!الجھا دیا نا آپ کو پھر سے مسجد کے جھگڑے میں

Share Article

وسیم راشد
بات ہے دہلی کی اور دہلی کے مشہور علاقے جنگ پورہ کی، جہاں ایک مسجد کو شہید کردیا گیا۔ ابھی بابری مسجد کا تنازعہ ہی حل نہیں ہوا ہے کہ پھر سے قوم کو مسجد کے جھگڑے میں الجھا دیا گیا۔ اول تو یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ وقف بورڈ کی زمین ہے، لیکن اگر نہ بھی ہوتی تو کسی مسجد کو شہید کرنے یا مندر کو ڈھانے سے پہلے کیا ذمہ داران کا یہ فرض نہیں کہ اس علاقہ کے سرکردہ لیڈران یا مذہبی لیڈران کو بلا کر اس بات سے آگاہ کیا جائے کہ یہ مندر یا مسجد غیرقانونی ہے اور اس کی ملکیت فلاں کی ہے۔ ایسی اندھیر نگری کہ راتوں رات مسجد کو شہید کردیا جائے اور صبح جب نمازی وہاں نماز پڑھنے جائیں تو ملبے کا ڈھیر ملے۔ ہم نے ہمیشہ ہی کوشش کی کہ ایماندارانہ طور پر صحافت کا فرض ادا کریں اور زرد صحافت سے خود کو الگ رکھیں۔ ساتھ ہی مسلمانوں کے مسائل کو قومی سطح پر دیکھنے کی کوشش کریں۔ خود مسلمانوں سے بھی ہمیشہ اپنے اخبار کے ذریعے یہ اپیل کی کہ وہ جذباتی اور اشتعال آمیز تحریروں سے پرہیز کریں اور اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر زیادہ دھیان دیں، لیکن صرف ہمارے اپیل کرنے سے کیا ہوتا ہے، جب شرپسند عناصر ہمیں چھیڑ کر نکل جائیں اور ہمارے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرکے ہم کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کردیں تو پھر اس موضوع پر قلم اٹھانا ہمارا فرض بن جاتا ہے۔ مسجد نور جو تقریباً 35 سال قبل وقف کی زمین پر قائم کی گئی تھی۔ ڈی ڈی اے کا یہ کہنا کہ یہ زمین اس کی ملکیت ہے اور سرکردہ لیڈروں کا کاغذات دکھا کر یہ ثابت کردینا کہ زمین وقف بورڈ کی ملکیت ہے، ڈی ڈی اے پر سوالیہ نشان لگانے کے لیے کافی ہے۔
ہم تو اس جھگڑے میں پڑنا ہی نہیں چاہتے کہ وہ کس کی ملکیت ہے۔ ہم بس اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ ایک جمہوری، سیکولر ملک میں جہاں ہر طرح کی تحریر و تقریر کی، نقل و حمل کی، مذہب و ملت کی پوری آزادی ہے، وہاں اگر ڈی ڈی اے کو یہ لگتا ہے بھی تھا کہ مسجد ان کی اراضی پر قائم کی گئی ہے تو بھی پہلے اس کے لیے باقاعدہ قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہیے تھی اور قانونی فیصلے پر عمل کرنے کے لیے مسلمانوں کو وقت دینا چاہیے تھا۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے نہایت خود غرضانہ اور متعصبانہ رویہ رکھتے ہوئے پھر سے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ یہ تو خدا کا شکر ہے کہ کوئی بڑا جھگڑا یا فساد نہیں ہوا اور ہمارے نوجوانوں کی جانیں محفوظ ہیں، کیوں کہ ہمیں یاد ہے پرانی دہلی میں اکثر جھگڑے فساد کے بعد کرفیو لگا دیا جاتا تھا اور ان جھگڑوں میں ہمارے کتنے ہی نوجوان شہید ہوجاتے تھے۔ قابل تعریف ہیں ہمارے مذہبی اور سیاسی رہنما جنہوں نے بروقت پہنچ کر مسلمانوں کے جذبات کو کنٹرول کیا اور مذمت کے لیے پرسکون طریقوں کا استعمال کیا۔ جس طرح جمعہ کی نماز پر پوری دہلی میں ہائی الرٹ رہا اور اسکول وکالج بند کردئے گئے، اس سے یہ بات تو ضرور سامنے آئی کہ حالات کشیدہ تھے، مگر ہمارے رہنماؤں نے اشتعال انگیز تقریریں نہ کرکے بروقت حالات کو سنبھال لیا، جس وقت ہم نے اپنے بچوں اور عزیز و اقارب کے بچوں کو اسکول جانے سے منع کیا اور انہوں نے معصومانہ سوالات کیے کہ ہم کیوں نہ جائیں؟ یا پھر مسجد کے ٹوٹنے سے ہمیں کیا مطلب؟ اس وقت دل خون کے آنسو رودیا کہ واقعی میں ان معصوموں کو کیا معلوم کہ یہ چال ہے ہمارے نوجوانوں اور ہمارے بچوں کو پھر سے ایک اور مسجد کے چکر میں الجھانے کی۔ وہ معصوم کیا جانیں کہ اسی طرح چھوٹے موٹے واقعات سے ہی گجرات جنم لیتا ہے۔ وہ کیا جانیں کہ ان واقعات و حادثات سے ہی ہمارے محلے اور علاقے ہفتوں کرفیو کی زد میں رہتے ہیں۔ اس مسجد پر جیسا کہ سبھی مسلم لیڈران کا رد عمل سامنے آیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اگر یہ زمین وقف بورڈ کی نہ ہوتی تو مسلمان اس پر مسجد تعمیر ہی نہ کرتے، کیوں کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ متنازع یا غصب کی گئی زمین پر نماز ادا نہیں ہوسکتی۔ ایسے میں لگاتار 35 برس سے اس مسجد میں پنجگانہ نماز ادا ہوتی ہے تو پھر یہ انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اور متعصبانہ رویہ ہی ہے، جس کی بدولت مسجد کو شہید کیاگیا۔ مسجد شہید ہوگئی اور شیلا جی صرف اور صرف ہمدردی کرنے کے لیے رہ گئیں اور مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش میں لگ گئیں۔ ان کی اور لیفٹیننٹ گورنر کی آپسی چپقلش سے کون واقف نہیں۔ شیلا جی نے اس موقع کو بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا اور چونکہ مسجد کی شہادت میں گورنر صاحب منسلک تھے تو وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوگئیں اور انہوں نے ڈی ڈی اے پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔ ایک بات ضرور قابل ستائش ہے کہ میڈیا نے پہلی بار ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اس خبر کو بڑھا چڑھا کر نمک مرچ لگا کر پیش نہیں کیا، جس سے کہ کوئی بھی بڑا حادثہ ہونے سے ٹل گیا۔ یہ ضرور ہوا کہ احتجاج کرنے والوں پر پولس نے بے دریغ لاٹھیاں برسائیں، جس سے کافی لوگ زخمی ہوئے۔ ایسا پہلی بار ہوا کہ کوئی خبر 3 دن میں پوری طرح عوام تک اور میڈیا تک پہنچی، کیوںکہ سبھی اخباروں نے اس خبر کو لیا بھی اور ہر طرف سے مذمت بھی ہوئی۔ صرف اردو اخباروں نے ہی اس خبر کو نہیں لیا، بلکہ ملک کے سبھی ہندی ، انگریزی اخباروں نے اس خبر کو جگہ دی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ جب ملک کے عوام اور خاص طور پر اقلیتی فرقہ کے لوگ روزگار، تعلیم، مہنگائی جیسے مسائل سے نبردآزما ہوتے ہیں، اس وقت ملک کی سبھی سیاسی پارٹیاں مل کر کوئی نہ کوئی ایسا کھیل، کھیل جاتی ہیں جب پھر سے ہم مندر مسجد کے جھگڑے میں ہی الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ اس وقت پورا ملک مہنگائی کی مار سے بے حال ہے۔ پیاز، لہسن، آٹا، دال، چاول، گوشت اور سبزی کوئی ایسی چیز نہیں، جس کے دام آسمان نہ چھو رہے ہوں۔ ایک عام آدمی کے لیے زندگی کی گاڑی کھینچنا مشکل ہورہا ہے۔ بچوں کی تعلیم اتنی مہنگی ہوتی جارہی ہے کہ والدین یہ فیصلہ نہیں کر پارہے کہ ان کو اچھا پڑھائیں یا اچھا کھلائیں۔ ایسے میں ان کو مندر مسجد کے جھگڑے میں الجھا دینا سوچی سمجھی سازش نظر آتی ہے۔ حکومت مہنگائی پر کئی دن تک میٹنگ کرتی ہے اور پھر یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کردیتی ہے کہ مہنگائی کا جن اس کی بوتل میں نہیں سما سکتا۔ وزیر خزانہ، وزیر مالیات، وزیر داخلہ، وزیر خوراک وغیرہ اس کے علاوہ کابینہ سکریٹری اور خود وزیر اعظم اس میٹنگ میں شریک رہے اور نتیجہ کچھ نہیں نکلا صرف ایک فیصلے کے کہ پیاز کے گوداموں پر اور ذخیرہ اندوزوں پر چھاپے مارے جائیںگے۔ اس سے بھی زیادہ مزے دار بات یہ کہ حکومت اقدامات بعد میں کرتی ہے اور اعلان اتنے پہلے کردیتی ہے۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ سب خبردار ہوجائیں اور خود کو بچانے کے مواقع تلاش کرسکیں۔ خیر یہ ہم کہاں اٹک گئے آٹا دال پر، لیکن کیا کریں اس دائرے سے کیسے نکلیں، جب کہ مہنگائی نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ پھر گھوٹالے اس قدر کہ گنتے گنتے تھک جائیں۔ 2 جی اسپیکٹرم، کامن ویلتھ، بوفورس، آدرش سوسائٹی اور ساتھ ساتھ ججوں کی بدعنوانیاں ان کے کالے کرتوت، یوں سمجھیے کانگریس حکومت پوری طرح ناکام ثابت ہوچکی ہے تو ایسے میں خود پر سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ اس کی نئی سازش معلوم ہوتی ہے کہ جہاں جیسے بھی کچھ اور سرگرمیاں پنپ سکیں اچھا ہے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دہلی یعنی ہندوستان کے دارالخلافہ میں جہاں سپریم کورٹ ہے، جہاںصدر اور وزیراعظم رہتے ہیں، جہاں پارلیمنٹ ہے، وہاں حکومت کی ناک کے نیچے ایک مسجد کو راتوں رات شہید کردیا جائے۔ لیفٹیننٹ گورنر کے پاس کیا اتنے اختیارات ہیں کہ وہ کوئی بھی ایسا فیصلہ(جن کے نتائج بھیانک ثابت ہوسکتے ہوں) اکیلا لے سکے۔ سب کی ملی بھگت ہے۔ اب ملائم ہوں یا اعظم خاں یا شیلا جی زخموں پر جیسے بھی مرہم لگانے کی کوشش کریں، یہ بات تو طے ہے کہ جب بھی ہندوستان میں تھوڑا سکون ہوتا ہے تبھی ہندو مسلم کو لڑانے کے لیے ایسا داؤ کھیلا جاتا ہے کہ جس سے سب کچھ بھول کر ہم بس آپسی لڑائی میں ہی الجھ جاتے ہیں۔ مسجد نور کی شہادت یہ بھی اشارہ کرتی ہے کہ اب شاید کوئی بھی مسجد محفوظ نہیں، کیوں کہ حکومت سوتی رہی اور مسجد شہید کردی گئی۔ ہائی کورٹ نے مسجد کو شہید کرنے کا آرڈر نہیں دیا۔ لیفٹیننٹ گورنر ڈی ڈی اے اور دہلی گورنمنٹ کے ہوم ڈپارٹمنٹ کے پاس 16 جون 2009 کو ہوئی، جس ریلیجیس کمیٹی کی میٹنگ کی بات کہی جارہی ہے، اس میں شامل ممبران کے نام اور نکات نہیں ہیں۔ اس کے برخلاف دہلی وقف بورڈ نے ڈی ڈی اے کو 26 اکتوبر 2010 کو یہ اطلاع دیدی تھی کہ 30 سالہ پرانی یہ مسجد دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ 1947-48 کے جمع بندی گزٹ نوٹیفیکیشن سے خریدی گئی ہے، اس کے باوجود اس کا شہید کیا جانا یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ موجودہ حکومت کے دل میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ سچر کمیٹی، رنگناتھ مشرا کمیشن سفارشات، وزیراعظم کے 15 نکاتی پروگرام سب ٹھنڈے بستے میں ڈالنے اور دور سے لبھانے اور للچانے کے لیے ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *