پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان گزشتہ کچھ دنوں سے مسلسل اپنے ‘دو مسلم بھائیوں’ سعودی عرب اور ایران کے درمیان صلح کرانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں لیکن انہیں اپنی اس کوشش میں ناکامی ہاتھ لگی ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل بن احمدالجبیر نے پاکستان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ بات چیت کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔
مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم کسی ثالثی میں شامل نہیں ہیں،لوگ ہمارے پاس اپنے خیالات لے کر آتے ہیں اور ہم انہیں اپنا جواب دیتے ہیں۔ ہم اپنے جواب میں بتاتے ہیں کہ ہم ایران سے کیا چاہتے ہیں، ہم باتوںکے بجائے اس کے خلاف ٹھوس کارروائی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ستمبر مہینے میں سعودی عرب کے تیل تنصیبات پر حملے میں ایرانی میزائل کا استعمال ہوا تھا اور تہران کو دنیا بھر میں تشدد پھیلانا بند کرنا چاہئے۔الجبیر نے کہا کہ اگر ایران چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ بات چیت کا خیر مقدم ہو تو پھر اسے بین الاقوامی قوانین پر عمل کرتے ہوئے ایک عام ملک کی طرح برتاو ٔ کرنا چاہئے۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے مسلم دنیا کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان صرف دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات شروع کرانے کے لئے ہی نہیں بلکہ اسلام آباد میں ایک ملاقات کا اہتمام بھی کرنے کے لئے تیار ہے۔پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان مسلم دنیا کی قیادت کرنے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ حال ہی میں جب نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے ملائیشیا اور ترکی کے ساتھ مل کر اسلامی مسائل کو اٹھایا تو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کے عمران خان سے ناراض ہونے کی خبریں بھی آئیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عمران خان نے ترکی صدر رجب طیب اردغان اور ملائیشیا کے وزیراعظم مآثر محمدسے ملاقات کی تھی جہاں تینوں رہنماو ¿ں نے مل کر مسلم دنیا کے مسائل کو اٹھایا۔اسلام فوبیا سے لڑنے کے لئے تینوں لیڈروں نے اس کے لئے ایک انگریزی زبان چینل کھولنے کی بھی بات کہی۔ اس کے بعد کچھ رپورٹیں میں کہا گیا کہ عمران کا ترکی-ملائیشیا کے ساتھ مل کر اسلامی دنیا کا آگے بڑھ کر نمائندگی کرنا سعودی عرب کو ناگوار گزرا تھا۔پاکستان اس سے پہلے بھی کئی بار سعودی اور ایران کے درمیان ثالثی کرنے کی ناکام کوشش کر چکا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here