میں بھی حاضر تھا وہاں

Share Article

اردو اکادمی کے سالانہ ادبی ایوارڈ تقسیم
نئی دہلی:اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے دہلی سکریٹریٹ کے آڈیٹوریم میں سالانہ ایوارڈز برائے 2010 کا جلسہ منعقد ہوا۔ پروگرام کے آغاز میں سکریٹری اردو اکادمی انیس اعظمی نے ایوارڈ یافتگان اور مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔پروفیسر اخترالواسع نے تمام انعام یافتگان کا اپنے مخصوص اور منفرد لب و لہجہ میں جامع تعارف کرایا ۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر کرن والیہ نے کہا کہ اردو اکادمی بہت سلیقہ سے اپنے کاموں کو انجام دے رہی ہے جس کی وجہ سے ملک کی تمام ریاستی اردو اکادمیوں میں اسے سبقت حاصل ہے۔ ہارون یوسف نے صدارتی خطبہ میںانعام یافتگان کے تخلیقی کاموں اور خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں مبارکباد دی اور کہا کہ اردو زبان نے نہ صرف قومی یکجہتی کو فروغ دیا ہے بلکہ وہ تہذیب و تمدن، اخلاق و آداب اور آپسی بھائی چارہ کے ساتھ ساتھ امن و امان قائم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی آئی ہے۔ تمام ایوارڈ یافتگان کو باری باری اسٹیج پر بلایا گیا اور انھیں شیلڈ، شال، سند اور انعام کی رقم چیک کی صورت میں باوقار طریقے سے پیش کی گئی۔اس موقع پرڈاکٹر عبیدالرحمن(سائنسی ادب)عزیز قریشی (اردوڈراما) عتیق صدیقی (اردوصحافت) ابرار کرتپوری(شاعری)،فاروق ارگلی (تخلیقی نثر) پروفیسر مجیب رضوی (تحقیق و تنقید) شجاع خاور (پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی ایوارڈ)اور پروفیسر گوپی چند نارنگ(کل ہند بہادر شاہ ظفر ایوارڈ) نے ایوارڈ حاصل کئے۔
شعبۂ اردو دہلی یونی ورسٹی میں جشن زریں تقریب
نئی دہلی:شعبۂ اردو دہلی یونی ورسٹی کی ایک سال تک مسلسل چلنے والی جشن زریں کی الوداعی تقریبات اختتام پذیر ہوگئیں۔اس موقع پرمرکزی وزیرکپل سبل نے اپنی تقریر میں اس حقیقت کا اعلان کیا کہ بہت جلد ملک کے سبھی اسکولوں میں اختیاری مضمون کی حیثیت سے اردو کی آسامیاں لائی جائیں گی تاکہ اردو کو روٹی روزی سے جوڑا جاسکے۔ریاستی وزیر برائے مواصلات و آبی وسائل سچن پائلٹ نے اردو زبان کی ہمہ گیری پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو زبان، مذہب و ملت کی تفریق مٹاتی ہے۔جشن کا آغاز اقبال اشہر کینظم ’ ترانۂ اردو‘سے ہوا۔ جشن میں شعبۂ اردو کے صدر ارتضیٰ کریم نے شعبۂ اردو دہلی یونی ورسٹی کی جانب سے شائع چھ کتابوں کا اجراء کپل سبّل ،سچن پائلٹ اور پروفیسر دنیش سنگھ ،وائس چانسلر دہلی یونی ورسٹی کے ذریعہ کرایا ۔ بعد ازاں پروفیسر زماں آزردہ ، پروفیسر اعجاز علی ارشد، پروفیسر شہاب عنایت ملک، ڈاکٹر سید شاہد مہدی، وائس چیرمین آئی سی سی آر ، ڈاکٹر شریف احمد ، ڈاکٹر خواجہ محمد شاہد، فاروق انجینئر ، ڈاکٹر ذکیہ انجم،ڈاکٹر عائشہ سلطانہ ، ڈاکٹر نکہت ریحانہ خاں،اقبال اشہر، ڈاکٹر محمد یحیٰی صبا اور شمس رمزی کومومنٹو پیش کئے گئے۔
مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی کے زیر اہتمام ایوارڈ  تقریب اور مشاعرہ
نئی دہلی:غالب اکیڈمی میںعظیم مجاہد آزادی مولانا محمد علی جوہرکے 80ویں یوم وفات کے موقع پر  مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی نے لوک سبھاکے سابق اسپیکربلرام جاکھڑ کوجوہر ایوارڈ برائے سیاست سے سرفراز کیا۔اس موقع پر اردو اکادمی دہلی کے وائس چیئر مین اختر الواسع نے مولانا محمد علی جوہر کی جدوجہد آزادی میں دی گئی قربانیوں کو تفصیل سے بتایا۔سابق سفیر اورممبر پارلیمنٹ م افضل نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ آج سرکاری محفلوں میں بھی اس عظیم مجاہد آزادی کا ذکر نہیں ہوتا۔ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد بلرام جاکھڑ نے کہا کہ مولانا کی عظیم شخصیت سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان نسل کو مولانا کے کارناموں سے واقف کرایا جائے تو یہ نہ صرف نوجوان نسل بلکہ خود وطن عزیز کے لیے بھی بہتر ہوگا۔پروگرام کی ابتدا نسیم دھامپوری کی نعت پاک سے ہوا، جبکہ آخر میں مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی کے بانی و جنرل سکریٹری ایم سلیم نے تمام مہمانان کا شکریہ اداکیا۔اس موقع پرمولانا محمد علی جوہر تقسیم ایوارڈکی 22سالہ سالانہ تقریب پر مشتمل ایک یادگاری مجلہ کا رسم اجرا اور ایک کل ہند مشاعرہ کا بھی اہتمام کیا گیا۔مشاعرہ سے قبل الحرمین فارما انڈیا کے چیئر مین صبور احمد صدیقی نے تمام مہمانوں اور شعرائے کرام کی خدمت میں دواؤں کے پیکٹ پیش کئے۔ پروگرام میںاکیڈمی کے صدر خواجہ ایم شاہد، جسٹس سہیل اعجاز صدیقی،انڈین اوسنک پارٹی کے صدر سی پی ویاس ، چودھری محمد نجیب اور منصور احمد عثمانی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
تحریک آزادی میں اردو/ہندوستانی کا حصہ پر سمینار
نئی دہلی:اردوکی یہ خاص بات رہی ہے کہ اس کی ترویج واشاعت میں تمام مذاہب اور فرقوں کے لوگوں کا اہم رول رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار ممبر پارلیمنٹ شفیق الرحمان برق نے مولانا حسرت موہانی فاؤنڈیشن اور ہیومن رائٹس یونین آف سپریم کورٹ کے زیر اہتمام منعقد سمینار ’’تحریک آزادی میں اردو /ہندوستانی کا حصہ‘‘ میں کیا۔سمینار میں موجود بیرسٹر بترا نے برق صاحب کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے بلکہ یہ ہر ہندوستانی کی زبان ہے۔دہلی اردو اکادمی کے وائس چیرمین پروفیسر اخترا لواسع نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ تحریک آزادی میں اردو زبان اور اردو صحافت نے سب سے اہم کردار ادا کیا۔جس کے نتیجے میں ہمیں غلامی سے نجات حاصل ہوئی۔سمینار کے کنوینر ڈاکٹر نفیس احمد صدیقی نے اس موقع پر عظیم مجاہدین آزادی اور اردو دوست موتی لال نہرو،اوما شنکر دیکشت اور مولانا حسرت موہانی کو بھارت رتن دئے جانے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پربشیر احمد، سراج نقوی، فیروز بخت احمد، احمد جاوید، ڈاکٹر مشتاق صدف اور ذکیہ رخشندہ نے تحریک آزادی میں اردو کے کردار پر مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈالی۔جبکہ نظامت کے فرائض یامین انصاری نے انجام دئے ۔
غالب انسٹی ٹیوٹ میں یاورعباس کے ساتھ ایک شام
نئی دہلی:برطانیہ کے معروف ادیب ،شاعر،فلم ساز اور صحافی یاور عباس کے اعزاز میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے ’یاورعباس کے ساتھ ایک شام‘‘ کا انعقاد کیاگیا،جس کی صدارت پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر رضاحیدر نے انجام دیئے۔ جرمنی کی معروف ادیبہ کرسٹینا اوئیسٹر ہیلڈ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر یاور عباس نے اپنی کتاب ’انڈیامائی انڈیا‘ کا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ ان کی اس کتاب کو برطانیہ کے ایک ادارے ساؤتھ ایشین سنیما فاؤنڈیشن نے شائع کیا۔ انہوں نے بتایاکہ اس کتاب پر بنائی ان کی فلم ’انڈیامائی انڈیا‘ کو ہندستان اور برطانیہ کے علاوہ کئی ممالک میں معنویت کے اعتبار سے کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ مذکورہ فاؤنڈیشن کی جانب سے یاورعباس کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازہ گیاتھا۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنی صدارتی تقریر میں کہاکہ یاورعباس کی علمی وادبی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر شاہد ماہلی نے اپنے استقبالیہ کلمات میں یاور عباس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یاور عباس نے بحیثیت براڈکاسٹر بی بی سی لندن کی اردو سروس کو اپنی خدمات سے معتبر اور مقبول بنایا۔
سوسائٹی فار برائٹ فیوچر کے زیر اہتمام ڈزاسٹر مینجمنٹ کا پروگرام
کولکاتہ:ویژن2016کے تحت بنائی گئی سوسائٹی فار برائٹ فیوچر کے زیر اہتمام کولکاتہ کے تل جلا روڈپارک سرکس میںسہ روزہ تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں حصہ لینے والے کارکنان کو ساحلی ریاستوں میں قدرتی آفات کے سد باب کے طریقے سکھائے گئے۔تربیتی پروگرام کا افتتاح مولانا ریاض الدین فلاحی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس کے بعد مولانا عبد العزیز ،نائب صدر جماعت اسلامی ہند ،مغربی بنگال نے تقریر کی۔جبکہسوسائٹی کے کنوینر عقیل احمد نے وژن2016کا تعارف پیش کرتے ہوئے قدرتی آفات سے بچنے کے طریقے تفصیل سے بتائے۔تربیتی پروگرام میں مغربی بنگال،آندھرا پردیش، تملناڈو اور اوڑیسہ سے سیکڑوں کارکنان نے شرکت کی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *