مـیـں بـھـی حـاضـر تھـا وہـاں…..

یوپی اردو اکادمی کے انعامات تقسیم
لکھنؤ:اترپردیش اردو اکادمی کی جانب سے گنا سنستھان میں وزیرتعمیرات عامہ وہاؤسنگ نسیم الدین صدیقی کی صدارت میں جلسہ تقسیم انعامات منعقد ہوا۔پروگرام کی نظامت شاہنواز قریشی نے کی۔اس موقع پر اردو اکادمی کی نائب صدر محترمہ ترنم عقیل اور سکریٹری امجد حسین نے مہمانوں کا استقبال کیا۔پروفیسر ولی الحق انصاری کو مجموعی خدمات کے لئے’’ مولانا ابوالکلام آزاد یوارڈ‘‘پانچ لاکھ روپیہ،پی پی شریواستو رند( نوئیڈا )کو’’امیر خسروایوارڈ‘‘ ایک لاکھ پچاس ہزار روپیہ، مجموعی ادبی خدمات کے پانچ انعام ایک ایک لاکھ روپئے کے پروفیسرسید امین اشرف علی گڑھ (برائے شاعری) سید محمد اشرف مارہرہ(برائے فکشن) پروفیسر ابوالکلام قاسمی علی گڑھ(تحقیق وتنقید) محسن خاں لکھنؤ (برائے اطفال ادب)ڈاکٹر اوصاف احمد نوئیڈا(برائے سائنس واسلامی بینکنگ)پریم چند انعام  سید جعفر رضا الہ آباد(ایک لاکھ روپیہ)،صحافتی خدمات کے لئے دو انعام مبلغ پچاس ہزار روپیہ عبیداللہ ناصر، ایڈیٹر قومی خبریں(پرنٹ میڈیا)اوما چکبست( الیکٹرانک میڈیا) کو وزیر نسیم الدین صدیقی نے اپنے ہاتھوں سے دئے۔اس کے ساتھ ہی انعام یافتگان کوشال اور شیلڈ سے بھی نوازا گیا۔اس موقع پر وزیر کابینہ نسیم الدین صدیقی نے کہا کہ وزیراعلی محترمہ مایاوتی نے اکادمی کی گرانٹ بڑھا کرتین کروڑ اکیاون لاکھ روپے کردی ہے۔اس موقع پر ادیبوں اورشاعروں کے علاوہ وزیر اعلی کے صلاح کار جمیل اختر،یوپی مدرسہ بورڈ کے چیئرمین انورجلا ل پوری، فخر الدین علی احمد کمیٹی کے چیئرمین صلاح الدین مسن اور اردو اکادمی کے افسران اور ملازمین بھی موجود تھے۔
’’ایک شام اردو کے نام‘‘عنوان سے ادبی تقریب
جھانسی:ملت ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام راجکیہ سنگھرالیہ میں ’’ایک شام اردو کے نام‘‘عنوان سے ادبی تقریب،کل ہند مشاعرہ اور رسم اجرا کا اہتمام کیا گیا۔جس کی صدارت میرٹھ کالج کے صدر شعبۂ اردو پروفیسر خالد حسین خاں نے کی۔جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،دہلی کے وائس چیئرمین چندر بھان خیال نے شرکت کی۔تقریب میں چندر بھان خیال نے کہا کہ اردو کی تنزلی و انحطاط کے لے موجودہ حکومتیں ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ اردو کی ترقی کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں وہ بھی اردوکے تئیں سنجیدہ نہیں ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر خالد حسین خاں نے کہا کہ ہمیں اس بات کو کبھی بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اردو کی ترقی اور فروغ میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔مولانا فروزخان ندوی نے مہمانوں کا تعارف کرایا۔
اس موقع پر سوسائٹی کی جانب سے چندر بھان خیال کو مجاہد اردو ایوارڈ ، پروفیسر خالد حسین خاں کو سرسید احمد خاں ایوارڈ، رمن لال رمن لکھنوی کو کرشن بہاری نور ایوارڈ ،بی ایس جین جوہر کو سیماب اکبر آبادی ایوارڈ، رمیش چندر پوہال کومولانا الطاف حسین حالی ایوارڈ، انل شرما درویش کو فراق گورکھپوری ایوارڈ، حاجی سعید عالم کو ہیرانند سوز ایوارڈ،عبدالغفور کیف کو نادر پول ایوارڈاور فہیم فاکر کو خادم اردو ایوارڈ سے نوازا گیا۔تقریب میں بی ایس جین جوہر کے شعری مجموعہ ’خواب و خیال‘ اور رمن لال اگروال کے شعری مجموعہ ’ذکر وفا‘ کی رسم اجرا عمل میں آئی۔اس موقع پرمشاعرہ کا بھی اہتمام کیا گیا۔
مخمور سعیدی کی یاد میں پروگرام
نئی دہلی:مخمور سعیدی ایک بڑ ے نثرنگار ، مترجم، مستند شاعر اور ایک عظیم انسان تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اردو زبان و ادب کی خدمت میں صرف کر دی۔ ان خیالات کا اظہار غالب اکیڈمی  حضرتنظام الدین نئی دہلی میں دہلی اردو کلب اور آزاد اسٹڈی سرکل کے زیر اہتمام اردو اکادمی دہلی کے تعاون سے مخمور سعیدی کی یاد میں منعقد پروگرام کے دوران پروفیسر اختر الواسع نے کیا۔ انہوں  نے کہا کہ مخمور سعیدی ترقی پسند تحریک کے خلاف جدید یت کی تحریک کے حامی تھے۔ڈاکٹر جی آر کنول نے کہا کہ مخمور سعیدی نے اپنی زندگی میں معیار کو سب سے زیادہ ترجیح دی۔ دہلی اردو اکادمی کے سکریٹری انیس اعظمی نے اردو اکادمی میں مخمور سعیدی کے گزارے ہوئے وقت کی بیش قیمت یادوں کو بیان کیا۔ اس موقع پر نارگ ساقی نے بھی اظہارخیال کیا۔پروگرام کے کنوینر جتندر پرواز نے اظہار تشکر کیا۔ پروگرام کی نظامت شہباز ندیم ضیائی نے کی۔اس موقع پر ایک مشاعرہ کابھی انعقاد کیا گیا ۔
غالب اکیڈمی میں جلسہ تقسیم انعا ما ت و اسناد
نئی دہلی:غالب اکیڈمی بستی حضرت نظا م الدین نئی دہلی میں جلسہ تقسیم انعا مات واسناد کا انعقاد کیا گیا،جس میں ایم اے اردو کے ٹاپرس کو2000/- روپے،بی اے اردو میں ٹاپرس کو 1500/-روپے غالب اسٹڈیز کے پرچے میں سب سے زیادہ نمبر پانے والے طلبا کو1500/-روپے کے انعامات دیے گئے اور غالب اکیڈمی کے کمپیو ٹر کورس کے طلبا کو کمپیو ٹر ڈپلومہ اور اردو ڈپلومہ کی اسناد تقسیم کی گئیں۔ جلسے میں پروفیسر معین الدین جنابڑے نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ جبکہ جلسے کی صدارت پروفیسر شمیم حنفی نے کی۔
لیبیا پر امریکی حملہ کی مذمت
نئی دہلی: عالم عرب کی موجودہ تشویش ناک صورت حال خاص طور سے شمالی افریقی ملک لیبیا کے حالیہ سیاسی بحران پر شدید رنج و غم اور لیبیائی عوام کعے ساتھ مصیبت کی اس گھڑی میں یک جہتی اور ہمدردی کا اظہار کر تے ہوے آل انڈیا تنظیم علماے حق کے قومی صدر اور متحدہ ملی محاذ کے قائد مولانا اعجاز عرفی قاسمی نے کہا کہ امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحادی افواج کا لیبیا پرفضائی حملہ عالمی قوانین او راقوام متحدہ کے بنیادی منشور کے خلاف ہے۔ اقوام متحدہ کو اتحادی افواج کے اس ناجائز، جارحانہ اور ظالمانہ اقدام کا سخت نوٹس لیتے ہوے اتحادی افواج کو فوراً وہاں سے نکل جانے کی قرار داد پاس کر نی چاہیے۔ ورنہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کو عراق اور افغانستان کی طرح وہاں بھی اپنے قدم جمانے اور اس کے تیل کے چشموں پر قبضہ کر نے کا موقع مل جا ے گا۔
مولانا عرفی قاسمی نے امریکی مظالم اور عالم عرب کے تعلق سے اس کی جانب دارانہ پالیسی پر سخت نکتہ چینی کر تے ہوے کہا کہ اس طرح ہر ملک کو دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر نے کا موقع مل جا ے گا اور اس سے عالمی پیمانے پر ایک غلط نظیر قائم ہو نے کا قوی اندیشہ ہے۔ انھوں نے عالم عرب کو اتحاد واتفاق کے عملی مظاہرے اور جمہوری اصولوں کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور و خوض کر نے کی اپیل کر تے ہوے کہا کہ اگر عالم عرب نے اب بھی عقل کے ناخن نہیں لیے، اور خواب خرگوش سے بیدار نہیں ہوے ، تو وہ اسی طرح ایک ایک کر کے عالمی منظر نامے سے حرف غلط کی طرح مٹائے جاتے رہیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *