اہم ایشو پیچھے چھوٹ رہا ہے

Share Article
ارونا چل پردیش ایک ایسی ریاست بن گئی ہے،جہاں آرٹیکل 356 کا استعمال بنا کسی ٹھوس سبب کیہوا۔حالانکہ ایسے معاملے میں پہلے بھی گورنر، مرکز کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے رہے ہیں ۔لیکن اس بار گورنر نے ساری حدیں پھلانگ دیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کانگریس کے وزیر اعلیٰ کے پاس اکثریت نہیں تھی یا اکثریت تھی، لیکن ان کے کچھ ارکان اسمبلی باغی ہوگئے تھے۔ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے گورنر کو وزیر اعلیٰ سے اسمبلی کاسیشن بلانے کے لییکہنا چاہیے تھا۔ اس کے بعد یہ طے ہوتا کہ وزیر اعلیٰ کے پاس اکثریت ہے یا نہیں۔ اس معاملے میں گورنر نے اسمبلی کی میٹنگ خود بلائی،خود ایجنڈا طے کیا اور یہ بھی طے کیا کہ کون اس کی صدارت کرے گا، کیونکہ سبکدوش ہونے والے اسمبلی کے اسپیکر ظاہری طور پر وزیر اعلیٰ کے حق میں ہوں گے۔ایسا کرنا بہت عجیب اور مضحکہ خیز ہے۔اسمبلی اسپیکر ایک آئینی پروویژن کے تحت کام کرتا ہے۔ اگر، اسمبلی اسپیکر کو نظر انداز کرناہی تھا، تو سب سے پہلے ایوان کی میٹنگ بلائی جاتی اور ان کے خلاف عدم اعتماد کی تجویزپاس کی جاتی۔ آئینی طور پر یہ کارروائی پہلے ہی اپنائی جانی چاہیے تھی۔اس سییہ بھی صاف ہوجاتا کہ سرکار کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ گورنر نے ایسا کیوں کیا، یہ سمجھنا مشکل ہے۔ وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے تئیں وفادار تو ہیں، لیکن آئینی باریکیاں سمجھنے کے قابل نہیں ہیں۔ یہ بہت ہی افسوسناک ہے کہ کسی آئینی مسئلے میں عدالت کا سہارا لیا جارہا ہے اور سپریم کورٹ اس پر غور کرے۔ کسی بھی طرح سے یہ ایک بہتر نظیر نہیں ہے۔ دیکھتے ہیں، آگے کیا ہوتا ہے۔
دوسرا معاملہ ہے انوپم کھیر کا ، جو بہت چھوٹا ہے۔ انوپم کھیر پاکستان کے ذریعہ ویزا نہیں دیے جانے پر طنزیہ لہجہ میں ردعمل دے رہے ہیں۔ اس معاملے کو اتنا زیادہ اچھالنا اور اس پر اتنا شورشرابہ کرنا میری سمجھ سے باہر ہے۔وہ اپنے فیلڈ میں بہت اچھا کررہے ہیں، لیکن مسئلہ کو الجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کا معاملہ 1989 سے شروع ہوا۔ کشمیری پنڈتوں کو اپنا گھر چھو ڑنا پڑا،انھیں کشمیر سے باہر نکلنا پڑا۔انوپم کھیر اکیلے ایسے شخص نہیں ہیں، جنھیں اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔ پہلے تو میںیہ نہیں سمجھتا کہ وہ اس خاندان سے ہیں، جسے اس دوران کشمیر سے بھاگنا پڑا تھا۔ مان بھی لیا جائے کہ وہ ان کشمیری پنڈتوں کی نمائندگی کررہے ہیں، تو بھی اس مسئلہ کو ویزا سے جوڑ کر نہیں دیکھاجا سکتا۔انوپم کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ان سے اس لیے ڈرا ہوا ہے، کیونکہ وہ کشمیر معاملے میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرنے جارہے ہیں۔ انوپم کون ہوتے ہیں،اس طرح کی بات کرنے والے اور کون ان کی باتوں پر یقین کرے گا؟ ایسے بہت سے لوگ ہیں،جنھوں نے اس مسئلہ کو لے کر اپنی آواز اٹھائی ہے۔سرکار کے ذریعہ ایک ایوارڈ دیے جانے سے ان کا نقطہ نظر بدل گیا ہے۔ اس سے پہلے وہ ایک لبرل، تخلیقی اورسمجھدار شخص تھے۔ ایک پدم ایوارڈ اور ایک ایوارڈ واپسی کے خلاف مارچ نے انھیں مودی بھکت بنا دیا ہے۔ کیا وہ سرکار کے ہر اچھے اور برے کام کو صحیح ٹھہرائیں گے۔ پاکستان کو انھیں ویزا دینے سے انکارنہیں کرنا چاہیے تھا۔آخر کار وہ ایک ادبی تقریب میں حصہ لینے جارہے تھے،جس میں ہرطرح کے خیالات کے لیے جگہ ہوتی ہے۔ یہ پاکستان سرکار کا استحقاق ہے کہ وہ کسے ویزا دے یا کسینہ دے۔انوپم کو بیان بازی کرنے کیبجائے دوسری کوشش کرنی چاہیے تھی۔ انھیںیاد رکھنا چاہیے کہ نریندر مودی کو بھی گجرات کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے امریکہ نے ویزا دینے سے انکار کردیا تھا۔ یہ امریکہ کے ذریعہ اٹھایا گیا زیادہ قابل اعتراض قدم تھا۔ پاکستان نے انوپم کھیر کو ویزا دینے سے منع کیا ہے،جو نہ تو رکن پارلیمنٹ ہیں اور نہ ہی کوئی سرکاری افسر۔یہ کوئی بہت بڑا معاملہ نہیں ہے۔ لیکن ،یہ وقت ہی ایسا ہے کہ اس طرح کے معاملے طو ل پکڑ لیتے ہیں اور اہم ایشو کہیں پیچھے چھوٹتا جارہا ہے۔
پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہونے والا ہے۔یہ بھارتیہ جنتا پاٹی کے لیے اچھا ہوگا کہ وہ کانگریس کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرے اور اپنے اختلاف دور کرلے، تاکہ پارلیمنٹ کا وقت برباد نہ ہو۔ جی ایس ٹی کو ساکھ کا موضوع نہیں بناناچاہیے ۔ یشونت سنہا نے ایک راستہ دکھایا کہ وزیر خزانہ ایک سینٹرل جی ایس ٹی بل پیش کریں، جیسے سینٹرل ویٹ پیش کیا گیا تھا۔مرکزی سرکار کی ٹیکس اصلاحات کی بعد میں ریاستیں بھی تقلید کرنے لگیں گی۔ یہ زیادہ وقت لے سکتا ہے،لیکن اس سے اصلاح کا عمل شروع ہوجائے گا۔ اتفاق رائے کے لیے انتظار کرنا وقت کی بربادی ہے۔ظاہرہے،بجٹ وزیر خزانہ کے خصوصی اختیارکے دائرے میںآتا ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ اس بار کا بجٹ سب سے الگ ہوگا ، کچھ نیا دیکھنے کو ملے گا اور معیشت کولے کر عام ماحول میں بہتری آئے گی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *