اگرپھرسے نریندرمودی جیت کرآئے تو50سال پیچھے چلاجائے گا ملک

Share Article

10 مارچ کو الیکشن پروگرام کا اعلان ہوا اور کہتے ہیں کہ ضابطہ اخلاق اس دن سے لاگو ہوگیا۔ میرے لئے ذاتی طور پر سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ پروگرام کا اعلان ہو گیا، شبہ تھا کہ پروگرام کا اعلان نہیں کریں گے یا کسی نہ کسی بہانے سے الیکشن ٹالیں گے ۔ پلوامہ ، بالاکوٹ کا جس طرح سے ذکر ہورہا تھا یا کوئی اور تماشہ کرکے ملتوی کردیتے۔ چلئے دیر آیا درست آیا ، انہوں نے پروگرام کا اعلان کردیااور کر دینا چاہئے تھا ۔ ایک ہفتہ پہلے ،کوئی بات نہیں ۔

 

Image result for modi

 

10 تاریخ کے بعد 8 تاریخ ہو گئی ہے ،تشہیر مہم دھیرے دھیرے زورپکڑرہی ہے۔ الگ الگ مرحلے میں الیکشن ہے ۔روز کاغذات نامزدگی داخل ہو رہے ہیں ۔جو بھی عمل ہوتا ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ انتخابات تو ہر پانچ سال میں ہوتے ہیں۔پارٹیوں کی زبان میں گراوٹ ہے، ان کے پروگرام میں گراوٹ ہے بلکہ کیا مثبت ہے، اس کا ذکر ہی نہیں ہے اور خوف کا ماحول پھیلانا یہ ایک نئی چیز ہندوستان کی سیاست میں ہوئی۔ 1977 مجھے یاد آتا ہے جب اندرا گاندھی کے یہاں ایمرجنسی تھی ،تخریبی اور خوف کاماحول فطری تھا اس میں بھی ایسی مہارت نہیں دیکھی ۔اب آج یوپی کے ایک آئی پی سنگھ صاحب کوئی ہیں، 6 سال کے لئے بی جی پی نے ان کو معطل کر دیا، کیونکہ انہوں نے ایک بیان دیا کہ 5 سال سے دو گجراتی ٹھگ ملک کو الو بنایا ۔فطری ہے اس کو سچ بولنے کے لئے معطل کرنا ضروری ہے کہ ہماری پارٹی میں رہ کر تم ہم ہی کو گالی دے رہے ہو، لیکن اہم بات وہ نہیں ،اہم بات یہ ہے کہ کسی نے بولا تو صحیح…….، کسی نے بولا تو صحیح…….، کسی نے بولا تو صحیح……، دکھتی رگ پر ہاتھ تو رکھ دیا اس نے کہ دو گجراتی پارٹی چلا رہے ہیں۔یہ حالت ہو گئی بی جے پی کی۔ یہ ایک شخصی پارٹی،شخصی سوچ، سرکار، کردار چہرہ، چال، بڑی بڑی باتیں جو کرتے تھے۔ بالا صاحب دیوراج، گووند آچاریہ ،ہم کانگریس کی طرح نہیں ہیں ،پاور میں آنے کیلئے لفٹ نہیں ہیں۔ ہم یہ کرتے ہم وہ کرتے ہیں کہاں گئی یہ سب باتیں۔آپ نے دکھا دیا کہ موقع ملتے ہی آپ کانگریس کے باپ ہیں۔کانگریس میں اتنی گراوٹ آئی ہی نہیں کبھی اور آپ اتنا ڈرتے ہیں کہ اڈوانی جی کو الیکشن میں بولنے کی ہمت ہی نہیں ہیں ۔آپ کو اور مودی جی کو خود ان کے گھر جانا چاہیے تھا اور بولنا چاہیے تھا کہ ہم لوگ نئے لوگوں کو لانا چاہتے ہیں، مرلی منوہر جوشی کو خود بولنا پڑا ،فون کروایا اور رام لال ہیں،جوان کے آرگنائزرہیں ،اتنا گھٹیا اورنیم کوٹی کے سلوک رکھتے ہیں

 

Image result for modi

 

میں براہ راست کانگریسی نہیں ہوںاور نہ ہی میں کانگریس کی طرف داری کررہاہوں،میں کانگریس میں کبھی رہا ہی نہیں ۔اس لئے بولنے کی ضرورت نہیں ہے کہ پپو کوسپورٹ کر رہے ہیں یا پاکستان چلے جائیے یہ سب بکواس مجھے سننے کی ضرورت نہیں ہے۔
بطورسچے ہندوستانی ،ہندوستان پرفخرہونے کے ناطے میں کہناچاہتاہوںکہ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ میں اس سے گھٹیا حکومت کبھی نہیں تھی ،اس سے گٹھیازبان کا استعمال کوئی پرائم منسٹر کیا ہی نہیں۔پارٹی کا آدمی بول سکتا ہے کہ وزیر اعظم کی کرسی ایک اہم کرسی ہے ۔اس پر بیٹھنے کیلئے زبان کومحتاط رکھنااور نہیں رکھ سکتے ہیں تو استعفیٰ دیجئیاور زبان کاپروپیگنڈہ کیجئے۔ پارٹی وزیراعظم کا عہدہ آپ کو زبردستی دی ہے کیا؟وزیراعظم کا وقار ، کہنے اور اس کرسی پر بیٹھے رہنے اور ایسی زبان کا استعمال کرنا کون کس ممالک کا وزیراعظم ہے؟ کوئی افریقہ کا نہیں انڈیا کاہے۔ دنیا کی ایک چھٹواں حصہ آبادییہاں رہتی ہے ۔130 کروڑ عوام کا جو نمائدہ ہے جیساراجہ ویسا پرجہ ۔ جیسی زبان آپ استعمال کریں گے، آپ کیا مثال مرتب کررہے ہیں۔ انوکھی زبان تو آپ کی نہیں ہے، آپ کیا چاہتے ہیں۔ عوام ان باتوں کا تجزیہ کریں، یانے کرے۔ ایک بہت پرانی کہاوت ہے، ہماری انتظامیہ میں ایک کمپنی کا سربراہ تھا ،اس کو لوگوں نے کہا دیکھئے آپ کی کمپنی میں پانچ سو آدمی کام کر رہے ہیں۔ آپ کے دو آنکھیں ہیں، پانچ سو آدمیوں پر آپ نظر نہیں رکھ سکتے ہیں لیکن وہ ہزار آنکھیں ہیں ،وہ آپ پر نظر رکھ رہے ہیں۔ آپ کی چھوٹی سی غلطی ہو گی تو کوئی نہ کوئی دیکھ لے گا۔ یہ بات وزیر اعظم پر لاگو ہوتی ہے ۔آپ کے پارٹی کے جو ساتھی ہیں یا بھانڈ ہیں، آپ جو بولتے ہیں اسی کا پروپیگنڈہ الگ الگ زبان میں کرتے ہیں ،وہ آپ کو بولتے ہیں تالی بجاکر، ارے کیا خطاب کیا آپ نے، اس کا کیا استعمال ہے۔آپ کواپوزیشن جماعت کچھ بولے اس کی کیا اہمیت ہے۔ جواہر لال نہرو کی تعریف کرتے تھے اٹل بہاری واجپئی۔اوراٹل جی وہاں تم سے نہیں ملتے تھے، اٹل بہاری واجپئی کی تعریف کرتے تھے جواہر لال۔نظریات کا ملنا ضروری نہیں ہے لیکن ایک فطری طورپر، ایک میرٹ پر ایک دوسروں کی تعریف کرنا تو بنتا ہے نا، آپ نے تو سب چھوڑ دیا۔

 

Image result for modi

 

اب الگ الگ تجزیہ ہے ،الیکشن میں کیاہوگا۔میں 100 فیصد بی جے پی تو نہیں آ سکتی کیونکہ پیمائش کیا ہے امیریکہ میں انگلینڈ میں پول ہوتا ہے، گیلپ پول دو ہزار، پانچ ہزار آدمیوں سے اوپنین پوچھنے کے بعد نتیجہ بول دیتے ہیں۔ انڈیا میں ایسا ہونہیں ہو سکتا کیوںکہ پہلی بات تو یہ یہاں اتنے وسائل نہیں ہے کہ اتنے لوگوں سے پوچھ سکے ۔مان لیجئے کریں تو بھی انڈیا میںبے ایمانی تو کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے جو آدمی پیسہ خرچ کرے گا وہ اپنی من کی بات کہلائے گا۔حقائق سے کوئی مطلب نہیں ہے، لیکن اس سے آگے بھی ایک پروبلم ہے انڈیا میں وہ کیا کہ ووٹر بھی اپنا مائنڈ نہیں بتائے گا۔ اتنا ہوشیار ہے یہاں کا ووٹر آپ جائیں گے پوچھنے آپ کس کو ووٹ دیں گے، تو دیکھ لیا کہ یہ ملائم سنگھ کے لوگ ہیں ہم تو نیتا جی کو ووٹ دیں گے۔ اکھلیشکو دیں گے اور کس کو دیں گے۔تو یہاں پہ اوپنین پول لینا قابل اعتماد ہو ہی نہیں سکتا۔ ایک آدمی دیکھا ہے ابھی ابھی تین جگہ پول ہوئے ہیں۔ایک بھی پول کریکٹ نہیں ہوئے ہیں کیونکہ ووٹر اپنا مائنڈ نہیں بتاتے ہیں۔ آپ کو آپ کیا کریں گے تو وہ پیمائش انڈیا میں ہے ہی نہیںکہ پول کیا بول رہا ہے۔ دوسرا پریس اور ٹی وی کیا بول رہا ہے۔ وہ پیمائش آپ نے ختم کیا۔ وہ 2014 سے پہلے تھا اور اب آپ نے اتنا پیسہ دیا سب کو کہ وہ اب آپ کی زبان بول رہے ہیں۔ وہ پہلے آپ کوکلیرینس دے دیتے ہیں کہ کیا بولیں ہم۔ اخباروں کو جتنا نقصان ہوا ان پانچ سالوں میں، قابل اعتماد پریس کی فریڈم معقول ہے۔فلم آف دی پریس فریڈم وہی ہے راجا کی تعریف کرے تو فریڈم ہے۔تنقیدکرے تو دبانے کی کوشش ہوتی ہے تو پریس کا بھی مطلب نہیں ہے ۔ہمارے اونچے طبقے سے جو آتے ہیں سماج میں اپنے چاروں طرف دیکھتا ہوں تو بولتا ہے کہ مودی آنے والا ہے کیونکہ وہ تمام ان ٹی وی سے ہیںجیسے ٹائمز ناؤ، ری پبلک وہ بھانڈ ہیں یہ سارے ٹی وی ہے ہی نہیں، میں دیکھتا ہی نہیں میری اگر عقل بچی ہوئی تو میں ٹی وی آف کر دیتا ہوں۔

 

Image result for modi

 

ٹی وی دیکھنا ہے تو انٹرٹینمنٹ دیکھو ،کوئی بیرن ملک کی ٹی وی دیکھو این ڈی ٹی وی ایک چینل ہے جو میں دیکھتا ہو ں لیکن تھوڑا سا روپیج بولتا ہے۔بیرون ملککے اینالیسس ہے کہ 57 فیصد لوگ این ڈی ٹی وی دیکھتے ہیں، آپ بولتے این ڈی ٹی وی کچھ نہیں ہے۔ گاندھی وادھی نے ان کوپیسے دے رکھا ہے ،مودی نے پیسے دے رکھا کوئی نہیں بول رہا کسی کو۔ سب کو دے رکھا ہے امت شاہ نے سب کو پیسے دے رکھا۔ ان کی باتوں پہ آئیے، میرا تجزیہ یہ ہے کہ ا لیکشن یہ نہیں جیت رہے ہیں ان کی زبان سے جیتنے والے کی زبان یہ نہیں ہوتی ہے جو اس کا استعمال کر رہے ہیں۔ جواہر لال نہرو کو نہیں بھول پاتے ہیں۔ روی شنکر پرساد ان کے ایک وزیر ہیں وہ کہتے ہیں کہ پرینکا گاندھی 2011 میں ایک زمین خریدی 15 لاکھ روپے میں ۔کتنے میں 15 کروڑ نہیں 15 لاکھ روپے میں اور وہ چار سال میں ہوگئی 84 لاکھ روپے کی۔کیسے ہو سکتا ہے 15 لاکھ سے 84 لاکھ ہو گیا تو آپ تو گئے۔کل آپ کو ان کی گاڑی کا نمبر لیں گے۔گاڑی کا ماڈل لیں گے مطلب آپ گئے۔ ارون جیٹلی صاحب دوست بھی ہیں ہمارے۔ میں انہیں بہت عقل مند سمجھتا تھا، کارپوریٹ وکیل ہیں وہ بھی اپنا سنس آف کوآپورشن کھو چکے ہیں۔ ان کے ٹویٹ سے وہ بھی اتنی ہلکی پھلکی چیزیں لے رہے ہیں ان سے توقع نہیں ہیں ،ہمیں پہلی بات یہ امید نہیں ہے کہ کسی بیوقوف نے مودی کو سمجھا دیا کہ چوکیدارلکھو۔ میں مودی کو میں بلیم دے نہیں سکتا کیونکہ اس کا کوئی بیک گرؤانڈ ہے ہی نہیں۔ پڑھا لکھا بھی نہیں ہے ۔کچھ نہیں ارے بھائی عقل مند لوگوں کو بولنا چاہیے ۔ہمیں اسکیپ میں نہیں پڑنا چاہیے، اپنے آپ کوچوکیدار بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، آپ لکھنا شروع کر دیں۔ ایک سبرامنیم سوامی ہیں ان کے یہاں، انہوں نے لکھا کہ میں چوکیدار نہیںہوں۔ میں چیوکیدار کبھی بنوں گا بھی نہیں اور جو چوکیدار ہے ان کوحکم دوںگا۔ دیکھئے چوکیدار بول کر بھی آپ ڈیموکریسی کا ماحول بنا رہے ہیں۔ لوگ آپ پر الزام لگا رہے ہیں کہ آپ نے رافیل ڈیل میں چوری کی ہے اور وہ چوری لفط بھی اچھا لفظ نہیں ہے ۔لیکن راہل گاندھی نے کہا کہ چوکیدار چور ہے تو آپ کا کام ہے اس کا دفاع کریں۔ چوکیدارالفاظ کہہ کر آپ چوکیداروں کی بے عزتی کریں گے ۔ ایک لڑکا کلکتہ میں ٹی وی پر آیا وہ بیان دیا کہ چوکیدار ہم نیپال سے لے آئیں گے۔ آپ کو وزیر اعظم بنایا ہے ہم نے اپنی بات کہی اس لئے آپ لوگ کہتے ہیں کہ نیا جنریشن آ رہا ہے وہ پرانے عقائد کو نہیں مانے گا۔ بے وقوف زیادہ ہے انڈیا میں اور اخباروں میں مزید اعداد و شمار نکال دیں گے۔ اخبار بھی آپ ہی کے ہے نا۔ نیا جنریشن ووٹ کس کو دے گا امت شاہ جی کو ،ٹھگ کویا راہل گاندھی کو، وہ راہل گاندھی کو ووٹ دے گا۔ میں کانگریس میں نہیں ہوں، میں پھر کہہ رہا ہوں میں نہیں کہتا کہ راہل گاندھی کو جیتنا چاہیے یا نہیں۔ آپ راہل گاندھی کو جتوا رہے ہیں، راہل گاندھی کا کہیں نام نہیں تھا۔3 سال پہلے پپوپپوبول کے آپ نے اسے لیڈر بنا دیا، وہ زبان میں فرق دیکھئے ،آپ گالی دیتے ہیں اور وہ خطاب کرتاہے ۔نوجوان کو میں ایک رائے دیتا ہوں۔ اسٹوڈنٹ کو غصے اور رنجش سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے پیار ومحبت اور مقابلے سے کچھ حاصل ہوتا ہے۔ اپنا غصہ ٹھنڈا رکھئے، رنجش کسی سے نہ رکھئے اور صحیح کام کرئیے۔ وہ تو 50 سال کا نہیں ہے ابھی 1970 میں پیدا ہوا 48 یا 49 کا۔ اس کی زبان آپ سے زیادہ اچھی ہے۔ اٹل بہاری واجپئی، لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی وغیرہ تو آشرواد دینا چاہئے راہل گاندھی کو جو ہماری پارٹی کی تہذیب ہے وہ تم آگے بڑھا رہے ہو ہمارے والے تو رددی نکلا۔ ایسے کانگریسی بھی کم ہے ، جیسے پاکستان میں ایک پویٹ ہے نا ،میں بھول رہا ہوں انہوں نے پویٹری لکھی انڈیا کے بارے میں اس حکومت کی حرکتیں دیکھ کر ارے آپ تو ہمارے جیسے ہی نکلے ۔ہم سمجھتے تھے آپ تو کچھ ٹھیک ہیں ہمارے یہاں تو یہی چلتا ہے وہی بات آج کانگریس والے کو بی جے پی کو بولنا چاہیے۔میں تو بولوں کم از کم آپ تو کانگریس جیسے نکلے، کانگریس یہی کرتی تھی۔ الیکشن ہارگئے پیسہ ویسا دے کر اس کو خرید لو، شراب وراب پلا کر حکومت بنالو ۔اپنی اس بات کے اڈوانی جی خلاف تھے ،اٹل جی خلاف تھے۔ آج آپ نے گوا میں کیا، منی پور میں کیا۔آپ کیا سمجھتے عوام آپ کو معاف کر دے گی۔ آپ کو کیا لگتا ہے عوام سوئی ہوئی ہے، آنکھ بند ہے، بالکل نہیں انڈیا کی عوام سمجھتی ہے ،سمجھ لو کی زبان بند رکھو۔ بیلٹ باکس میں جواب دیں گے۔ ہم لوگ دینے کے بعد بولیں گے ہاں جی آپ ہی کو دیا ہے ووٹ بیلٹ باکس کھلے گا تو معلوم ہوجائے گا کہ کس کو ووٹ دیا ہے، اس غلط فہمی میں بی جے پی کو قطعی نہیں رہنا چاہیے کہ وہ یقینی الیکشن جیت رہے ہیں،ٹکر ہی ٹکر ہی ہے۔ہاں کانگریس کی حکومت سب جگہ نہیں ہے۔ کانگریس آپ سے پچھرے گی لیکن اکھلیش مایاوتی کو لالو یادو کو ،نوین پٹنائک کو ،ممتا بنرجی کو ان کو ہلکے میں لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور آپ ہلکے میں لیتے بھی نہیں، کیونکہ اگر اکھلیش اور مایاوتی متحد نہیں ہوتے تو سپریم کورٹ میں آپ ایسٹ والا کیس اور سی بی آئی یہ دوسری بات ہے اب الیکشن کا عمل شروع ہو گیا ہے نا سی بی آئی ایک بندوق ہوتی ہے ،آپ بندوق سے ڈرا دیتے ہیں اب یہ بندوقیں بچوں کی پلاسٹک کی پستول ہے۔ آج اگر آپ سی بی آئی کی بات کریں تو لوگ ہنسیں گے سی بی آئی تو نوکر ہے کام تو کریں گے۔ اب ادھر جاکر وہ خود بولیں گے کہ ہم کو توحکم ہوا ہے کام تو کریں گے۔آپ اپنا الو سیدھا کرلو۔آپ جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ آپ سمجھ رہے ہیں کہ آپ جو بول دیا وہ فائنل ہے، آپ انڈسپینسیبل ہیں اور نیا چلا ہے مودی کے سوا اگر آج مودی تو امر نہیں ہیں اور اگر آج ان کو کچھ ہوگیا تو ہندوستان بند ہو جائے گا۔ کیا بول رہے ہیں آپ، لوگ کیا کر رہے ہیں، آپ لوگ ارے ہندوستان سناتن دھرم ہندو ہیں، آپ لوگ لیکن آپ سے بڑا ہندو میں ہوںڈ سناتن ہے ہمارا دھرم، ہماری سوچ ہے ہماری جو فلسفہ ہے جو سناتن ہے وہ ہمیشہ کے لئے لاگو ہوتا ۔آپ بولتے ہیں کہ ایک آدمی کے جانے سے وہ ختم ہو جائے گا سب کچھ۔ پانچ سال آئین کو آپ نے نقصان پہنچایا، عوام کے ہر طبقے کو نقصان پہنچایا، چاہے کسان ہو ، چاہے چھوٹا تاجر ہو، چاہے نوٹ بندی ، جی ایس ٹی جو بھی ہو سب کو نقصان پہنچایا اور اس سے زیادہ آپ نے نقصان پہنچایا آر ایس ایس کی ثقافت، بی جے پی کی طریقہ کارکو ۔ اب اس پارٹی کو دو لوگ چلا سکتے ہیں، دو گجراتی ٹھگ چلا سکتے ہیں۔ حقیقت میں یہ پارٹی دقت میں آ گئی ہے کیونکہ اب اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی جی کی پارٹی تو ہے ہی نہیں۔ ان کو آپ نے آفیشیلی کنارے پر بٹھا دیا۔ کون چلائے گا پارٹی؟ روی شنکر پرساد، ارون جیٹلی، پرکاش جاویڈکر سارے راجیہ سبھا کے ممبر ہیں یہ لوک سبھا کا تو کوئی ہے نہیں کہ الیکشن جیت کر آپ ان کوذمہ داری دیں ایک راجناتھ سنگھ جی ہیں، نتن گڈکری ہیں ان کی آپ بات نہیں کرتے، ان سے آپ مشورہ نہیں کرتے۔ الیکشن رزلٹ تو صاف ہے۔ بی جے پی اکثریت سے آ نہیں سکتی۔ انہوں نے گھوم پھر کر الائنس کے ساتھ مل کر 283 سیٹیں ڈکلیئر کیا، ان کے اپنے مائنڈسیٹ 283 ہے۔ اتنا ہو گا نہیں 240 یا 250 ہوگا۔ لیکن پروبلم وہ نہیں پروبلم آپ کا تو 170 یا 180 ہوگا۔الائنس جو ہے وہ آپ کی بات ماننے والے نہیں ہیں۔ہر آدمی بحث کرے گا، ہر آدمی شرط رکھے گا۔ میں تعریف کرتا ہوں شرد پوار صاحب کی کہ آج وہ اپنی مینوفیسٹو میں لکھا ہے کہ ہم تین طلاق بل کو خارج کرتے ہیں ،بولیے خارج کرنے کی فہرست نکلنی چاہیے ۔اپوزیشن کی جانب سے کہ ہم پاور میں آئیں گے تو پہلے وہ خارج کریں گے ،لمبی فہرست ہے ۔ وہ جو تسلیم یہ لوگ چینج کی ہیں وہ ساری چینج کریے واپس تھرٹ پیلائیے جو ڈینائل ہو گئی ہے۔ ٹرین چل رہی تھی کبھی دھیرے سے یہ میں مانتا ہوں کانگریس تو پرفیکٹ تو ہوتا نہیں ترقی کم ہوئی یازیادہ ہوئی لیکن ٹریک پر تھی۔ وہ ٹریک آپ نے گرا دیا، واپس ٹریک پر لائیے جیسے ایمرجنسی میں ٹریک سے نیچے آگئی تھی واپس آ گئی ٹریک پر لائیے جو بھی حکومت آئے گی چاہے وہ بی جے پی لیٹ حکومت ہو تو بھی ٹریک پر واپس لائے گی۔ فطری ہے وہ مودی اور شاہ کی تنقید نہیں کر پائیں گے لیکن کریں گے سب اور کرنا پڑے گا اور اگر اس ملک کو بچانا ہے تو اس کی بچکانی حرکت نہیں چلے گی۔جب آپ لیٹر سنیے جس سے میرا دل توخوش ہو گیا کہ جاپان بلٹ ٹرین پروجیکٹ سے اپنا ہاتھ واپس کھینچ رہاہے۔ بیہودہ پراجیکٹ ہے ،وہ بیہودہ آئیڈیا ہے وہ اور جاپانی راضیہولیے اور اب دیکھ رہے ہیں جو زمین ایکوائر کی تھی وہ کری ہی نہیں۔ایک فیصد زمین ایکوائر نہیں ہوئی ہے تو جلد اعلان کریں اتنی جلدی فائدہ ہوگا۔انڈین سمجھیں گے کہ آنکھ میں دھل جھونکنے کا پروگرام ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *