مشاعرے گنگا جمنی تہذیب کے امین ہیں
پٹنہ: گزشتہ دنوں ایک شاندار مشاعرہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ مشاعرے گنگا جمنی تہذیب کے امین ہوتے ہیں۔ اس سے مختلف فرقے کے لوگوں کو تہذیبی وراثت سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس موقع پر اپنی صدارتی تقریر میں گلزار دہلوی نے مشاعرے میں شامل لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یہ عوامی مجمع اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ اردو کے عاشق ہیں ،لیکن اردو سے محبت کا فرض اس وقت ادا ہوگا جب آپ میں سے ہر شخص یہ عہد کرکے اٹھے کہ وہ اپنے بچوں کو کم سے کم پانچ چھہ کلاسوں تک اردو پڑھائے گا۔مشاعرہ میں منور رانا کو بھی زبردست داد و تحسین سے نوازا گیا۔ خاص طورپران کی نظم ’ ماں ‘ اور ’ مہاجر‘ پر لوگوں کے داد دینے کی جھڑی لگ گئی۔ عالمی شہرت یافتہ وسیم بر یلوی نے بھی سامعین سے جم کر داد حاصل کی۔اس موقع پر پرنسپل سکریٹری افضل امان اللہ نے مشاعرہ کے انعقاد کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ ریاستی وزیر مسز پروین امان اللہ نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پٹنہ میں اس طرح کا شاندار مشاعرہ برسوں بعد سننے کو ملا ،جس نے عظیم آباد ( پٹنہ) کی مضبوط ادبی اور ثقافتی روایات کی یاد تازہ کردی۔
ملک میں امن کی ضرورت
نئی دہلی:گزشتہ دنوں جماعت اسلامی ہند کی ایک پریس میٹنگ میں جماعت کے صدر مولانا جلال الدین عمری نے کہا کہ ہندوستان کی شہرت دنیا بھر میں ایک کرپشن زدہ ملک کی حیثیت سے ہورہی ہے۔ آزادیٔ ہند کے بعد سے کوئی مہینہ ایسا نہیں گزرتا جب کرپشن کے کسی بڑے واقعہ کا انکشاف نہ ہوتا ہو۔ اوپر سے لے کر نیچے تک سیاست داں ،پبلک سرونٹ ،عام کلرک وغیرہ کرپشن کے واقعات میں ملوث پائے جاتے ہی۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اب تو عدالتی نظام پر بھی انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔ اس طرح کرپشن قومی کینسر بن گیا ہے۔
مولانانے نروڈاپاٹیا میں 2002 کے شرمناک فسادات میں ہلا ک کیے گئے 95 لوگوں کے سلسلے میں عدالتی فیصلے کو ایک مستحسن قدم قرار دیا ۔ اس سے ملک کے عدالتی نظام میں مسلمانوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ جماعت ، مجرمین کو سخت تر اور عبرت انگیز سزا کے حق میں ہے۔ اب بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ اس سارے قتل و خون کے پیچھے جو بڑے سرغنہ ہیں ان کے سلسلے میں بھی تحقیق ہو۔آسام پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آسام میں تشدد کی وجہ سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہا ہے اور دوسری طرف فرقہ پرست عناصر اور نفرت کی بنیاد پر سیاسی فائدے حاصل کرنے والی پارٹیاں پورے ملک میں خوف و ہراس اور نفرت پھیلا رہی ہیں۔ یہ سیاسی پارٹیاں آسام کے مسلمانوں کے بنگلہ دیشی یا غیر ملکی ہونے کا جھوٹا پروپیگنڈا کھلے عام کر رہی ہیں۔ اس طرح پورے ملک میں نفرت کی آگ بھڑ کا رہی ہیں۔انہوں نے ملک شام پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انسانی اور اخلاقی قدروں کا پاس لحاظ رکھنے والے دنیا کے تمام لوگ ملک شام کی سنگین صورت حال سے انتہائی آزردہ خاطر اور سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ اپنے ہی ہم وطنوں پر ظلم و ستم کرنے والے صدر بشار الاسد فوری طور پر اقتدار سے علیحدہ ہوکر ملک میں امن و امان کی راہ ہموار کریں۔
اردو کا تعلق ہماری ثقافت سے ہے
نئی دہلی: گزشتہ دنوں ’شاہنواز میموریل فائونڈیشن‘ کے زیر اہتمام انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے ’بی ایس عبد الرحمن آڈیٹوریم‘ میں فائونڈیشن کے انٹرنیشنل مشاعرے و کوی سمیلن کا انعقاد کیا گیا ،جس کی صدارت آئی پی ایس افسر و ممبئی کے ایڈیشنل کمشنر آف پولیس قیصر خالد نے کی، جب کہ مہمان خصوصی کے طور پر پریس کونسل آف انڈیا کے چیئر مین جسٹس مارکنڈے کاٹجو اور کانگریس کی سینئر لیڈڑ ریتا بہو گنا جوشی نے شرکت کی۔ پروگرام کے مہمان اعزازی دہلی پردیش اقلیتی کمیشن کے چیئرمین صفدر حسین خان، ایچ آر سہیل خان تھے۔ کلیدی خطبہ پروفیسر اختر الواسع نے پیش کیا۔ اس موقع پر جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اردو کی مختصر تاریخ بیان کرتے ہوئے کہاکہ 1947 میں تقسیم وطن سے قبل اردو سب کی زبان تھی۔ آزادی کے بعد اردو کو مسلمانوں کی اور دشمن کی زبان قرار دینے کا پروپیگنڈہ کیا گیا ،جس سے اردو کے ساتھ ساتھ ملک کا کلچرل نقصان بھی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اردو کا تعلق ہندوستان کی ثقافت سے ہے۔ریتا بہو گنا جوشی نے کہاکہ جنرل شاہنواز خاں جیسی شخصیات دنیا میں مشکل سے پیدا ہوتی ہیں۔ دہلی کتاب میلے کے انچارج بی ایل مہتا، سومناتھ سرکارنے بھی بطور خاص شرکت کی۔
کتابیں فاصلوں کو ختم کرتی ہیں
نئی دہلی: گزشتہ دنوں ایک کتابی میلہ کا انعقاد ہوا، جس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر تجندر کھنہ نے کہا کہ سماجی ، ثقافتی اور مذہبی فاصلوں کو کتابوں کے ذریعہ ختم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کتابیں تین طرح سے کام آتی ہیں ،نالج، سیرو تفریح اور آدمی کوا نسپائر کرتی ہیں۔انڈیا ٹریڈ پرموشن آرگنائزیشن پرگتی میدان کی چیئرمین ریتا مینن نے کہا کہ یہ بڑی بات ہے کہ 1995 سے یہ میلہ لگایا جارہاہے اور اس کی کامیابی سے پبلیشنگ انڈسٹری کی طاقت کا پتہ لگتا ہے۔اس میلے میں اردو اکیڈمی کے اسٹالوں پر واقعات، دارالحکومت دہلی، سرسید احمد خان کی آثار الصنادید اور مختلف شعراء و ادباء کی تخلیقات موجود تھیں جبکہ مکتبہ دارالعلوم دیوبند کے اسٹال پر دینی کتابیں ، مذہبی شخصیات ، تاریخ دارالعلوم، سیرت النبی اور جغرافیہ ، ڈکشنری آف کمیسٹری،ڈکشنری آف کمپیوٹر سائنس وغیرہ کی کتابیں موجود تھیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here