ڈاکٹر رضوان احمد کی یاد میں تعزیتی جلسہ
نئی دہلی : ڈاکٹر رضوان احمد ایک نڈر اور بے باک صحافی تھے۔ انہوں نے تمام زندگی مظلوموں ،غریبوں اور اقلیتوں کے مسائل پر لکھا اور کبھی صاحبان اقتدار سے مرعوب نہیں ہوئے۔ نہ تو انہوں نے قلم کی آبرو کا سودا کیا اور نہ ہی حالات سے سمجھوتہ کرکے اپنی زندگی کو رنگین بنانے کی کوشش کی۔ ان خیالات کا اظہار سرکردہ سیاستدانوں اور ممتاز صحافیوں نے ایک تعزیتی جلسے کے دوران اردو گھر میں کیا، جس کا اہتمام آل انڈیا اردو ایڈیٹرس کانفرنس اور انجمن ترقی ہند نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ ممبر پارلیمنٹ اور این سی پی کے جنرل سکریٹری طارق انور نے اس موقع پر کہا کہ ڈاکٹر رضوان احمد کا سب سے بڑا وصف یہ تھا کہ وہ اپنی بات بڑی باکی سے کہتے تھے اور کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے۔ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس پارٹی کے ترجمان ڈاکٹر شکیل احمد نے کہا کہ ڈاکٹر رضوان احمد کا مشاہدہ بہت گہرا تھا اور وہ جس بات کو حق سمجھتے تھے اس کا برملا اظہار کرتے تھے۔ انہوں نے ایک صحافی کی حیثیت سے سماج کو آئینہ دکھانے کا کام کیا۔ آل انڈیا اردو ایڈیٹرس کانفرنس کے صدر اور سابق ممبر پارلیمنٹ وسفارتکار م۔افضل نے کہا کہ ڈاکٹر رضوان احمد نے غریبوں اور مزدوروں کے استحصال کو بہت نزدیک سے دیکھا تھا اور ان کی تحریروں میں سماج کے ان طبقوں کا درد پوری طرح جھلکتا ہے ۔ انہوں نے معرکۃ الآراء اداریے اور مضامین قلم بند کیے اور کبھی اپنے اصولوں کو قربان نہیں کیا۔ انجمن ترقی اردو ہند کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر خلیق انجم نے کہاکہ میں ڈاکٹر رضوان احمد کی صلاحیتوں سے ہمیشہ متاثررہا۔ہندوستان کی سماجی ‘سیاسی اور تہذیبی زندگی پر ان کی بڑی گہری نگاہ تھی اردو تحریک کے لیے انہوں نے انتھک کوششیں کیں۔ روزنامہ ’جدید خبر‘ کے ایڈیٹر معصوم مرادآبادی نے کہا کہ ڈاکٹر رضوان احمد اردو صحافیوں کی اس نسل کے آخری نمائندے تھے جس نے اپنے پیٹ سے پتھر باندھ کر سچائی کا علم بلند کیا تھاوہ اردو صحافت کے ایک جانباز سپاہی تھے۔سینئر صحافی مودود صدیقی نے ڈاکٹر رضوان احمد سے اپنے 45سالہ تعلقات کا بڑے جذباتی انداز میں تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کو بھیک کی صورت میں لینے کے طرفدار نہیں تھے۔ انہوں نے پوری زندگی ظلم وجبر کے خلاف جہاد کیا۔ افسوس کہ ہم اپنے ایسے محسنوں کو یاد نہیں رکھتے۔ صحافی سہیل انجم نے کہا کہ رضوان احمد ادب اور صحافت میں کسی مخصوص خیمے کے آدمی نہیں تھے۔ ممتاز شاعر اسرار جامعی نے ان کی ناقدری پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے اسے سماجی بدنصیبی سے تعبیر کیا ۔ سینئر صحافی فاروق ارگلی نے کہا کہ ڈاکٹر رـضوان احمد سب سے زیادہ شریف، تجربہ کاراور لائق صحافی تھے ۔
اس موقع پر جن سرکردہ لوگوں نے شرکت کی‘ ان میں ایس ایم ظفر، انیس مرزا، ڈاکٹر راشد عزیز ، ظفر انور شکرپوری، ایس اے رحمن، جاوید قمر، حکیم انیس الرحمن، افضال حسین اور خالد صابر ،محمد مستقیم ،فصیح صدیقی، ایس اے قاسم کے نام قابل ذکر ہیں۔
سعودی سفیر کے ہاتھوں الشفاء اسپتال میں او پی ڈی خدمات کا افتتاح
نئی دہلی:جامعہ نگر کے عوام کا خواب پورا ہوا، جماعت اسلامی ہند کے کیمپس دعوت نگر ، ابو الفضل انکلیو میں 15 کروڑ کی لاگت سے 40,000 مربع فٹ آراضی پر تعمیر 150 بستروں والے الشفاء اسپتال کی او پی ڈی خدمات کا افتتاح گزشتہ دنوں سعودی سفیر برائے ہند فیصل حسن طراد کے بدست عمل میں آیا۔ وِژن 2016 پروگرام کے تحت قائم جدید طبی سہولیات سے آراستہ ملٹی اسپیشلٹی اسپتال کا انتظام و انصرام ہیومن ویلفیر ٹرسٹ سنبھال رہا ہے۔ افتتاحی تقریب کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسپتال کا قیام معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ گزشتہ ساٹھ برس میں جماعت اسلامی ہند نے سماجی خدمت کے میدان میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے وِژن 2016 پروگرام کے تحت انجام پانے والے دیگر سماجی کاموں کی بھی ستائش کی۔
واضح ہوکہ جدید ترین مشینوں سے آراستہ آپریشن تھیٹر کی سہولت اور ماہر ڈاکٹروں کی دستیابی کے لحاظ سے یہ دیگر اسپتالوں سے نمایاں ہے ۔ افتتاحی تقریب میں اسپتال کا پورا عملہ موجود رہا۔ اس موقع پر یمن کی سفیر ڈاکٹر خدیجہ، امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری، سکریٹری جنرل جماعت اسلامی ہند نصرت علی، نائب امیر جماعت اسلامی ہند سید محمد جعفر، جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر اور وژن 2016 پروگرام کے جنرل سکریٹری پروفیسر کے اے صدیق حسن، ڈاکٹر ظفر الاسلام خان، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے جنرل سکریٹری مولانا اصغر امام مہدی سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ، واضح ہوکہ  جماعت اسلامی ہند نے ملک گیر سطح پر سماجی خدمت کے مختلف پروگرام شروع کیے ہیں ۔الشفا ء ملٹی اسپیشلٹی اسپتال کا قیام اسی کے تحت عمل میں آیا ہے۔
مولانا ابو مسعود اظہر غوری ندوی (مرحوم) کی تفسیر ’’اُم القرآن‘‘ کا اجراء
نئی دہلی :  عربی و فارسی زبان کے ماہر جید عالم دین مولانا ابو مسعود اظہر غوری ندوی (مرحوم) کی جانب سے ’’تفسیر اُم القرآن‘‘ (مولانا ابوالکلام آزادؒ) کی تلخیص و ترتیب کا اجراء شاہی مسجد فتح پوری کے امام و خطیب ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ جس کا اہتمام یونائیٹڈ مسلم آف انڈیا نے غالب اکیڈمی، بستی حضرت نظام الدین اولیاؒ، نئی دہلی میں کیا تھا۔ پروگرام کا آغاز معروف و ممتاز قاری محمد یاسین کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا۔ اس کے بعد نہایت پُراثر نعت شریف ڈاکٹر انوپرشاد ورما نے پیش کی۔ اس موقع پر شاہی مسجد فتح پوری کے امام ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے کہا کہ قرآنی علوم کو سمجھنے کے لیے شخصی نور کی ضرورت ہے۔ جو لوگ اپنے وجود کو خدا کے نور سے سجاتے ہیں ان کے لیے قرآن کو سمجھنا آسان ہوتا ہے۔ مولانا ابو مسعود اظہر ندوی مرحوم کی اس آخری علمی کاوش کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے جس کے لیے مولانا اظہر ندوی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ جامعہ ملیہ میں شعبہ اسلامی مطالعات کے سربراہ پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ مولانا اظہر ندوی جیسے لوگ دنیا میں بہت کم پیدا ہوتے ہیں جو مذہب کو کاروبار بنانے کے بجائے اپنے ذاتی وسائل قرآن کی خدمت پر صرف کردیں اور مولانا آزاد کی قرآنی مطالعاتی فکر کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا گھر تک بیچ دیں۔ ایسا کرنے والے علماء کرام ہی اصل انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔ آج بیشتر لوگ قرآن کریم کی اشاعت میں تو لگے ہیں لیکن ان کا مقاصد دنیا کمانا ہے۔ اس موقع پر مہمان ذی وقار خالد سیف اللہ رحمانی نے مولانا اظہر ندوی کی گوناگوں علمی اور مذہبی خدمات کا احاطہ کرتے ہوئے انہیں بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔
دیگر مقررین میں معصوم مرادآبادی، صحافی سہیل انجم، ڈاکٹر سیّد احمد خاں اور مولانا ایم رضوان اختر قاسمی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ ان لوگوں نے مولانا اظہر غوری ندوی کی پانچ درجن تصنیفات اور تالیفات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سب سے بڑی خوبی ان کا دل نشین انداز بیان اور انتہائی سادہ اور عام فہم زبان ہے۔
اہم شرکاء میں ڈاکٹر عقیل احمد، اسرار جامعی، سید نیاز احمد راجا، لیاقت علی مسعودی، ڈاکٹر صباحت اللہ امروہوی، حکیم محمد طارق امروہوی، حکیم عطاء الرحمن اجملی، اسرار احمد اجینی، ڈاکٹر نزاکت علی امروہوی، محمد اویس گورکھپوری، محمد صادق خان، ڈاکٹر سلیم ملک، ڈاکٹر اطہر ریحان خاں، مسعود اظہر ندوی، جاوید رحمانی، عبدالباری مسعود، طٰہٰ نسیم، ڈاکٹر عبداللہ خان رئوف، مولانا محمد مرتضیٰ دہلوی اور ڈاکٹر اسرار احمد دہلوی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here