنائو کا فیصد 33.8 دیکھا گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *