میں بھی حاضر تھا وہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share Article

ادبی محفل کا انعقاد
نئی دہلی: گزشتہ دنوں معروف شاعر ،براڈ کاسٹر اور ڈرامہ نویس رفعت سروش کی یاد میں شاہین رفعت سروش اکیڈمی کے زیر اہتمام انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر کے گل مہر ہال میںایک ادبی محفل اور محفل غزل کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام میں اردو اکادمی دہلی کے وائس چیئرمین پروفیسر اختر الواسع ، آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل و ہندی کے معروف شاعر لیلا دھرمنڈلوئی، کلاسیکل وائلن نگار و براڈ کاسٹر شنو کھورانہ، ارشاد احمد خان اور جامعیہ ملیہ اسلامیہ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر و رفعت سروش اکیڈمی کے نائب صدر ڈاکٹر جی آر سید نے بطور خاص شرکت کی۔ اس ادبی محفل کی نظامت رفعت سروش کی بیٹی و انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن کی ایسوسی ایٹ پروفیسر شاہینہ خان نے کی جبکہ محفل غزل میں ماہر کمپوزر اور میوزک ڈائریکٹر پنڈت جوالا پرشاد نے رفعت سروش کی غزلین پیش کیں۔ اس سے قبل رفعت سروش کی آواز میں ریکارڈ کی گئی ان کی مختصر سوانح عمری پر مبنی تقریبا 10 منٹ کی آڈیو ویز یول فلم دکھائی گئی۔ پروگرام کے آغاز میں’’ نشست ‘‘نے اپنے ماہانہ ادبی پروگراموں کاریپریزینٹیشن کیا۔ پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے شاہینہ خان نے مختصرا اپنے والد رفعت سروش کی حیات و شخصیت ، ادبی خدمات ، سرگرمیوں ، خانگی ماحول ، دوران ملازمت ان کے تجربات ،کامیابیوں ، حصولیابیوں اور ان کی شریک حیات یعنی اپنی والدہ صبیحہ سروش کے ان کی زندگی میں مثبت رول کے بارے میں بتایا جبکہ ادبی تنظیم ’نشست‘ کے ذمہ دار کے کے کوہلی نے تعارف پیش کیا۔ اس موقع پر پروفیسر اختر الواسع نے آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس اور رفعت سروش کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مرکر بھی زندہ رہتے ہیں ۔ رفعت سروش ایسی ہی شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے رفت سروش کے کام و تجربات کو نئی نسل تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ رفعت سرش ان شخصیات میں سے نہیں تھے جو دوسروں کے کندھے پر کھڑے ہوکر اپنا قد بلند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیلا دھر منڈلوئی نے رفعت سروش کی براڈ کاسٹنگ ، شعری و ادبی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ان کے پروگریسیو تیور کا ذکر کیا اور کہا کہ سرکاری ملازمت کے دوران ضوابط و رولس اینڈ ریگولیشن کی پاسداری کرتے ہوئے رفعت سروش نے جس طرح اپنی ترقی پسند تحریک کے مزاج کو قائم رکھا اور نہایت آہستگی ،شائستگی اور نرمی سے اپنی بات کہی یہ ان ہی کا خاصہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری ملازمت کی پابندیوں کے باوجود آزادیٔ خیال کی راہ اختیار کرنا رفعت سروش کی صلاحیتوں ، اہلیت اور قابلیت کا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر جی آر سید نے پرواز شاہین رفعت سروش اکیڈمی کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا اور بحیثیت براڈ کاسٹر رفعت سروش کے کارناموں اور خدمات کا ذکر کیا۔ ارشاد احمد خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ رفعت سروش ایک اچھے و ماہر مصور بھی تھے۔ رفعت سروش کی ہم عصر و ساتھی شنو کھورانہ نے رفعت سروش کے پروفیشنلزم کے بارے میں بتایا اور ان کی شاعری ’’ اوپرا‘‘ اور ان کی تحریر کردہ جہاں آرا کے حوالہ سے ان کی خودداری اور خود اعتمادی کا ذکر کیا ۔
تعلیم کے فروغ کے لئے کام کریں
علی گڑھ: گزشتہ دنوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے یو جی سی اکیڈمک اسٹاف کالج میں مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے لئے منعقدہ 121ویں اورینٹیشن پروگرام کے اختتامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے اساتذہ سے اپیل کی وہ ملک میں تعلیم کے فروغ کے لئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تعلیم کی توسیع ہندوستانی سماج کے ہر طبقے میں ہو جائے تو ملک میں غریبی کی لڑائی کوبھی آسانی سے جیتا جا سکتا ہے۔
ملک بھر سے آئے تقریباً 35شرکاء کو سرٹیفکیٹ تقسیم کرتے ہوئے جنرل شاہ نے کہا کہ جس طرح سے فوج کے جوان ذات پات، مذہب اوار علاقائیت کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی خدمت اور حفاظت کرتے ہیں اسی طرح اعلیٰ تعلیم کے میدان میں بھی سیکولرزم اور قومی اتحاد کو مرکزی اصول بنا کر مثبت کام انجام دئے جا سکتے ہیں۔
یو جی سی اکیڈمک اسٹاف کاکالج کے ڈائریکٹر پروفیسر عبد الرحیم قدوائی نے اورینٹیشن پروگرام کے شرکاء سے اپیل کی وہ معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے جدو جہد کریں۔
پروگرام میں گجرات ودیاپیٹھ کے امریندر پانڈے، شواجی یونیورسٹی کولہاپور کی محترمہ نیتا نارائن رائو ، ایم پی اے اسکول، نوئیڈا کے گورو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کورس کے معیار کی تعریف کی اور اپنے قیام کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تہذیبی روایات و ثقافت کو سراہا۔
نظامت کے فرائض اکیڈمک اسٹاف کالج کی لیکچرر ڈاکٹر ریشماں جمال نے انجام دئے جبکہ حاضرین کا شکریہ ڈاکٹر فائزہ عباسی نے انجام دیا اور انہوں نے وائس چانسلر کا حاضرین سے تعارف بھی کرایا۔
انسانیت کی خدمت
ممبئی:گزشتہ دنوں جماعت اسلامی ( مہاراشٹر)کی قیادت میں ایک وفد نے پولس فائرنگ میں زخمی لوگوں کی عیادت کی ۔اس وفد نے زخمیوں کے گھریلو اور معاشی حالات کی جانکاری لی تاکہ ان کی معاشی اور قانونی اور ہر طرح کی امداد کی جاسکے۔اس کے علاوہ جماعت اسلامی ممبئی میٹرو کی قیادت میں ان ہسپتالوں کا دورہ کیا جہاں زخمیوں کو بغرض علاج داخل کیا گیا تھا ۔جس میں جے جے ہسپتال،جی ٹی ہسپتال اور سینٹ جارج ہسپتال قابل ذکر ہیں ۔جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کی ٹیم نے بلا لحاظ پولس پبلک یا ہندو مسلمان کے سبھی زخمیوں کی مزاج پرسی کی ۔انہیں تسلی اور دلاسے دئے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم محض انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان عیادت کے لئے آئے ہیں ۔جماعت کے لوگوں نے زخمیوں سے کہا کہ کسی بھی طرح کی مدد کی ضرورت محسوس کریں تو ہمیں یاد کریں انشاء اللہ تعالیٰ جماعت سے جس حد تک بھی ممکن ہو سکے گا وہ مصیبت زدوں کی مدد کیلئے موجود ہو گی۔اس موقع پر وفد کی قیادت کررہے جناب عبد الحفیظ فاروقی نے بھی زخمیوں عیادت کے ساتھ ہر طرح کی مدد کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ہند ملک میں مختلف فرقوں کے درمیان اتحاد و یگانگی کی پر زور وکالت کرتی ہے ۔نیز وہ بلا لحاظ مذہب و مسلک تمام انسانوں کی خیر خواہ ہے ۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *