پولیس کے سامنے اے بی وی پی لیڈر کی غنڈہ گردی ،پروفیسر کو گھٹنے پر بٹھاکر معافی منگوائی

Share Article
karnataka-professor

کرناٹک: جنوبی ریاست کرناٹک کے وجے پورا میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے لوگوں نے جم کر غنڈہ گردی کی اور پولیس صرف تماشا دیکھتی رہی۔ ایک انجینئرنگ کالج کے پروفیسر نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بک پر مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی تعریف کی تھی۔

بس اسی بات سےABVP کے لوگوں نے انہیں پکڑ لیا اور گھٹنے پر بٹھاکر معافی منگوائی۔ جب یہ سب کالج میں چل رہا تھا بڑی تعداد میں پولیس بھی وہاں موجود تھی۔

ABVP کے 100 سے زیادہ کارکنوں نے پروفیسر کو کالج میں ہی یرغمال بنا لیا تھا۔ پھر انہیں باہر لایا گیااور ان سے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر معافی منگوائی گئی۔ کارکنوں نے پروفیسر کی معطلی کی مانگ بھی ہے۔ ABVP کی مخالفت کے بعد پرنسپل نے انہیں یقین دلایا ہے کہ منگل کو کالج کھلنے کے بعد پروفیسر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔اب اس پورے واقعہ کا ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پروفیسر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ’ساری‘بول رہے ہیں اور ان کے آس پاس کھڑے پروفیسر نعرے لگا رہے ہیں۔ بھیڑ میں کچھ پولیس اہلکار بھی کھڑے نظر آرہے ہیں، لیکن وہ وہاں پر صرف خاموش تماشائی بن کر کھڑے ہیں۔ وجے پورا میں ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا ’ہمیں کوئی شکایت نہیں ملی اور نہ ہی ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔‘

وہیں بی جے پی لیڈر وویک ریڈی نے کہا،’پروفیسر کو بحران کے وقت ہماری فوج اور بھارت کے لوگوں کے جذبات کا خیال رکھنا ہوگا۔ آپ پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے ایسا کوئی بھی بیان نہیں دے سکتے، جس سے بھارت کی منفی تصویر بنے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *