اسلام میں علم و حکمت کی اہمیت

Share Article

محمد ظفر الدین برکاتی
تعلیم وتربیت کے ہمہ گیر مقاصد میں ایک بڑا بنیادی اور مرکزی مقصدیہ ہے کہ کسی بھی ملک، خطہ اور قوم کے افراد واشخاص ملک کے کار آمد شہری بن جائیں تاکہ ملک کے سبھی شعبۂ زندگی کی ضرورت کے مطابق صلاحیت مند افراد ہمیشہ دستیاب ہوتے رہیں۔اسی لیے ہر دور میں حکومتی سطح پر تعلیم وتربیت کے بڑے اور مفید ترین منصوبے بنتے رہے ہیںاورملک کی ہر ضرورت اور حالات کے تقاضے پورے کرنے والے افراد تیار کیے جانے کی بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں کیوں کہ زندہ رہنے کے لیے پانی، روٹی، کپڑا، اور مکان کی دائمی فراہمی بہتر تعلیم وتربیت کے بعد ہی ممکن ہے۔ یہ تو ہر قوم کی تعمیروترقی اور ہر ملک کے عروج واِرتقا کے لیے لازمی ہے۔ لیکن نتائج کے اعتبار سے مذہب اسلام کا تعلیمی تصور اِس سے بھی وسیع تر ہے اور آفاقی حیثیت کاحامل ہے۔ کتاب علم وحکمت قرآن حکیم کا فرمان ہے:’’اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ ‘‘(سورہ فاطر27/28)
جب کہ معلم کتاب وحکمت پیغمبر اسلام کا اعلان ہے:’’حکمت ودانائی کی بات مومن کاگم شدہ خزانہ ہے، وہ جہاں بھی اسے پائے، وہ اس کاحق دارہے۔‘‘(جامع ترمذی)
اور قرآن حکیم میں جہاں بھی کتاب وحکمت اور کائنات میں غور وفکر کرکے علوم وفنون حاصل کرنے کا تصور وہدایت موجود ہے، وہاں سمع ،بصر اورقلب کو حصول علم وفن کا ذریعہ قراردِیاگیاہے جس کادوسرا پہلو یہ ہے کہ صحیح چیز کی تاک میں لگے رہنے اور دیکھ کر،سن کر دل کے قریب کرنے یادل میں بٹھانے کے ساتھ ایک صحیح بندۂ خدا کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ جس کو غلط سنے، غلط دیکھے اور دل بھی اس کے غلط ہونے کی گواہی دے تو لسان وید زبان اور ہاتھ کو اُن کے خلاف حرکت میں لائے۔ آئندہ کی ہماری گفتگوآپ کے دل ودماغ، زبان وقلم اور سمع وبصر کو ان شاء اللہ ضرورجھنجھوڑے گی، میرادل اس کی گواہی دے رہا ہے۔اب حصول علم اور فروغ تعلیم کی دِقتوں کے حوالے سے معلم کائنات کاارشاد گرامی پہلے ملاحظہ کرلیں جس کاذکر فائدے سے خالی نہیں:اطلبوالعلم ولوبالصین۔علم حاصل کرو، اگرچہ چین میں ہو۔
ان سبھی حقائق کافیصلہ یہ ہے کہ علم حاصل کرنا ہرفردِ بشر کی براہ راست اپنی انفرادی بنیادی ضرورت اور ذمہ داری ہے جب کہ اس کے لیے وسائل کی فراہمی ارباب حل وعقد اور صاحبانِ اقتدار یاحکومتوں کی بالواسطہ فریضہ۔ اور ہاں! تعلیم وتربیت کاعروجی نتیجہ ہے خوف خدا کہ جب بندے نے کتاب وحکمت سے اپنا نصیبہ لے لیا تو پھر ایک انسان ہونے کے ناطے انسانیت اور سماج، ملک اور قوم کافرد ہونے کے ناطے قومیت وشہریت کے تقاضوں کو پہچانے کہ کس کاکیاحق ہے، کس پر کیافریضہ عائد ہوتا ہے اور کون سماج کا مخالف قراردیاگیاہے یاکس کو خداکی مخلوق کادشمن قراردیاجاتاہے۔ اگر یہ احساس اس کے اندر بیدار ہوگیا تو سمجھ لیجئے کہ اب خوف خدا کے عناصر اس میں پیدا ہونے لگے ہیں اور جب یہ عنصر اس کی فطرت وطبیعت کالازمہ بن جائے تویقین کرلیں کہ اب وہ بندوں کے حقوق اور اپنے منصبی فرائض کی پاس داری کرنے لگاہے اور یہی اصل خوف خداہے۔
دوسری چیزہے، حکمت ودانائی کی بات جہاں بھی ملے، وہ ایک مومن کی گم شدہ چیزہے جس کاوہی حق دار ہے،اس کاتقاضا یہ ہے کہ آدمی کو ماں کی گود سے قبر میں قدم رکھنے تک علم وحکمت کے حصول وفروغ میں لگے رہنا چاہیے جس کا فکر ساز پہلو یہ ہے کہ حکمت ودانائی چھینی یاغصب کرنے کی چیز نہیں بلکہ حاصل کی جانے والی چیز ہے کیوں کہ وہ پہلے سے گم شدہ ہے، کسی نے اس کو غصب نہیں کیاہے کہ اس سے چھیننے کی ضرورت پڑے جب کہ اس کا مذہبی سماجی پہلو یہ ہے کہ اگر ہم اپنی گم شدہ چیز کو ازخود حاصل کرتے ہیں کسی طریقے سے، تو نیک جذبات اور صحیح طریقے سے علم وحکمت کے حصول وفروغ کایہ مبارک سلسلہ اپنی روایتی برکت کے ساتھ چلتا رہے گا اور سماج وقوم کے سبھی افراد اس کی برکتوں سے خود بھی شاد کام ہوں گے اور اُن کی نسلیں بھی شاد کام وکامران ہوتی رہیں گی۔
لیکن اگر اس گم شدہ حکمت ودانائی کو حاصل کرنے اور اس کو فروغ دینے کے بجائے غصب، چھیناجھپٹ اور سینہ زوری وحرام خوری کے ذریعہ اپنے نام کرنے کی کوشش کی گئی(اگرچہ حکمت ودانائی چھوکر، پکڑکے، قبضہ کرکے غصب کرنے کی چیز نہیںگویا حصول حکمت کے وسائل پر زبردستی یاغیر اصولی قبضہ ہی مراد ہوتاہے ) تو سماج کا ہر فرد اس کی برکتوں سے خود بھی محروم ہوگا پھر اس کی نسلیں بھی محروم ونامراد ہوتی رہیں گی اور نتیجے میں ملک وقوم ،حکیم ودانالوگوں سے خالی ہوجائیں گے۔اس کے بعد دین ودنیا، مذہب ومسلک، دستورو آئین، حکمت وعدالت، حکومت ومملکت، سب کی حقیقت، جہالت وانار کی کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں یوں دب جائے گی جیسے میدان تیہہ میں بنی اسرائیل کے لیے دنیا کی وسیع حقیقت معدوم ہوچکی تھی اور دنیا میں رہتے ہوئے بھی وہ دنیا کی نعمتوں سے  محروم محدود طرزِ زندگی کی حقیقی تصویربن گئے تھے۔
اب کتاب حکمت سے نظر ہٹائیے، اپنے سماج میں آئے پھر دیکھئے کہ علم دوست اور قوم کے فلاح وصلاح کار حضرات نے قوم وملت کی تعلیمی صورت حاصل بہتر بنانے کے لیے کتنے اور کیسے کیسے انتظامات کیے ہیں اور حکومتوں نے ملک کے سبھی قوموں کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کے لیے کیسی تعلیمی وانتظامی سہولیات فراہم کی ہیں۔ تو آپ دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہندوستان میں مرکزی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے لیے یوجی سی اور ثانوی تعلیم کے لیے سی بی ایس ای کے نام سے دومعروف ومتحرک اور مستحکم تعلیمی بورڈ کام کررہے ہیںجب کہ ہر صوبے کااپنا الگ الگ تعلیمی بورڈبھی ہے جو اپنی اپنی جگہ متحرک وفعال اور مستحکم ہے۔
ان میں ایک معروف صوبائی تعلیمی بورڈ عربی فارسی بورڈ لکھنویوپی بھی ہے جس سے ہندوستان کے تقریباً وہ سبھی طلبہ وحضرات فیضیاب ہوتے ہیں جو یوپی کے کسی بھی مسلک کے دینی مدرسے میں زیرتعلیم ہوتے ہیں یاکہیں استاد ہوتے ہیں، خاص طور سے یوپی کے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے زیادہ ترلوگ ہی اس سے براہ راست فائدہ اٹھاتے ہیں اور بہاروبنگال کے اکثر علما وطلبہ بھی اس کے تحت امتحانات دے کر اسناد حاصل کرتے ہیں۔بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشنل بورڈ اورکچھ حدتک بنگال مدرسہ بورڈ، جامعہ اردو علی گڑھ کااردو بورڈکی صورت حال بھی تقریباًہمارے بیان کردہ حقائق کے مطابق ہے، یونہی الہ آباد یوپی بورڈ کاحال بھی کوئی مختلف نہیں جس کے اکثر امیدوار غیر مسلم ہوتے ہیں۔لیکن مذکورہ بورڈ سے ہمیں بحث نہیں اس لئے ان سے ہم صرف نظر کرتے ہیں۔
لیکن اِدھر چند سالوں سے اس بورڈ کی حالت انتہائی خراب ہے۔ مدارس کی انتظامیہ، بورڈ کے ارکان وممبران اور اس سے فائدہ اٹھانے والے سب کا مزاج بھی انتہائی الم ناک حدتک خراب ہوتا جارہاہے۔ خراب اس لیے لکھناپڑرہا ہے کیوں کہ کل تک جو لوگ پڑھ لکھ کر امتحانات میں بیٹھنے بلکہ فارم بھرنے کا حکم صادر کرتے تھے، آج وہی لوگ بڑی آسانی سے یہ کہتے ہیں کہ ’’فارم بھردو، دیکھاجائے گا، کاپی چیک کرنے والے بھی ویسے ہی ہوتے ہیں، فیل ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘گویا عربک اینڈپرشین بورڈ لکھنو، اب عربک اینڈ پرشین برڈ=Bird) چڑیا) ہوگیاہے کہ محنت کرنے اور پڑھنے لکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ دانہ ڈالئے (فارم پُر کیجئے) اور حکومت کی یہ عربی فارسی چڑیا، آپ کے روشن مستقبل کی ضمانت کے طور پر ایک تعلیمی سند خود ہی گھرتک پہنچادے گی۔
حالاں کہ حکومت نے بورڈ کی سہولت اس لیے فراہم کی تھی کہ حکومتی اداروں میں ملازمت کے لیے چوں کہ مدارس کی اسناد منظور تھیں نہیںتواُن میںاِس بورڈ کی اسناد کام دے سکیں اور عربی فارسی مدارس کے تعلیم یافتہ افراد بھی حکومت کے یہاں سندیافتہ شہری ہوں اورحکومتی محکموں میں ملازمت کے مجاز بھی ہوسکیں۔مگر اس بدنظمی کی وجہ سے ایسا ہوگیا ہے کہ پہلے عربی، فارسی مدارس کی بنیادی دینی تعلیم کو اولیت حاصل تھی اور بورڈ کے اِن امتحانات اور منظور شدہ اسناد کی حیثیت ثانوی تھی۔ لیکن اِدھر حالات اس حدتک بدل چکے ہیں کہ بورڈ کے نصاب کے مطابق تعلیم کی حیثیت ثانوی جب کہ بورڈ کے اسناد کی حیثیت اولیں ہوگئی ہے۔
اس کا براہ راست نتیجہ یہ سامنے آیاہے کہ اب پڑھے لکھے افراد کا پڑھ لکھ کر بھی بورڈ کے امتحانات دینے کے بعد مشکلات کاسامنا ہے کہ وہ اِس بورڈ کی اعلی اسناد رکھنے کے باوجودخود اپنے مدارس(جن میں وہ پرائیویٹ استاد ہیں اور معمولی مشاہرہ پر برسوں سے مدرس ہیں) میں سرکاری ملازمت حاصل نہیں کرسکتے، کیوں کہ جن افراد کو عربی فارسی کے عین اور فاء سے واقفیت نہیں، وہ بھی عالم، کامل اور فاضل کی اسناد رکھتے ہیں ، دل چسپ بات یہ کہ ان کی اکثریت ہے بغیر امتحان دِیے سندیافتہ ہے اور چوں کہ اُن کے پاس مال ودولت ہے اور ملازمت حاصل کرنے کے لیے رشوت لینے دینے میں بھی کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ حلال ہے کہ حرام، اس لیے اب وہی آسانی سے اُن مدارس میں مدرس ومعلم مقرر کیے جارہے ہیں جو یوپی مدرسہ بورڈ کے تحت پہلے سے منظور ہیں یاآج منظور کیے جارہے ہیں۔
اِن سبھی حقائق کے پیش نظر ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ مستقبل قریب میں اِن ناخواندہ سندیافتہ افراد کی بدولت دوبڑے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔ ایک تویہ کہ رفتہ رفتہ اکثراورپھر سبھی مدارس صلاحیت مند عالم، کامل اور فاضل کی اسناد رکھنے والے علماے کرام یا معلم حضرات سے خالی ہوجائیں گے (اور جب یہ صورت حال ہوگی تو مدارس کی تعلیم کاخداہی بھلاکرے) اور دوسرا یہ کہ ہمارے سماج میں اسکول اور یونیورسیٹیز یاغیرسرکاری تعلیمی وتکنیکی اداروں میں زیرتعلیم یاتعلیم یافتہ افراد کے علاوہ ایسے افراد کی تعداد نوے فیصدسے زیادہ ہوگی تو ظاہر ہے، اس کے بعد ناخواندگی کاوہی دور پلٹ آئے گا جس سے نکلنے کے لیے آج پوری مسلم قوم طرح طرح کے کامیاب حیلے کررہی ہے اور حکومتوں سے حقوق ومراعات اور تحفظات کے لیے جی جان لگائے ہوئے ہے۔قوی امکان ہے کہ ہماری یہ تحریر آپ کے دل ودماغ میں موجود بیان کردہ خدشات اور اندیشے سے متعلق احساسات کو مہمیز کرے گی اور آپ بھی اِن مسائل پر مثبت نقطۂ نظر سے سوچنے اور کوئی عملی قدم اٹھانے پر غور کریں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *