p-7لیکن الحمد للہ سپریم کورٹ نے کوئی تنکوں کے سہارے ججمنٹ نہیں دیا تھا، سپریم کورٹ نے اپنے پیارے ججمنٹ میںدستور ہند CR.P.C, I. P. C., POTA قانون، شہادت اور سپریم کورٹ کے پرانے ججمنٹ و نظائر کو مدنظر رکھتے ہوئے ججمنٹ دیا تھا۔ سرکاری وکیل کے دعووں اور دلائل کے بخوبی جواب دےے تھے، اس لےے اب نظر ثانی کی تو گنجائش ہی کہاں تھی؟
چنانچہ جسٹس انیل دوے صاحب اور جسٹس گوپالا گوڈا صاحب کی بینچ نے کرائم برانچ کی اس درخواست کو یہ کہہ کر خارج کردیا کہ ہم اپنے ججمنٹ سے بالکل مطمئن ہیں اور اس میں نظر ثانی کی کوئی ضرورت نہیں۔
بڑے بے آبرو ہوکر نکلے ہم تیرے کوچے سے
اللہ تعالیٰ کرے کہ اب انھیں غیرت آجائے اور ہمارا پیچھا چھوڑ کر واقعی مجرموں کو تلاش کریں، میرا دعویٰ ہے کہ یہ حضرات چاہتے، تو واقعی مجرموں کو پکڑ سکتے تھے، لیکن جیسا کہ میں آگے لکھ چکا ہوں، یہ حضرات اس سنگین مقدمے کو لے کر کبھی سنجیدہ نہیں تھے اور کئی مرحلوں پر ان کی خیانت کھل کر سامنے آئی تھی۔
بہرحال ادھرشہر احمد آباد اور خاص کر ہمارے محلہ میں گزشتہ کل جمعہ کی نماز کے بعد سے جشن کا ماحول تھا۔ بی جے پی کی سرکار بننے پر غمزدہ لوگوں کے لےے الحمد للہ ہمارے ججمنٹ و رہائی کی خبر مرہم و تسلی کا سامان ہوا۔ لوگوں کے غم ہلکے ہوگئے اور لوگوں کی توجہ الیکشن کے نتائج سے ہٹ کر ہماری رہائی کی جانب مبذول ہوگئی۔ جمعہ کے بعد جیسے ہی ہماری باعزت رہائی کی خبر موصول ہوئی، لوگوں نے مٹھائیاںتقسیم کرکے آپس میں مبارکبادیاں دیں۔ کچھ نوجوانوں نے پٹاخے پھوڑ کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ پورا دن اور رات بھر لوگوں نے خوشیاں منائیں۔ اب انھیں شدت سے ہماری جیل سے رہائی کا انتظار تھا۔
لوگ دہلی سے آنے والے میرے محسنوں کا استقبال کرنے اور ان کی زبان سے مزید تفصیلات سننے کو بے قرار تھے،لیکن نئی حکومت اور بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر میرے ساتھیوں نے اپنی دہلی سے آمد کی خبر کو لوگوں سے چھپائے رکھا تھا ۔ تاہم کچھ لوگ ایئر پورٹ پر استقبال کے لےے پہنچ گئے۔ ایئر پورٹ سے ہی جناب نوربیگ صاحب اور بھائی سلمان نے دو ٹیم بنائیں۔ ایک میںجناب خالد بھائی کے ساتھ حافظ زید (میرے خالہ زاد بھائی) او ردوتین ساتھی سیشن کورٹ کے لےے روانہ ہوئے اور ایڈوکیٹ جناب جاوید خان کے ساتھ حافظ زاہد صاحب اور کچھ ساتھی ہائی کورٹ کو روانہ ہوئے۔آج چونکہ سنیچر کا دن تھا،عوام میںیہ بات چل پڑی تھی کہ آج تو چونکہ سنیچر ہے اور آئندہ کل اتوار ہے، اس لےے پیر کے روز جیل سے رہائی ہوگی۔ لیکن چونکہ سپریم کورٹ نے فوری رہائی کا فیکس میسج اور وائر لیس میسج جیل کو بھیج دیا تھا، جسے زیادہ دیر تک چھپایا نہیںجاسکتا تھا۔نیز میرے ان ساتھیوںکا طریقہ کار بھی الحمد للہ بڑا کارگر رہا اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے سارے اسباب بنتے چلے جارہے تھے۔ مشکل و ناممکن باتیں اب بہت آسان نظر آرہی تھیں۔ چنانچہ شام تقریباً ساڑے پانچ بجے تک پوٹا کورٹ، ہائی کورٹ، کی ساری کارروائیاں مکمل کرکے یہ حضرات جیل پر بیڈا (رہائی کے کاغذات) لے کر پہنچ گئے۔ بھائی سلمان اور نور بیگ صاحب ایئر پورٹ سے سیدھے جیل پہنچے تھے۔ دو راتوں کی مستقل بیداری و تھکان کی وجہ سے دوپہر میںکچھ دیر یہ حضرات میرے گھر آرام کے لےے چلے گئے، لیکن وہاں بھی کیسے آرام مل سکتا تھا؟ میرے گھر پر بھی رشتہ داروں، محلے والوں اور محبت کرنے والوں کا تانتا لگا ہواتھا۔ لوگ مبارکباد دینے او رخوشی میںشرکت کے لےے آتے چلے جارہے تھے۔ دوپہر میں دو بجے بعد پھر سلمان، نور بیگ وغیرہ حضرات جیل پر پہنچے۔ عوام ان حضرات کی نقل و حرکت سے اندازہ لگارہے تھے۔ چنانچہ ان کے جیل پر پہنچنے پر لوگوں کو یقین ہوگیا کہ انشاءاللہ آج ہی رہائی ہوگی، چنانچہ آہستہ آہستہ لوگ جیل پر جمع ہونے شروع ہوئے۔میڈیا والے بھی آگئے، کچھ لوگوں نے ہمارے وکیل جناب خالد بھائی کا اور سلمان بھائی کا انٹرویو بھی لیا، لیکن دوسرے روز کے اخبار میںبہت چھوٹی سی کالم میں اس خبر کو جگہ دی گئی تھی۔بہر حال باہر عوام کا ایک ہجوم تھا، عصر، مغرب،عشاءکی نماز لوگوں نے ریلوے پٹری پر واقع مسجد میںکئی کئی جماعتوں کی شکل میں ادا کی اور دوپہر سے رات 8:45 تک برابر جیل کے احاطے میں کھڑے ہماری رہائی کا انتظار کرتے رہے۔ رانپ کے کچھ مسلمان بھائیوں نے ناشتہ پانی کا انتظام کیا تھا، لیکن ان کی بھوک، پیاس، ساری ضروریات و خواہشات پر ہماری رہائی اور جیل سے باہر نکلتے ہوئے دیکھنے کا جذبہ غالب آچکا تھا۔
ادھر قید خانہ میں ہمارا یہ حال تھا کہ رات بھر جاگنے کے بعد دن میںبھی بالکل نیند میسر نہیںہوئی تھی۔ لوگ ملاقات و مبارکبادی کے لےے آتے رہے، وقت گزرتا رہا۔ تقریباً گیارہ بجے ہماری وکیل ملاقات آگئی، گھر والے بھی ساتھ چلے آئے۔ بھائی سلمان، نوربیگ صاحب، نذیر بابا وغیرہ حضرات تھے۔ جیل کی باریک جالیوں میں پابندی بھری ہماری یہ آخری ملاقات بڑے خوشگوار ماحول میںہوئی۔ مولاناعبداللہ و دیگر ساتھیوں نے بتایاکہ عوام نے خوب آتش بازی کی ہے اور آج بھی کچھ لوگ اس کا ارادہ رکھتے ہیں، کیا کریں؟ ایک لمبے عرصہ تک سخت ابلاءو آزمائش کے بعد لوگوں کی دعائیںقبول ہوئیں اور تمنا پوری ہورہی تھیں۔ ملک بھر میں خوف و ہراس اور یاس و ناامیدی کے ماحول میں اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم خوشی عطا فرمائی تھی۔ ظاہر ہے لوگ اس خوشی کا اظہار کریں گے۔ انھیںکیسے روکا جاسکتا ہے؟ میںنے کہا کسی کو کچھ مت کہو، خیر ملاقات میںبھائی سلمان نے مختصر کارگزاری سنائی اور کہا: آپ لوگ تیار رہنا شام تک انشاءاللہ تعالیٰ ہم رہائی کے کاغذات لے کر آجائیں گے۔
ادھر بیریکوں میںلوگ سپریم کورٹ کے بے مثال انصاف و ہماری رہائی کی تفصیلات جاننے کے لےے بے قرار تھے۔ جاکر انھیں مختصر کارگزاری سنائی اور شام کا انتظار کرنے لگے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گیارہ سال سے چل رہی گھڑی کی سوئیاں بھی تھک چکی تھیں اور اس کی رفتار سست ہوچکی تھی الانتظار اشد من الموت (انتظار موت سے زیادہ سخت ہوتا ہے)اس کا گزشتہ کل دوپہر سے برابر مشاہدہ کررہے تھے۔ آہستہ آہستہ وقت گزرتارہا اور شام تقریباً ساڑے پانچ بجے ایک قیدی کارکن ہمارے نام کی چٹھی جس کا برسہا برس سے انتظار تھا،لے کر آپہنچا اور کہا: بستر، کپڑے، برتن لے کر کورنٹی آجاو¿۔صبح ملاقات میںگھر والے کپڑے ، چپل وغیرہ دے گئے تھے۔ہم لوگ تیار ہوگئے۔میرے قیدی ساتھیوں نے مجھے دلہے کی طرح سنوارا۔ ان حضرات نے آخری مصافحہ ،معانقہ کیا۔ اس وقت میرے اور ان کے دلی جذبات کی کیفیت کی نہ زبان ترجمانی کرسکتی ہے، نہ قلم احاطہ کرسکتی ہے اور نہ ہی قیاس آرائی کی جاسکتی ہے۔ساتھیوںسے وداعی ملاقات کے بعد میں روانہ ہوا۔جناب گلال بھائی ، اعظم خان ، مشرف بھائی، حنیف بھائی، کلیم، انس اور بہت سے ساتھی جیل عملہ کی اجازت سے کورنٹی جیوڈیشل آفس تک چھوڑنے کے لےے آئے۔ یہاںجیل کے صدر دروازہ سے دیکھا، باہر خوش و خر م عوام کا ہجوم نظر آرہا تھا۔ جیوڈیشل آفس میں ہمارے وکیل جناب خالد بھائی شیخ اور وکیل جناب جاوید خان پٹھان تشریف فرما تھے۔ ایک اور وکیل جناب اعجاز قریشی باہر عوا م کے درمیان میری رہائی کے طریقہ کار سے عوام کو باخبر کررہے تھے۔ ہمیں جوڈیشل آفس میں لے جانے کے بعد ضروری قانونی کارروائی پوری کی گئی۔ جیل میںداخلہ کے وقت چہرے اور جسم کے خدوخال نوٹ کےے گئے تھے، اب رہائی پر دوبارہ یہ عمل ہوا۔ جیل میںداخلہ کے وقت جو رقم گھڑی وغیرہ یہاںجمع کی گئی تھی، وہ واپس دی گئی۔ کچھ ہی دیرمیںساری کارروائی مکمل ہوگئی، لیکن سپرنٹنڈنٹ جناب بھگورا صاحب اور مسلمان جیلر کو شاید ہم سے اتنی محبت ہوگئی تھی کہ وہ ہماری رہائی وجدائی کو برداشت نہیں کرپارہے تھے۔ انھوں نے اپنی ساری صلاحیتیں اس کوشش میں صرف کردیں کہ کسی طرح ہمیں روک لیا جائے۔
غیر ملکی قیدیوں کی جانچ و تفتیش کے لےے ہمارے یہاںJ.I.C. (جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر) بنے ہوئے ہیں۔ ملک کی مختلف تفتیشی ایجنسیاں وہاں ان قیدیوں سے تفتیش کرتی ہیں اوران کی تسلی کے بعد ہی قیدی کو رہا کیا جاتا ہے۔ چنانچہ جیل کے افسران نے اول یہ حربہ آزمایاکہ چاند خان پاکستانی ہے، اس لےے ہم تمہیں رہا نہیں کرسکتے۔ ہمارے وکیلوں نے انھیں بتایا کہ خود کرائم برانچ کی اسٹوری و کاغذات کے مطابق چاند خان یوپی بریلی کا رہنے والا ہے۔ اسی طرح پوٹا کورٹ، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ کے کاغذات و دستاویزات میں بھی اسے بریلی کا باشندہ کہا گیا ہے۔ یہی نہیں، جیل کے داخلہ رجسٹر میں بھی اس کا پتہ بریلی لکھا گیا ہے، پھر یہ کیسے پاکسانی ہوگیا؟او راگر بالفرض اسے پاکستانی مان بھی لیا جائے، تو باقی تین عبد القیوم آدم بھائی اور سلیم بھائی کو روکے رکھنے کا کیا جواز ہے؟ وہ حضرات لاجواب ہوگئے۔پھر کچھ دیر بعد یہ حربہ لائے کہ ان حضرات پر دفعہ 268 لگی ہوئی ہے، اس لےے عدالت کی اجازت کے بغیر ہم رہا نہیں کرسکتے۔ یہ واہیات دلیل ان کا تجاہل عارفانہ تھا۔ دفعہ 268 کا وجود قیدی جب تک مقدمہ میںاور جیل میں ہے، اسی وقت تک ہے۔ جب مقدمہ ہی ختم ہوگیا اور سپریم کورٹ نے باعزت رہائی کا حکم دیا، تو پھر دفعہ 268 کا وجود ہی کہاںرہا؟ جیل عملہ دفعہ 268 کی حقیقت و اثر کو بہت ہی اچھی طرح جانتا او رسمجھتا ہے۔لیکن ان کا مقصد ہمیں کسی طرح روکنا یا پریشان کرنا تھا۔ خیر ہمارے وکیلوں کے بحث و مباحثہ اور سمجھانے کے بعد بظاہر دفعہ 268سمجھ میں آنے کا ڈھونگ کیا۔ لیکن ابھی بھی مایو س نہیںہوئے اور آپسی کاناپھوسی کے بعد ایک آخری ہتھیار استعمال کیا اور ہمارے وکیلوں سے کہا ان چاروں حضرات پر اکشر دھام کے علاوہ اور کوئی مقدمہ نہیں ہے، آپ اس کی تحریری ضمانت دیجئے۔ اس پر ہمارے وکیل جاوید خان برہم ہوگئے اور انھوں نے اور باہر سے اعجاز قریشی صاحب نے جیل عملہ کوسپریم کورٹ میںشکایت کی دھمکی دی اور کہا کہ اگر آپ فوری طور پر رہا نہیں کرتے، تو ہم دوبارہ سپریم کورٹ جارہے ہیں۔ کچھ تو اس دھمکی کا اثر تھا ، کچھ جیل کے باہر ہجوم میںاشتعال کا ڈر تھا۔ چنانچہ باہر جمع شدہ ہجوم میںبے چینی بڑھتی جارہی تھی۔ اور پھر جیل کے یہ دونوں افسر اپنی ناپاک حرکت میںتنہا رہ گئے تھے۔ مجھے ایک افسر نے سرگوشی میںکہا کہ یہ لوگ گاندھی نگر ، محکمہ وزارت خارجہ ،کرائم برانچ،پولیس کمشنر کچہری وغیرہ تمام جگہ فون کرچکے ہیں، لیکن کوئی ان کاساتھ دینے کے لےے تیار نہیں ہے۔ اور ظاہر ہے سپریم کورٹ کے اس ججمنٹ کے خلاف کوئی بھی سمجھدار شخص ہمیںکیسے روک سکتا ہے؟ بہر حال جب یہ افسران بالکل عاجز و ناامید ہوگئے، تو انھوں نے ہمیں سپرنٹنڈنٹ صاحب کی آفس میں طلب کیا،ہمارے وکلاءبھی ساتھ تھے۔سپرنٹنڈنٹ صاحب نے ہمارے وکیل سے کہا: آپ ہمیں ایک کاغذ میں صرف اتنا لکھ دیجئے کہ ہماری معلومات کے مطابق ان حضرات پر کوئی او رمقدمہ نہیں ہے۔ اس پر میں خاموش نہیں رہ سکااور میں نے کہا: میں 11 سال سے جیل میں ہوں،آپ مقدمہ کی بات کرتے ہیں، 11 سال کے اس عرصہ میں اگر مجھ پر کوئی جیل کھٹلہ ہو، تب بھی آپ مجھے روک لو۔ (جیل میں خلاف قانون کام کرنے پر جو کارروائی اور سزادی جاتی ہے، اسے کھٹلہ کہا جاتا ہے)۔میرے کہنے پر بھگوڑا صاحب اور جیلر صاحب تھوڑے سے چوکناہوگئے اور کہنے لگے،ہم آپ کو روکنانہیںچاہتے،ہم تو صرف قانونی کارروائی پوری کرناچاہتے ہیں۔ اس پر ہمارے وکیل نے کہا ، 11 سال سے یہ حضرات آپ کی تحویل میںہیں۔ان حضرات پر اور کوئی مقدمہ ہے یانہیں؟ ہم سے بہتر آپ جانتے ہیں۔ یہ کہہ کر ہمارے وکیل نے لکھنے سے انکار کردیا۔
(جاری ہے)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here