میں ایک مفتی ہوں اور میں دہشت گرد نہیں ہوں

Share Article

P-7جیل میں گیارہ سال کے اس عرصہ میں الحمدللہ، اللہ تعالیٰ کی ایک عجیب و غریب قدرت کا بہت ہی قریب سے مشاہدہ کیا کہ جب بھی میں نے کوئی بری خبر سنی یا برا معاملہ پیش آیا، الحمد للہ اسی دن یامستقبل قریب میں اللہ تعالیٰ نے کوئی اچھی خبر سنادی، جس سے بری خبر کا تدارک و تلافی ہوگئی۔ اسی طرح کبھی کسی خوشی پر میںضرورت سے زیادہ اترایا، تو اللہ تعالیٰ نے فوراً کوئی فکر دے کر میری اصلاح بھی فرمادی۔ واللہ ! بارہا میرے ساتھ یہ معاملہ ہوا۔چنانچہ اسی مشاہدے اور تجربہ کے پیش نظر بستر پر لیٹے ہوئے میں یہ الفاظ دوہرانے لگا کہ یااللہ تعالیٰ ! اتنی بری خبر سنائی ہے اب ایس ہی کوئی خوش خبر ی سنادے تاکہ تلافی ہوجائے، بس اسی طرح کے الفاظ زبان پرجاری تھے۔ظہر کا وقت ہوگیا۔ظہر بعد بھی یہی دعا کی۔تین بجے بندی کھل گئی اور الیکشن کے نتائج کولے کر قیدی تبصرہ کرنے لگے،میں تنگ آکر بیریک میںچلا گیا اور ایک پاگل قیدی یونس جمالپوری کے ساتھ دل بہلانے کی کوشش کرنے لگا۔ تقریباً 3:45 بج رہے تھے۔ میں یونس کے ساتھ چائے پی رہا تھا کہ آدم بھائی، صابر بھائی اور بہت سے مسلمان قیدی ”اللہ اکبر“ کے نعرے لگاتے ہوئے دوڑ کر میری بیریک میں آئے او ر”سب چھوٹ گئے، سب چھوٹ گئے“ کہتے ہوئے مجھ سے چمٹ گئے۔ میں سمجھ نہیں پارہا تھا کہ کیا ہوا؟ لوگ رورہے تھے اور مجھ سے چمٹ رہے تھے۔ میں نے پوچھا بات کیا ہے؟ تو بتایا کہ اکشر دھام مقدمہ میں آپ تمام حضرات باعزت بری ہوگئے۔ الحمد للہ علی ذٰلک۔

میں حیرت و تعجب میںمبتلا تھا۔ میں نے پوچھا آج تو ججمنٹ کی تاریخ کی کوئی اطلاع ہی نہیں تھی۔آپ کو کیسے معلوم ہو؟ انھیں کسی سپاہی کے توسط سے یا کسی او رذریعہ سے یہ اطلاع ملی تھی، لیکن مجھے اب بھی کچھ شک تھا۔لیکن الحمد للہ باہر والے بھی خبر پہنچانے کے لےے بڑے فکر مند تھے۔ تقریباً 2:00 بجے سے جیل کے باہر میرے بہنوئی ادریس بھائی اور زبیر بھائی ممتاز مصالحہ والے اور فیرزو جیل کے باہر کھڑے کسی طرح اندر خبر بھیجنے کی کوشش کررہے تھے۔ چنانچہ تقریباً 4:00 بجے ایک قیدی کارکن نریندر بھائی ملاقات روم سے آئے او راس خبر کی تصدیق کردی اور کہا کہ آپ کے گھر والوں نے کہا ہے کہ انشاءاللہ آج شام تک یا آئندہ کل تک آپ لوگ جیل سے نکل جاو¿ ایسی کوشش جاری ہے۔

رہائی کی تصدیق ہوتے ہی میری آنکھوں سے 11 سال سے روکے رکھے جذبات و تشکر کا سیلاب جاری ہوگیا۔میں روتے ہوئے سجدے میںگرگیا اوراپنے رب کا شکر ادا کیا۔کرائم برانچ میں خوف کے مارے زبان پر اللہ کی حمد و ثناءاور ذکر و اوراد کے بے ترتیب کلمات جاری رہتے تھے، آج خوشی کے مارے زبان پر اللہ کی حمد کے بے ترتیب الفاظ جاری ہوگئے۔اس کے بعد دو رکعت نفل نماز اد ا کی اور اللہ تعالیٰ کی خوب حمد و ثناءکی اور میرے اور پوری امت کے لےے خاص کر گودھرا، پوٹاو دیگر مقدمات کے مظلو مین کی رہائی کے لےے بھی خوب دعا کی۔ لوگ آتے رہے اور مبارک باد دیتے رہے۔ صبح 12:00 بجے تک لوگوں کے چہرے مرجھائے ہوئے اور دل فکر مند تھے۔خاص کر مسلمان قیدیوں میں جو ماتم چھایا ہوا تھا، الحمد للہ ہماری رہائی کی اس خبر نے اس کی تلافی کردی۔ مرجھائے ہوئے چہرے اب خوشی سے چمک رہے تھے اور دلوںکا غم و فکر کسی حد تک کم ہوگیا تھا۔ چائے ناشتے کا دور چلتا رہا۔ بہت سے ہندو بھائیوں نے بھی خوب خوب مبارک باد دی جیل عملہ کو بھی معلوم ہوگیا۔ وہ لوگ بہت خوش ہوئے اور مبارک بادد ی۔۔

غم تھا تو صرف ایک (مسلمان) جیلر کو تھا۔ وہ توبے چارہ میرے لےے شاید جیل میں ہی قبرکی جگہ بھی طے کرچکا تھا۔ ظاہر ہے اس کی محنت و آرزوپر پانی پھر گیا تھا۔ ا س لےے اسے غم ہونا لازمی تھا۔ اس کے بالمقابل کچھ غیر مسلم افسران کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی۔ چونکہ سارے ہی قیدی اور جیل عملہ جانتا تھا کہ میںبالکل بے قصور ہوں، اسے لےے جیل افسران نے رہائی کی خبرکے بعد بھی جیل سے نکلنے تک بھرپور تعاون کیا۔ پوٹا کے میرے ساتھی اور کچھ مسلمان قیدی جو دوسری بیریکوں میں بند ہوتے تھے،اس رات جیل افسران نے انھیں میرے ساتھ بند ہونے کا موقع دیا۔ رات بھر لوگ جاگتے رہے، خوشیاں بھی منائیں اور کچھ اپنے مقدمے اور مستقبل کو لے کر غمزدہ بھی تھے۔الحمد للہ ، لوگوں نے تہجد بھی ادا کی،دعائیں بھی کیں، چائے کا دور بھی چلتا رہا اور فجر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ لوگوں سے ملاقات میں وقت آہستہ آہستہ گزرتا رہا۔صبح 11:00 بجے وکیل سے ملاقات آگئی۔ جناب خالد بھائی اور اعجاز قریشی میری آخری وکیل سے ملاقات کے لےے تشریف لائے۔ 11 سال ڈانٹ ڈپٹ اور ناقدری کے بعد آج چونکہ ان کی محنت و خدمات کا ثمرہ مل چکا تھا، اس لےے دونوں حضرات بڑے خوش تھے۔ آپس میںمصافحہ ، معانقہ اور مبارک بادی کے بعد ججمنٹ کی حسب ذیل مختصراً کارگزاری ان کی زبانی سنی۔

