پانچ ریاستوں میں بی جے پی کے لیے بری خبرلے کر آئے اسمبلی انتخابات

Share Article
modi
narendra modi and amit shah

پانچ ریاستوں میں انتخابات کے رجحانوں سے صاف ہوگیا کہ بی جے پی کسی بھی ریاست میں سرکار بناتے ہوئے نہیں دکھ رہی ہے۔ یہ نہیں بی جے پی کے ہاتھ سے تین ریاست کی جاتی ہوئی دیکھ رہی ہے۔
پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی گنتی کے بیچ آرہے رجحان بی جے پی کے لیے بری خبر لے کر آئے ہیں۔ سال 2014سے دوڑ رہا بی جے پی کی جیت کا گھوڑا اب رکتا نظر آرہا ہے۔ کیوںکہ جہاں بی جے پی کے ہاتھ تین ریاستوں میں پھسلتے ہوئے نظر آرہے ہیں تو وہیں دو مختلف ریاست تلنگانہ اور میزورم میں بی جے پی کچھ خاص کرتی نہیں دیکھ رہی ہے۔

 

 

بڑے ریاستوں میں مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کی سرکار کا جانا طے مانا جارہا ہے۔ 15سالوں سے مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کی اقتدار پر قابض بی جے پی اقتدار سے ہاتھ گنوانا پڑ رہا ہے تو وہیں راجستھان میں ہر پانچ سال میں اقتدار میں بدلائو کا ٹرینڈ جاری ہوتا ہے دیکھ رہا ہے۔

 

 

تلنگانہ اور میزورم کی بات کریں تو بی جے پی نے اپنی سیاسی زمین نہ ہونے کی باوجود زبردست زور لگایا تھا۔ نارتھ ایسٹ ڈیموکریٹک الائنس NEDAکے کنوینر کے طورپر آسام سرکار میں وزیر ہیمنت شرما نے جوڑتوڑ کی پوری کوشش کی تھی،تو وہیں بی جے پی کی طرف سے وزیراعظم نریندر مودی اور امیت شاہ نے کانگریس مکت مشرقکا سپنا پورا کرنے کے لیے پورا زور لگایا تھا۔ حالانکہ مشرق میں کانگریس کے ہاتھ سے صرف ریاست نکل گیا لیکن یہاں علاقائی دل میجو نیشنل فرنٹ کی سرکار بنتے دیکھ رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *