پلوامہ حملے پر بیان دینے کے لئے ہدایات کا انتظار کر رہے تھے عمران خان: ریحام خان

Share Article

 

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے کہا ہے کہ وہ (عمران خان) پلوامہ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کو لے کر بیان دینے کے لیے ہدایات کا انتظار کر رہے تھے۔

 

View this post on Instagram

Talking to SZabist students in Islamabad. 2014

A post shared by Reham Khan (@officialrehamkhan) on

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے کہا ہے کہ وہ (عمران خان) پلوامہ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کو لے کر بیان دینے کے لیے ہدایات کا انتظار کر رہے تھے۔ ریحام نے ایک ہندستانی ٹیلی ویژن چینل سے کہا’’وہ نہ صرف موضوعات کو ٹال گئے ہیں، بلکہ وہ اس کے لئے ہدایات کا انتظار کر رہے تھے‘‘۔

 

Image result for imran khan

انہوں نے کہا کہ عمران خان کا منگل کے روز کا بیان بہت نپا تلا تھا۔ وہ وہی بولے جو انہیں بولنے کے لئے کہا گیا تھا۔ ان کا بیان بہت متوازن اور سفارتی طریقے سے ٹک کیا ہوا تھا۔ میرے خیال سے اگرچہ ان کا بیان بہت دیر سے آیا۔ انہوں نے کہا’’یہ میری ذاتی رائے ہے لیکن ایک بار کسی بھی ملک میں اتنا بڑا واقعہ ہو جاتا ہے، خواہ وہ ہندستان ہو یا دنیا کا کوئی اور ملک، پاکستان کے وزیر اعظم کو اس کی سخت مذمت کرنی چاہئے تھی‘‘۔ بتادیں کہ 30 اکتوبر 2015 میں عمران خان سے علیحدگی اختیار کرنے والی ریحام خان نے کہا کہ پلوامہ حملے اور ایران کا واقعہ (جس میں27 ایرانی سکیورٹی گارڈز ہلاک ہو گئے تھے) کے متعلق انہوں نے کوئی ٹویٹ نہیں کیاہے۔ وہ (عمران خان) آسانی سے موسم سرما میں بارش کے بارے میں ٹویٹ کر رہے ہیں۔ اس لئےمیں تھوڑی حیران ہوں۔ انہوں نے کہا’’وہ (عمران خان) نہ صرف موضوعات سے بچ رہے تھے، بلکہ وہ ہدایات کا انتظار کر رہے تھے‘‘۔

 

Image result for reham khan

 

قابل ذکر ہے کہ لیبیا میں پیدا ہونے والی برطانوی- پاکستانی صحافی اور مصنفہ ریحام خان بنیادی طور پر پشتون کی رہنے والی ہیں۔ 6 جنوری 2015 کوعمران خان نے ریحام خان سے اپنی شادی کی تصدیق کی تھی لیکن 30 اکتوبر، 2015 کو دونوں میں طلاق ہو گیا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *