میں بھی حاضر تھا وہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share Article

دخترانِ سعادت حسن منٹو کے اعزاز میں استقبالیہ جلسہ
نئی دہلی: پاکستان سے ہندوستان کے دورے پر تشریف لائیں دخترانِ سعادت حسن منٹو کے استقبالیہ پروگرام میں اردو کادمی، دہلی نے ایک نہایت باوقار مجلس آراستہ کی، جس میں دخترانِ سعادت حسن منٹو محترمہ نگہت پٹیل، محترمہ نزہت ارشد اور محترمہ نصرت جلال تشریف فرما تھیں۔ اس موقع پر وائس چیئرمین اردو اکادمی دہلی نے تمام مہمانوں کے ساتھ دخترانِ منٹو کا استقبال کیا۔بعد ازاں پروفیسر اخترالواسع نے اسٹیج پر موجود صدرِ مجلس مشہور فکشن نگارسیدمحمد اشرف کا تعارف کرانے کے ساتھ دیگر مہمانوں کا بھی تعارف کرایا۔ اس سے قبل پروگرام کے آغاز میں اکادمی کی روایت کے مطابق معزز مہمانوں کا پھولوں کے گلدستے سے استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر عالمی اردو ٹرسٹ کے بانی جناب اے۔ رحمن نے اپنی تقریر میں دخترانِ منٹو کو پاکستان سے ہندوستان بلانے اور پھر واگھہ بارڈر پر ایک تاریخی پروگرام کے انعقاد نیز دہلی کے مختلف اداروں میں ان کے سلسلہ میں تقاریب کے اہتمام کی روداد سنائی۔ موصوف کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ انھیں منٹو ، اردو فکشن اور خاص طور پر ان کی صاحبزادیوںسے کس قدر محبت ہے۔بعدازاں منٹو کی صاحبزادی محترمہ نگہت پٹیل،محترمہ نزہت ارشد اور محترمہ نصرت جلال نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان میں منٹو کے چاہنے والوں کی والہانہ عقیدت کو سلام کیا اور اس سفر کو نہایت کارآمد اور اپنی زندگی کا بیش قیمتی اثاثہ قرار دیا۔
جلسے کی مہمانِ خصوصی پروفیسر صغرا مہدی نے نہایت جذباتی انداز میں منٹو کی تحریروں سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ پروفیسر صغرا مہدی نے فرمایا کہ منٹو پر صرف پاکستان ہی میں نہیں ہندوستان میں بھی بہت کام ہوا ہے اور آج کی نسل یہ بخوبی سمجھتی ہے کہ منٹو کے افسانے آج بھی ان کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ بعد ازاں صدرِ جلسہ مشہور فکشن نگار سید محمد اشرف نے اپنی دلچسپ صدارتی تقریر میں تمام شرکا، اکادمی اور بطورِ خاص پروفیسر اخترالواسع کا شکریہ ادا کیا اورکہا کہ ہندوستان کی سب سے فعال اردو اکادمی نے یہ ثابت کیا کہ اردو کے ادیبوں کے خاندان سے بھی انھیں ویسی ہی محبت ہے جیسی زندہ ادیبوں سے۔ انھوں نے پاکستان کے تمام شہریوں نیز حکومت کو منٹو کی بیٹیوں کے ذریعہ یہ پیغام دیا کہ ہم ہندوستان کے تمام لوگ پاکستان کے ادیبوں سے محبت کرتے ہیں، وہاں کے مشائخ سے محبت کرتے ہیں، وہاں کے موسیقاروں سے محبت کرتے ہیں اور اس سرزمین سے بھی محبت کرتے ہیں۔بعد ازاںسکریٹری اردو اکادمی انیس اعظمی نے مہمانوں نیز شرکائے جلسہ کا شکریہ ادا کیا۔ اس پروگرام کی نظامت شعیب رضا فاطمی نے بحسن و خوبی انجام دی۔
ہندوستانی مسلم عورت کا مستقبل ‘‘ کا اجرأ”
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ویمنس اسٹڈی سینٹر میں’’ مطالعاتِ خواتین کا نظریہ،وسائل اور امکانات ‘‘موضوع پر چار روزہ ورکشاپ کا افتتاح کرتے ہوئے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) ضمیر الدین شاہ نے کہا کہ فوج میں بڑی تعداد میں خواتین ہیں اور ہندوستانی فوج پوری طرح خواتین کی خود مختاری پر زور دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ فوجی اسپتالوں میں خواتین معا لجین اور نرسوں کا کافی احترام کیا جاتا ہے اور یہ خواتین اعلیٰ عہدوں تک پہنچتی ہیں اور بڑے سے بڑے مشکل وقت میں بھی وہ ایک فوجی کا رول ادا کرتی ہیں۔جنرل شاہ نے ایک فوجی افسر کے طورپر اپنے تجربات کی بنیاد پر کہا کہ ہندوستان میں سب سے پر مسرت زندگی فوجی کی اہلیہ بسر کرتی ہے جبکہ مردوں کے زیرِ اثر سماج میں خواتین کو بھی مساوی مواقع فراہم کرائے جانے چاہئیں۔ انہوںنے کہا کہ مسلم ممالک میں آدھی آبادی کا ہی غلبہ ہے جبکہ امریکہ میں خواتین کو یکساں مواقع حاصل ہیں۔اس موقعہ پر وائس چانسلر نے ویمنس اسٹڈی سینٹر کی گیسٹ فیکلٹی جوہی گپتا کی کتاب ’’ ہندوستانی مسلم عورت کا مستقبل ‘‘ کا اجرأ کیا، ساتھ ہی وائس چانسلر نے سینٹر کے نیوز لیٹر اور جرنل کا بھی اجرأ کیا۔
احتشام حسین کے 100ویں یوم پیدائش پر خصوصی لیکچر
نئی دہلی : بر صغیر کے معروف ادیب احتشام حسین کے100 ویں یوم پیدائش کے موقع پر غالب اکیڈمی کے زیر اہتمام ماہانہ ادبی نشست میں حضرت نظام الدین بستی میں واقع غالب اکیڈمی کے ہال میں ’احتشام حسین کی غالب شناسی‘کے موضوع پرایک خصوصی خطبہ کا انعقاد کیا گیا ۔یہ خصوصی خطبہ الہٰ آبادکے پروفیسرعلی احمد فاطمی نے پیش کیا۔ پروگرام کی صدارت دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق صدر پروفیسر عتیق اللہ نے کی، جب کہ نظامت کے فرائض غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے انجام دیے۔ معروف شاعر متین امروہوی نے احتشام حسین کو منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ احتشام حسین کو اردو کے ساتھ ساتھ دوسری زبان و ادب اور اقتصادیات پر بھی عبور حاصل تھا۔ وہ ہر طرح کی عصبیت سے پاک تھے اور اپنی ادبی صلاحیتوں،رواداری، خلوص، طلباسے محبت، انکساری، عاجزی، لب ولہجہ کی نرمی، مٹھاس، رشتوں کا احترام، دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ، شرافت نفسی اور کشادہ قلبی کی وجہ سے ہمیشہ یاد کیے جاتے رہیں گے۔ پروفیسر علی احمد فاطمی نے ’احتشام حسین کی غالب شناسی‘کے موضوع پر اپنا خصوصی خطبہ دیتے ہوئے احتشام حسین کے غالب پر لکھے گئے مضامین کا تنقیدی جائزہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ احتشام حسین نے غالب پر تقریباًڈیڑھ درجن مضامین لکھے،جن سے ان کی غالب شناسی عیاں ہوتی ہے۔ان کی تحریروں میں ان کی ترقی پسند ذہنیت کے جا بجا ثبوت ملتے ہیں۔ پروفیسر علی احمد فاطمی نے کہا کہ احتشام حسین نظریاتی نقاد تھے،جنھوں نے غالب کے ذہنی سوتوںپر نظر ڈالی اور ان کی بت شکنی پربھی قلم اٹھایا۔ پروفیسرفاطمی نے مزید کہا کہ احتشام حسین نے غالب کے شعور و فن کا احاطہ کرتے ہوئے ان کی تخلیقات کے سائنٹیفک پہلو کو اجاگر کیا۔ احتشام حسین نے لکھا ہے کہ غالب کو گمان سے زیادہ امکان پر یقین تھااور وہ تعمیر کے بعد تخریب کو بھی دیکھ لیتے ہیںاور غالب کو سمجھنے کے لیے ان کے عہد کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔پروگرام کے آخر میں پروفیسر عتیق اللہ نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ تنقید کا میدان گمراہ کن ہے۔ غالب جیسی شخصیت او ر ان کی شاعری کو سمجھنا اس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے اور اس مشکل کام کو احتشام حسین نے بڑی خوبی سے انجام دیا اور غالب کے تعلق سے ایک منفرد نظریہ پیش کیا۔ پروفیسر عتیق اللہ نے کہا کہ احتشام حسین ترقی پسند نقاد،فلسفی،استاد اور اہل علم تھے۔ انھوں نے غالب پر لکھے گئے احتشام حسین کے مضامین کو یکجا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس خصوصی لیکچر کے موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر شاہد ماہلی،ترنم ریاض،انجم عثمانی،منصور عثمانی،ڈاکٹر خالدعلوی،ڈاکٹر ابو ظہیر ربانی اور معروف شاعر شہباز ندیم ضیائی سمیت بڑی تعداد میں علم و ادب سے دلچسپی رکھنے والی شخصیات موجود تھیں۔ g
تردید
بتاریخ 16 ستمبر 2012 کے شمارے میں ممبئی مشاعرے سے متعلق ہاپوڑ سے موصول ہوئی ایک خبر میری غیر موجودگی میں شائع ہوگئی ہے جو بے بنیاد اور فرضی ہے۔ ممبئی مشاعرے میں اعزاز سے صرف 2 بہت ہی معتبر حضرات ایک پدم بھوشن استاد غلام مصطفی خان اور دوسرے جناب ابراہیم اشک کو نوازا گیا تھا۔باقی ہم سبھی بحیثیت شاعر مدعو تھے۔ اس خبر میں دی گئی تمام باتیں جھوٹی اور فرضی ہیں جن کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔میں بحیثیت ایک ذمہ دار ایڈیٹر اس خبر کی پر زور مذمت اور تردید کرتی ہوں اور اس خبر کے شائع ہونے کے لئے معذرت خواہ ہوں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *