جی بی روڈ میں بڑی کمپنی کی خاتون عملے سے کراتے تھے جسم فروشی، ہوئے گرفتار

Share Article

 

ایک بڑی کمپنی میں کام کرنے والی عورت سے دہلی کے ریڈ لائٹ ایریا (GB روڈ) میں زبردستی جسم فروشی کرایا جا رہا تھا۔ ایک گاہک کی طرف سے مدد حاصل کرنے کے بعد عورت کو جسم فروشی کے چنگل سے چھڑایا گیا ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ روز 15 سے 20 آدمی اس کا ریپ کرتے تھے۔

GB रोड में बड़ी कंपनी की महिला स्टाफ से कराते थे देह व्यापार, हुए अरेस्ट

27 سال کی عورت بنیادی طور پر مغربی بنگال کی رہنے والی ہے۔ وہ کولکاتہ میں ایک بڑی کمپنی میں کام کر رہی تھی۔ لیکن اور بہتر کام کے نام پر اس ایک آدمی دہلی لے کر آیا اور پھر اسے جبراً جی بی روڈ میں بھیج دیا گیا۔

GB रोड में बड़ी कंपनी की महिला स्टाफ से कराते थे देह व्यापार, हुए अरेस्ट

اصل میں عورت کو ایک شخص نے جی بی روڈ میں فروخت کیا تھا۔ اس کے بعد عورت سے کوٹھا نمبر 68 میں جبراً جسم فروشی کرایا جانے لگا۔ ایک دن ایک بنگالی شخص کلائنٹ کے طور پر عورت سے ملا۔ عورت اس سے مدد مانگی اور کلائنٹ اس کے لئے تیار ہو گیا۔

GB रोड में बड़ी कंपनी की महिला स्टाफ से कराते थे देह व्यापार, हुए अरेस्ट

خاتون نے گاہک کو اپنے بھائی کا نمبر دیا۔ اس کے بعد گاہک نے فون کرکے بہن کے بارے میں اس کے بھائی کو بتایا۔ بھائی دہلی آیا اور کسٹمر بن کر اسی کوٹھے پر پہنچا۔

GB रोड में बड़ी कंपनी की महिला स्टाफ से कराते थे देह व्यापार, हुए अरेस्ट

خود اپنی بہن سے کوٹھے پر ملنے کے بعد بھائی نے دہلی خواتین کمیشن سے مدد کے لئے رابطہ کیا۔ دہلی خواتین کمیشن اور دہلی پولیس کے تعاون سے عورت کو کوٹھا نمبر 68 سے چھڑا لیا گیا۔

GB रोड में बड़ी कंपनी की महिला स्टाफ से कराते थे देह व्यापार, हुए अरेस्ट

دہلی آنے کے بعد جی بی روڈ پر فروخت کر دئے جانے کی وجہ سے عورت اپنے گھر والوں سے رابطہ نہیں کر پا رہی تھی۔ اس کے بھائی نے کولکاتہ میں گمشدگی کا معاملہ بھی درج کرایا تھا۔

GB रोड में बड़ी कंपनी की महिला स्टाफ से कराते थे देह व्यापार, हुए अरेस्ट

8 اگست کو خواتین کو چھڑانے کے بعد دہلی پولیس نے اس معاملے میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ کوٹھے کے مینیجر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لیڈی 2 ماہ پہلے 8 جون کو دہلی آئی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *