میں بھی حاضر تھا وہاں ۔۔۔۔

Share Article

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کل ہند اردو کتاب میلے کا انعقاد
نئی دہلی: قومی اردو کونسل نے مکتبہ جامعہ لمیٹڈ اور اردو اکادمی دہلی کے اشتراک سے جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی میں9روزہ 12ویں کُل ہند اردو کتاب میلے کا انعقاد کیا۔ کتاب میلے میں اردو کونسل اور مکتبہ جامعہ نے کتاب میلے کا کام سنبھالا اور دہلی اردو اکادمی نے کلچرل پروگرام کے محاذ پر کام کیا۔  اردو کتاب میلے میںروزانہ شام کو 7بجے شام غزل، مشاعرہ اور محفلِ قوالی کے پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔ شام ِ غزل میں شہاب خان اوراستاد نعیم علی نے اپنے پروگرام پیش کیے۔ وجاہت حسین بدایونی ، غلام صابر نظامی اور غلام وارث نظامی نیقوالی کا پروگرام پیش کیا۔جبکہ مشاعرہ میں دہلی کے ممتاز شعرا نے اپنا کلام پیش کرکے خوب داد وتحسین حاصل کی۔آخری دن سدھانشو بہوگنا گروپ نے علی سردار جعفری کا ’ترانۂ اردو ‘ اور دیگر شعرا کے اردو نغمے کورَس کی شکل میں پیش کیے۔
کُل ہند کتاب میلے کی اختتامی تقریب کو خطاب کرتے ہوئے دہلی اردو اکادمی کے وائس چیئرمین پروفیسر اختر الواسع نے کہاکہ اردو محض مذہبی کتابوں تک محدود ہے، یہ کہنا قطعاً درست نہیں ہے۔ کیونکہ اس میلے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اردو میں سائنس ، ادب اور ٹکنالوجی سے لے کر عصر جدید کی معلومات پر مبنی بیش قیمت خزانہ موجود ہے۔ ممتاز صحافی ظفر آغا نے کہا کہ صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ اردو زبان بھی ہند، پاک کے رشتوں کو مزید مستحکم کر سکتی ہے۔روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر عزیز برنی نے کہا کہ یہاں بڑی تعداد میں نوجوانوں کی موجودگی اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ ہماری اردو کا ماضی بھی شاندار تھا اور مستقبل بھی تابناک ہوگا۔ڈاکٹر حمید اللہ بھٹ نے مہمانوں کا استقبال اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس زبان کے چاہنے والے ہوں گے ، اس زبان کی کتابیں یقینا بڑی تعداد میں فروخت ہوں گی۔ لیکن ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے اس کتاب میلے میں معمولی رقم کی کتابیں فروخت ہوناکہیں نہ کہیں اردو کے تعلق سے ہماری بے رغبتی کی جانب اشارہ ہے۔ مکتبہ جامعہ لمیٹڈ کے چیئرمین پروفیسر خالد محمود اور اردو اکادمی دہلی کے سکریڑی انیس اعظمی نے بھی خطاب کیا۔
غالب کی فارسی شاعری کے موضوع پر خصوصی لیکچر
نئی دہلی:غالب اکیڈمی میں غالب کی فارسی شاعری کے موضوع پر ایک خصوصی لیکچر کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ایران اور بحرین میںحکومت ہند کے سابق سفارتکار عزیز الدین عثمانی نے  کہا کہ غالب ان شعرا میں ہیں جنہوںنے ایران کے ادبی رجحانات کی طرف توجہ کی لیکن سبک ہندی سے اپنا رشتہ قطعی طور پر توڑنا پسند نہیں کیا۔ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں طبع آزمائی کرنے کی روایت کے نامور شعرا میں غالب اور اقبال کا شمار ہوتا ہے۔ غالب کا کلام ایرانی تہذیب و تمدن کا نمونہ ہے۔ وہ ظہوری سے متاثر تھے ، نظیری عرفی کے تتبع کا اعتراف کرتے ہیں۔ فارسی کے حسین الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ان سے معنی آفرینی کا کام لیتے ہیں اور اپنے کلام میںظرافت اور لطافت پیدا کرتے ہیں۔ غالب نے روایت کو برتا بھی ہے اور اس سے انحراف بھی کیا ہے۔ان کا فارسی کلام اسرار و رموز کا حامل ہے۔
اس موقع پر غالب اکیڈمی کے صدر پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ غالب نے اپنی اردو شاعری کو بے رنگ کہا ہے۔ غالب کی اردو اورفارسی دونوں زبانوں کی شاعری کو سمجھ کر ہی غالب کو پوری طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ پروفیسر شریف حسین قاسمی نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ غالب کے ذہن میں بجلی چمکتی تھی وہ شعر کی شکل اختیار کرلیتی تھی۔ یہ معاملہ اردو اور فارسی دونوں میں ہے۔ڈاکٹر عقیل احمد نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ غالب کی اردو شاعری پر اکثر بات ہوتی رہتی ہے لیکن فارسی شاعری پر بات کم ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ غالب کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ان کی فارسی شاعری کو سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔
’رشید حسن خاں کے خطوط‘کی رسمِ رونمائی
نئی دہلی:غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام ’’شامِ شہریاں‘‘ کے موقع پر ٹی آر رینا کی کتاب ’’رشید حسن خا ںکے خطوط‘‘ کی رسمِ رونمائی کرتے ہوئے ڈاکٹر خلیق انجم نے کہاکہ رشید حسن خاں اردو زبان و ادب کے اُن نامور محققین میں سے ہیں جن کے علمی کاموں کو ہمیشہ عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا جائے گا۔ اس موقع پر پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے صدارتی کلمات میں رشید حسن خا ںکے علمی مرتبے کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ رشید حسن خاں کی شخصیت اردو دنیاکی ایک اہم شخصیت ہے۔ انہو ںنے جدید اردو تحقیق کاایک علمی اور سائنسی معیار قائم کیا۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے کہاکہ رشید حسن خاں نے بڑی اَنا،بڑے سلیقے اور اپنے انداز پر زندگی گزاری۔ شاہد ماہلی نے کہاکہ رشید حسن خاں کی غالب انسٹی ٹیوٹ سے علمی وابستگی تھی وہ ’’غالب نامہ‘‘ کے مدیر تھے اور غالب انسٹی ٹیوٹ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ادارے نے اُن کی اہم کتاب ’’املائے غالب‘‘ کو شائع کیا۔ ڈاکٹر شمس بدایونی اور ڈاکٹر سرورالہدیٰ نے بھی اس علمی مجلس میں رشید حسن خاں کی علمی، ادبی اور تحقیقی زندگی پر اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کیا۔ جلسے کی نظامت ڈاکٹر رضاحیدر نے کی۔
کانسٹی ٹیوشن کلب میں تعلیمی کنونشن
نئی دہلی:بچے کسی بھی ملک اور قوم کے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیںاور مستقبل کے خاکہ ساز بھی۔ ان خیالات کا اظہارآل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری آسکر فرنانڈیز نے کیا۔وہ کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقدہ تعلیمی کنونشن کو خطاب کر رہے تھے ۔ آل انڈیا تنظیم علمائے حق کے قومی صدر مولانا اعجاز عرفی قاسمی نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ تعلیم ہی وہ شاہ کلید ہے، جس کے ذریعے ترقی اور خوش حالی کے مقفل دروازے کھولے جا سکتے ہیں۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حمید اللہ بھٹ نے کہا کہ آج اگر ہم آزاد اور کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں تو اس کا سہرا ان قومی اور ملی مجاہدین آزادی کے سر جاتا ہے، جنھوں نے اپنی آئندہ نسلوں کو برطانوی سامراج کے ناپاک منصوبوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ جعفر آباد کے ممبر اسمبلی چودھری متین احمد نے کہا کہ دینی مدارس کے ارباب حل و عقد کو دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کی پیوند کاری کا بھی حوصلہ افزا قدم اٹھانا چاہیے۔ممبر اسمبلی صاحب سنگھ چوہان نے اردو کو مشترکہ تہذیب کی نمائندہ زبان قرار دیا۔ ان کے علاوہ دہلی حج کمیٹی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر پرویز میاں، عمران انصاری،فیروز احمد ایڈوکیٹ اور دوسرے شرکاء نے بھی اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر ملک کی نامور سیاسی اور سماجی شخصیات کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔
مولانا سید جلال الدین عمری جماعت اسلامی ہند کے امیر منتخب
نئی دہلی:مولانا سید جلال الدین عمری کو یہاںمجلس نمائندگان کے اجلاس میں دوسری مرتبہ چار سالہ میقات کے لیے جماعت اسلامی ہند کا امیر منتخب کر لیا گیا۔ واضح رہے کہ 74سالہ معروف عالم دین و اسکالر اور مشہور مصنف مولانا عمری 2007میں ملک کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم جماعت اسلامی ہند کے امیر منتخب ہوئے تھے۔مولانا جامعہ دارالسلام عمر آباد تمل ناڈو کے فارغ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگریزی گریجویٹ ہیں۔مولانا آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر، مشہور تعلیمی ادارے جامعتہ الفلاح اعظم گڑھ کے شیخ الجامعہ، علمی سہ ماہی رسالہ تحقیقات اسلامی کے مدیر اور بہت سے اداروں کے سربراہ ہیں۔مولانا سید جلال الدین عمری تین درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی کتابوں کے ملک اور بیرون ملک کی بہت سی زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔ مولانا مشہور خطیب اور مقرر بھی ہیں۔ مرکز جماعت کی وسیع جامع مسجد اشاعت اسلام میں مولانا کے عیدین اور جمعہ کے خطبات کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے۔
تربیتی پروگرام کاانعقاد
نگینہ:سوسائٹی فار برائٹ فیوچر کے زیر اہتمام لال سرائے نگینہ ، اتر پردیش میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے دو روزہ تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔تربیتی پروگرام کا آغاز تسلیم احمد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔پروگرام میں سوسائٹی فار برائٹ فیوچر کے نیشنل کو آرڈی نیٹر عقیل احمد نے کہا کہ وژن2016کی رہنمائی میں یہ سوسائٹی پورے ملک میں کام کررہی ہے،جس کا مقصد عوام کو قدرتی آفات کے تئیں بیدار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سوسائٹی کے زیر اہتمام مختلف مواقعوں پر ریلیف کا کام بھی انجام دیاہے۔اس موقع پر مسرت علی، مولانا انعام اللہ اصلاحی اور جماعت اسلامی اتر پردیش مغرب کے امیر محمد احمد نے بھی شرکا سے خطاب کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *