1940ء میں حسرت جے پوری نے ذریعہ معاش کی حسرت لئے ممبئی کا رخ کیا تھا

Share Article

 

ممبئی(ایجنسی) فلمسازوں کو جب بھی ٹائٹل گیت لکھوانا ہوتا سب سے پہلے اقبال حسین کو یاد کیا جاتا۔یعنی حسرت جے پوری سے رابط کیا جاتا تھا۔ ان کے تحریر کردہ ٹائٹل گیتوں نے کئی فلموں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسی لئے ہندی فلموں میں جب بھی ٹائٹل گیتوں کا ذکر ہوتا ہے نغمہ نگارحسرت جے پوری کا نام سب سے پہلے لیا جاتا ہے۔ویسے تو حسرت صاحب نے کئی گیت لکھے ہیں لیکن فلموں کے ٹائٹل گیت لکھنے میں انہیں مہارت حاصل تھی۔فلموں کے سنہری دور میں ٹائٹل گیت لکھنا بڑی بات سمجھی جاتی تھی۔

 

Image result for In 1940, Hasrat Jaipuri has turned Mumbai to the senses of the source

 

دیوانہ مجھ کو لوگ کہیں(دیوانہ) ،دل ایک مندرہے(دل ایک مندر)،رات اور دن دیا جلے،(رات اور دن) تیرے گھر کے سامنے ایک گھر بنائوں گا ،(تیرے گھر کے سامنے ) گمنام ہے کوئی ،(گمنام) حسرت جے پوری کے قلم سے نکلے کچھ ٹائٹل گیت ہیں۔ حسرت صاحب نے جے پور میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دادا فدا حسین سے اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی اور نوعمری میں شاعری سے دلچسپی بڑھی اور غزلیں لکھنے لگے۔

۱۹۱۴۰ء میں ذریعہ معاش کی تلاش میں حسرت صاحب نے ممبئی کا رخ کیا۔ اور زندگی گزارنے کے لئے کنڈکٹر کی ملازمت کرنے لگے انہیں صرف ۱۱ روپے ما ہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ اس دوران انہوں نے مشاعروں میں حصہ لینا شروع کر دیااسی بیچ ایک مشاعرے میں پرتھوی راج کپور ان کی غزل سے کافی متاثر ہوئے اور اپنے بیٹے راج کپور کو حسرت صاحب سے ملنے کی صلاح دی۔

راج کپور اپنی فلم ’برسات‘ کے لئے کسی نغمہ نگار کی تلاش میں تھے۔اور پھر حسرت جے پوری کی راج کپور سے پہلی ملاقات اوپیرا ہائوس میں ہوئی۔ اوربرسات کے لئے گیت لکھنے کی فرمائش راج کپور نے کی ۔یہ بھی ایک اتفاق تھا کہ موسیقار شنکر جے کشن نے بھی اپنے فلمی سفر کا آغازکیا تھا۔راج کپور کے کہنے پر شنکر جے کشن نے کو ایک دھن سنائی اس پر ان سے گیت لکھنے کو کہا۔بول تھے’ امبواکا پیڑ ہے وہیںمنڈیر ہے۔آجا مورے بالما کاہے کی دیر ہے۔سن کر حسرت جے پوری نے جیہ بے قرار ہے، چھائی بہار ہے آجا مورے بالما تیرا انتظار ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *