اگر اس امتحان میں فیل نہ ہوتے تو اتنے عظیم نہیں بنتے کلام صاحب

Share Article
Dr. A.P.J. Abdul Kalam : Missile Man of India

 

بچپن میں کلام صاحب کا خواب ایئر فورس پائلٹ بننے کا تھا۔ وہ ایئر فورس کے امتحان میں بھی بیٹھے، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ انہیں ملک کی دوسرے طریقوں خدمت کر عظیم بننا تھا اور وہ ہوا بھی …

بھارت کے 11 ویں صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ان صدور میں سے رہے ہیں، جنہیں عوام کا سب سے زیادہ پیار ملا۔ جب وہ سائنسی تھے، تب بھی ملک میں ان کی شراکت کے لئے عوام نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا اور جب وہ صدر بنے تو اعلی ترین عہدے پر فائز ایک سادگی پسند شخص کی عوام اس بات پر قائل ہو گئی۔27 جولائی 2015 کو کلام صاحب کا انتقال ہو گیا۔ انہیں ان کی امتیازات وخصوصیات کی وجہ سے آج بھی اتنی ہی شدت سے یاد کیا جاتا ہے۔

Image result for missile man apj abdul kalam

اے پی جے عبدالکلام کی پیدائش 15 اکتوبر، 1931 کو بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے رامیشورم میں ہوا تھا۔ ان کا پورا نام ابو پاكر زین العابدین عبدالکلام تھا۔ ایک مچھوارے گھرانے میں پیدا ہوئے کلام صاحب کا بچپن انتہائی سہولتوں کی عدم دستیابی میں گزرا۔ ریاضی اور طبیعیات ان کے پسندیدہ سبجیکٹ تھے۔ تعلیم سے کلام صاحب کو اتنا لگاؤ تھا کہ وہ بس اسٹینڈ پر اخبار بیچ کر اپنا خرچ نکالا کرتے تھے۔

جب ایئر فورس کے امتحان میں فیل ہو گئے کلام صاحب
عبدالکلام کا خواب والی ایئر فورس جوائن کرنے کا تھا۔ بھرتی امتحان میں شامل ہونے والے 25 میں سے 8 امیدواروں منتخب ہونا تھا۔ کلام صاحب نویں نمبر پر رہے۔ ان کا خواب تو ٹوٹ گیا، لیکن قسمت میں کچھ اور ہی بڑا لکھا تھا۔ کلام صاحب کو کسی اور طریقے سے ملک کی خدمت کرنی تھی۔ انہیں ملک کا قیمتی پتھر بننا تھا، تاکہ برسوں تک انہیں یاد رکھا جا سکے۔

Image result for missile man apj abdul kalam

مدراس انجینئرنگ کالج سے انہوں نے ایئروناٹیکل سائنس کی تعلیم حاصل کی۔ 1962 میں انہوں نے بھارتی خلائی تحقیق تنظیم یعنی اسرو میں ملازمت شروع کی۔ ان کی ہدایت میں بھارت نے اپنا پہلا دیسی سیٹلائٹ لانچ جہاز یعنی پی ایس اے وی -3 بنایا اور 1980 میں پہلی سیٹلائٹ روہنی خلا میں قائم کیا گیا۔

میزائل ٹیکنالوجی میں شراکت کے لئے انہیں ‘میزائل مین کا نام ملا
خلائی تحقیق اور میزائل ٹیکنالوجی پر کلام صاحب نے خوب کام کیا۔ اس دور میں میزائل کا ہونا اس ملک کی طاقت اور اپنے دفاع کے مترادف سمجھا جانے لگا تھا۔ لیکن دنیا کے طاقتور ملک اپنی میزائل ٹیکنالوجی کو بھارت جیسے ملک کے ساتھ اشتراک نہیں کر رہے تھے۔بھارت حکومت نے اپنے گھر میزائل پروگرام بنانے کا کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ انٹیگریٹڈ میزائل ڈیولپمنٹ پروگرام کی ذمہ داری کلام صاحب کے کندھوں پر سونپی گئی۔

Image result for missile man apj abdul kalam

کلام صاحب کی قیادت میں ہی بھارت نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے درمیانہ فاصلے زمین میزائل، زمین سے ہوا میں کام کرنے والی ترشول میزائل، ٹینک شکن سانپ جیسی میزائل بنا کر دنیا میں اپنی دھاک جمائی۔اس کے بعد کلام صاحب ‘میزائل مین کے نام مشہور ہو گئے۔

Image result for missile man apj abdul kalam

1992 سے 1999 تک عبدالکلام وزیر دفاع کے سائنسی مشیر رہے۔ ان کے سائنسی مشیر رہتے ہی واجپئی کی حکومت میں پوكھر میں جوہری ٹیسٹ ہوا۔ اس میں کلام صاحب کی کردار انتہائی خاص تھی۔ ان انہی کامیابیوں کے سبب انہیں 1997 تک بھارت رتن سمیت تمام شہری اعزاز مل چکے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *