اروند جے تلک
بہاراسمبلی انتخابات کے نتائج کی تپش سے اب اتر پردیش کی سیاست بھی گرمانے لگی ہے۔ اب سب کو ترقی کی فکر ستانے لگی ہے۔ جو کل تک اعلیٰ، پسماندہ ، اونچ نیچ اور ہندو مسلم کارڈکو اچھال کر اقتدار تک پہنچنے کی راہ تلاش کر رہے تھے، وہی اب مساوی سماج کی تعمیر کی دلیلیں دے رہے ہیں۔ اچانک بہار کے انتخابی نتائج نے ایسا کیا جادو کر دیا کہ پانچ دہائیوں سے چلی آ رہی انتخاب جیتنے کی نسلی تعصب اور مذہبی جنون پھیلانے والی سیاسی ذہنیت اب سیاہ پڑنے لگی ہے۔ بہار میں نسلی حکمت عملی کے سہارے اقتدار حاصل کرنے والے پالیسی سازوں کے تکبر اور غرورکے اب خاتمہ کے بعد ایسا ہونا لازمی تھا۔ کل تک سوشل انجینئرنگ کی طاقت پر سیاسی کرامات دکھانے والے بھی اب تمام خدشات سے گھرنے لگے ہیں۔ یادگاروں کے سہارے تاریخ میں امر ہونے کا خیال اب انہیں ذہنی درددینے لگاہے۔اس کی وجہ 2012میں اتر پردیش میں ہونے جارہے اسمبلی انتخابات ہیں۔ گزشتہ دنوں الہ آباد میں سونیا گاندھی کی ریلی اور ان کا بی ایس پی پر جم کر وار کرنا یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ سیاسی تکرار کا یہ سلسلہ اب تھمنے والا نہیں ہے۔بدعنوانی میں غرق کانگریس بدعنوانی کی ہی پلٹ وار سے بی ایس پی کو لہو لہان کرنا چاہتی ہے۔ وہیں اقتدار میں دوبارہ واپسی کے لئے بی ایس پی بھی ڈپلومیسی کا سہارا لے کر سیاسی دھار کو ماند کر دینا چاہتی ہے۔ اگر اتر پردیش میں سیاسی جماعتوں کی سیاسی زمین کی جانچ پڑتال کی جائے تو تصویر نہایت دلچسپ نظر آتی ہے۔ سب سے پہلے بات کانگریس کی۔اتر پردیش میں کانگریس کی سیاسی سرگرمیوں کو دیکھ کر تو یہی لگ رہا ہے کہ وہ خواہ جتنا بھی زور لگا لے، فی الحال مشن 2012کے خواب کو پر لگانا مشکل ہے۔ کانگریس پارٹی مشن 2012کے ہدف کے لئے اکثریت بڑھانے کے بجائے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے کرشمات پر ہی منحصر نظر آ رہی ہے۔بہار انتخابات میں اوندھے منھ گرنے کے بعد بھی کانگریس کو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ جمہوریت کی سیاسی مہابھارات کی لڑائی جیتنے کے لئے کرشمائی قیادت کے ساتھ ساتھ وفادار کارکنان کی فوج کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ صرف راہل کی پوسٹر بازی اور سونیا گاندھی کو لے کر کئے جانے والے جلسوں سے نتائج کو اپنے حق میں نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اگر جمہوریت میں صرف قیادت کی جیتثابت ہوتی تو 1977میں کانگریسی چاپلوسوںکے ذریعہ اندرا گاندھی کا موازنہ دیوی سے نہیں کیا جاتا۔اترپردیش لوک سبھا انتخابات میں ایک حد تک ٹھیک ٹھاک کارکردگی کے بعد کانگریس کے پالیسی سازوں کو لگنے لگا تھا کہ سونیا اور راہل گاندھی کے تعریفی قصیدے انہیں اقتدار کا پھل دے سکتے ہیں، لیکن اتر پردیش کے ضمنی انتخابات میں کانگریس امیدواروں کی کراری شکست اور بہار اسمبلی انتخابات میں مکمل صفایا ہو جانے سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ جمہوریت میں کنبہ پروری کے بجائے جمہوریت زندہ باد کا نعرہ ہی کام آ سکتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ابھی اتر پردیش میں کانگریس کو کئی سخت آزمائشوں کے دور سے گزرنا ہوگا اور عوامی توقعات اور عوامی سرکاروں کے لئے لڑنے والی پارٹی کے طور پر خود کوثابت کرنا ہوگا۔ منریگا اسکیم میں پھیلی بدعنوانی اور کئی عوامی فلاحی مرکزی اسکیموں کے عمل درآمد میں برتی جا رہی لاپروائی کو لے کر بھلے ہی کانگریس بی ایس پی حکومت پر الزام لگاتی ہو، لیکن خود بدعنوانی میں پوری طرح غرق پارٹی کی دلیلوں پر عوام کیسے یقین کریں گے؟ گزشتہ دنوں بندیلکھنڈ کی ترقی اور دلت استحصال کے حوالے سے کانگریس اور بی ایس پی دونوں ایک دوسرے کے خلاف زہر اگل رہے تھے۔ اب کانگریس پارٹی نے بی ایس سربراہ مایاوتی کے کبھی خاص رہے نوکرشاہ پی ایل پونیا کو اپنا سیاسی اوزار بنا لیا ہے۔ انہیں شیڈولڈ کاسٹ ایس ٹی کمیشن کا قومی صدر بنا کر مایاوتی حکومت کے خلاف دلتوں کا خیرخواہ ثابت کرنے کی کانگریس کی کوششیں عوامی رجحان پیدا کرتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔کانگریسی قیادت ریاستی تنظیم کو لے کر ہی پریشان ہے۔ سونیا یا راہل کا خفیہ یو پی کا دورہ اور خفیہ طریقہ سے کارکنان کی میٹنگ بھی کانگریسوں کے لئے سنجیونی نہیں بن پا رہی ہے۔ ایسے میں مشن 2012کو کانگریس پارٹی کیسے کامیاب بنائے گی، کہنا مشکل ہے۔ دوسری جانب اکثریت کے معاملہمیں یو پی میں مسلسل ناکام ثابت ہوتی جا رہی بی جے پی اپنی بدحالی سے ابھرنے کے بجائے مسلسل ادھیڑ بن میں دماغ کھپا تی نظرآرہی ہے کہ وہ کیسے بنا سیاسی جدوجہد کے اقتدار تک پہنچ جائے۔وہ بی ایس پی حکومت کی ناکامی اور مرکزی حکومت کی غلط اقتصادی پالیسیوں کے سبب ہوئی مہنگائی، بدعوانیوں اور قومی سلامتی کو ایشو بنا کر اپنی بات عوام تک پہنچانا تو چاہتی ہے لیکن اس سیاسی دکھاوے کو بھی وہ کارگر طریقہ سے ادا نہیں کر پا رہی ہے۔ مرکزی قیادت کی لاکھ ڈانٹ پھٹکار کے باوجود بی جے پی کے سیاسی قدآور خانہ جنگی سے باز نہیں آ رہے ہیں۔ در حقیقت دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس بی جے پی کے سامنے کچھ زیادہ ہی دشواریاںہیں۔اس کا سیاسی مقابلہ نہ صرف سماجوادی، بی ایس پی اور کانگریس سے ہے بلکہ عوام میں اپنے اعتماد کی بحالی کو لے کر بھی اسے پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں۔ یو پی کی بی جے پی تنظیم میں کس حد تک انتشارپھیلا ہوا ہے، اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ  گزشتہ دنوں قومی صدر نتن گڈکری کی لکھنؤ آمد پر بھی اس کے قدآور لیڈر کہے جانے والے لیڈر آپسی گلے شکوے بھلا کر ایک ہوتے نظر نہیں آئے۔تمام بی جے پی لیڈر اپنے قومی صدر کے خطاب کو سننے کے بجائے اپنے کیمپوں میں ہی بیٹھے رہے۔مختلف یونٹوں اور سیاسی کیمپوں سے بندھے ان لیڈران پر ہائی کمان کا زور چلتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اتر پردیش میں بی جے پی ابھی بھی بی ایس پی حکومت کے خلاف اہم حریف جماعت کی شکل میں خود کو قائم نہیں کر پا رہی ہے۔اس کے ذریعہ عوامی سرکاروں سے جڑے مسائل پر آواز بلند کرنے کی کوششیں نقارخانہ میں طوطی کی آواز ہی ثابت ہو رہی ہیں۔ آج اگر بی جے پی یوپی کے سیاسی میدان میں شکست کھا رہی ہے تو اس کے لئے خود بی جے پی کے لوگ ہی ذمہ دار ہیں۔ اتحاد، نظریاتی فقدان اور پختہ تیور کی کمی اگر اسی طرح قائم رہی تو مشن 2012کی سیاسی تپش میں بی جے پی پھر جھلس سکتی ہے۔
بہار کے انتخابی نتائج نے بی جے پی میں جوش ضرور بھر دیا ہے، لیکن صرف جوش سے کام بننے والا نہیں ہے۔ یو پی میں بھی نتیش اور مودی بن کر دکھانے کی صلاحیت یو پی کے بی جے پی لیڈران میں نظر نہیں آ رہی ہے۔
ریاست کی اہم اپوزیشن پارٹی سماجوادی پارٹی بھی اندرونی خلفشار کی مار جھیل رہی ہے۔ سماجوادی کارکنان میں اپنے اپنے وجود کو لے کر گھمسان مچا ہواہے۔گزشتہ ایک دہائی سے سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کی سیاسی پینترے بازی سے سماجوادی پارٹی کی شاخ اور معتبریت کو لے کر عوام میں شبہ پیدا ہوا ہے۔کبھی کانگریس پارٹی سے بغل گیر ہونا تو کبھی کلیان سنگھ جیسے حاشیہ پر کھڑے لوگوں کے ساتھ سیاسی گٹھ جوڑ نے ان کی سیاسی صلاحیت کو کمزور کیا ہے۔گزشتہ دنوں الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ سنائے گئے اجودھیا فیصلہ پر ان کے حیرت انگیز اور غیر مناسب بیان کو لے کر بھی لوگوں میں ناراضگی پیدا ہوئی ہے۔ مسلم ووٹوں کی خاطرسماجوادی پارٹی اعظم خان کو دوبارہ اپنی پارٹی میں ضرور لینے جا رہی ہے لیکن ان کی واپسی سوشلزم کو کس حد تک طاقت دے گی یہ تو آنے والا وقت ہی طے کرے گا۔ اعظم خان کی واپسی کو لے کر بھی سماجوادی پارٹی کے تمام مسلم ممبران اسمبلی میں بغاوتی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔ کیا معلوم کہ مشن 2012کے نزدیک آتے آتے ٹکٹوں کی تقسیم پر بھی باہمی خلفشار کھل کر سامنے آجائے۔ ویسے بھی سماجوادی پارٹی برے دور سے گزر رہی ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج نے سماجوادی پارٹی کو تھوڑی آکسیجن دی ہے لیکن اکھلیش یاو کی بیوی ڈمپل کی ہار کے درد سے ابھی سماجوادی پارٹی ابھر نہیں پائی تھی کہ پنچایتی انتخابات میں سماجوادی سپریمو کو انج اور اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر شیو پال یادو کے صاحبزادہ کی شکست دیکھنی پڑ گئی۔ اگر سماجوادی پارٹی اپنی پالیسیوں، پروگراموں اور اصولوں پر اسی طرح ڈولتی رہی اور اعظم خان کے عقیدے بنام قانون پر آگ اگلتی رہی تو آنے والے دنوں میں اسے خود بھی جھلسنا پڑ سکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here