اگلے روز یعنی 15-5-2014 جمعرات کو رات میںمیرے ساتھیوں کو پتہ چلا کہ آئندہ کل ججمنٹ ہے۔ چنانچہ سلمان، خالد بھائی شیخ او راعجاز قریشی، رات کی فلائٹ سے دہلی روانہ ہوئے، نور بیگ صاحب بھی دہلی پہنچ چکے تھے۔ رات بھر ذہنی اضطراب اور فکروں او روسوسوں کے ساتھ تہجد کی نماز اور اللہ کی یاد اور مناجات میں گزاردی۔میں اس بات پر بھی اللہ رب العزت کا احسان مانتا ہوں کہ ہمیںججمنٹ کا علم نہیں تھا۔ ورنہ وہ رات کیسے گزرتی؟ اللہ ہی جانتا ہے۔بہر حال صبح چائے ناشتہ اور ضرور یات سے فارغ ہوکر یہ حضرات سپریم کورٹ کی جانب روانہ ہوئے۔ وکلاءکے چیمبرس میںجاکر وکیلوں سے ملاقات کی۔ جناب کے ٹی ایس تلسی صاحب انڈیا میں موجود نہیں تھے۔ محترمہ کامنی جیسوال اور جناب ارشاد احمد صاحب اور دیگر کچھ وکلاءبھی ان کے ساتھ ہوگئے اور یہ حضرات 5 نمبر کی کورٹ میںجاکر بیٹھ گئے۔ ہمارے ججمنٹ سے پہلے B.C.C.I کا ججمنٹ تھا۔ چنانچہ جسٹس جناب اے کے پٹنایک صاحب اور جسٹس فقیر محمد ابراہیم کلیف اللہ صاحب تشریف لائے۔ عدالت میںموجود تمام لوگ عدالت کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ ججمنٹ دے کے یہ حضرات چیمبر میں چلے گئے۔ اس کے بعد کچھ ہی دیر میں جسٹس جناب اے کے پٹنایک صاحب اور جسٹس وی گوپالا گوڈا صاحب تشریف لائے۔ پھر لوگ احترام میں کھڑے ہوگئے۔تقریباً 1:25 کو جسٹس وی گوپالا گوڈا صاحب نے ججمنٹ سنانا شروع کیا۔ ان حضرات نے اپنے ججمنٹ میں سرکاری وکیل کے دعوے و دلائل کو نو نکات پر تقیسم کیا تھا او ردسویںمیںاپنا ججمنٹ لکھا تھا۔ بقول خالد بھائی اور سلمان بھائی جب گوڈا صاحب نے نکتے گنانے شروع کےے، تو ان حضرات کے دل کی دھڑکنیںرک گئیں اور دم بخود رہ گئے۔ ہاتھ پیر بری طرح کانپنے لگے،کلیجہ منہ کو آنے لگا کہ اب کیا ہوگا؟ لیکن یہ قابل احترام ججوں کابے مثال طریقہ¿ انصاف تھا۔ انھوں نے فریق مخالف کے سارے دعووں اور دلائل کا فرداً فرداًجواب دینا شروع کیا۔ جس سے ساتھیوں کے چہروں سے فکریں دور ہوناشروع ہوئیں ۔ بھائی سلمان اور نوربیگ زیادہ انگریزی نہیں جانتے تھے،اس لےے وہ ہمارے وکیلوں کے چہرے کے نقوش اور اتار چڑھاو¿ سے اندازہ لگا رہے تھے۔ بس 1:40 کے قریب ہمارے وکیلوں کی مسکراہٹ و خوشیوںسے انھیں یقین ہوگیا کہ الحمد للہ ہم مقدمہ جیت چکے ہیں۔ اعجاز بھائی نے انگوٹھے کے اشارے سے انھیں کامیابی کا مزید یقین دلایا۔ پھر کیا تھا؟ سلمان بھائی کیسے صبر کرسکتے تھے؟ ابھی ججمنٹ اپنے آخری مرحلہ میںتھا او رضروری قانونی کارروائی باقی تھی کہ بھائی سلمان عدالت روم سے باہر نکل آئے او ر سب سے پہلے میرے استاذ محترم حضرت مولانا مفتی احمد صاحب خانپوری (دامت برکاتہم) میرے ہمدرد و محسن جناب گلزار اعظمی صاحب (دامت برکاتہم)، حضرت مفتی رضوان صاحب و دیگر محسنین کو اسی طرح میرے گھر میری والدہ اور دیگر اہل خانہ کو یہ پُرمسرت خبر سنائی۔ اس وقت تک ججمنٹ و ضروری قانونی کارروائی بھی مکمل ہوچکی تھی۔سپریم کورٹ نے انصاف و انسانیت سے بھرپور جو فیصلہ دیا ہے،ہندوستانی تاریخ میںہمیشہ یاد گار رہے گا۔ خوف وہراس اور ناامیدی کے ماحول میں سپریم کورٹ کا یہ بے نظیر فیصلہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لےے امید کی کرن ہے۔ سپریم کورٹ نے نہ صرف ہمیںبے قصور و بے داغ ثابت کرکے باعزت بری کردیا،بلکہ جھوٹوں،ظالموں اور خیانت کرنے والے نااہلوںکوبے نقاب کرکے ان پر سخت غم و غصہ کا اظہار بھی کیا۔

شاید سپریم کورٹ کی تاریخ میںیہ پہلا مقدمہ تھا۔کورٹ نے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے فدائین کے کپڑے وغیرہ ضبط شدہ اشیاءو ثبوت کو دوبارہ جانچا تھا۔اردو خطوط اور فدائین کے کپڑوں نے بھی کرائم برانچ کا جھوٹ بے نقاب کرنے میںہماری خوب مدد کی۔میںیہاں پر سپریم کورٹ کے ساتھ بنجارا اینڈ کمپنی کا بھی شکر گزار ہوں کہ انھوں نے میرے نام پر یہ جادوئی اردو خطوط رکھ کر میری رہائی کی راہیں آسان کردیں۔

بہرحال سپریم کورٹ جب اپنا تاریخی فیصلہ مکمل کرچکی، تو ہماری سینئر وکیل محترمہ کامنی جیسوال نے عدالت سے درخواست کی کہ اب جبکہ ہمارے مو¿کل بے قصور ثابت ہوچکے ہیں۔ میری عدالت سے درخواست ہے کہ یہ حضرات گیارہ سال سے قید میں بند ہیں، اس لےے ان کی فوری رہائی کے احکامات جاری کےے جائیں۔ چونکہ عام طور پر باعزت رہائی کے بعد بھی قانونی کارروائی اور فورمالیٹی میں ذیلی عدالتیں اور جیل اتھارٹی کئی کئی روز لگادیتی ہے۔

چنانچہ یہ بھی شاید سپریم کورٹ کا یہ تاریخی اقدام تھا کہ کورٹ نے وہیںسے سابرمتی جیل کو وائرلیس اور فیکس میسج بھیج کر ہماری رہائی کا حکم دیا۔ مجھے جیل میںایک جیلر صاحب نے کہا تھا کہ تاریخ 16/5/2014 جمعہ کے روز یہ وائر لیس و فیکس میسج اتھارٹی کو موصول ہوگیا تھا،لیکن مسلمان جیلر نے اسے چھپادیا تھا۔

بہر حال عدالت برخواست ہونے پر ہمارے وکلاءاور نور بیگ صاحب وغیرہ باہر تشریف لائے،اس وقت ان کی خوشیوں کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔گلے مل کر خوب روئے۔ لوگ حیرت سے انھیں دیکھ رہے تھے کہ اتنے سنگین مقدمہ کی کامیابی پر یہ رونا کیسا؟ لیکن بات دل کے جذبات و تشکر کی تھی، جو آنکھوں سے آنسوو¿ں کی شکل میں بہہ رہے تھے۔افاقہ ہونے پر جتنا ممکن ہوالوگوں کو فون کے ذریعہ خوشخبری دیتے رہے۔ واجب الاحترام حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب کا حکم تھا کہ ججمنٹ کی کاپی لے کر ہی آنا۔لہٰذا رات دیر تک یہ حضرات وہیںسپریم کورٹ میںرہے اور ججمنٹ کاپی حاصل کرکے دوسرے روز صبح 8:00 بجے کی فلائٹ سے احمد آباد واپس ہوئے۔

بے شرمی کی انتہاء

سپریم کورٹ کا یہ بے مثال انصاف جہاں میرے اور میرے گھر والوں کے لےے اور عام مسلمانوں کے لےے بلکہ تمام انصاف پسند لوگوں کے لےے خوشی کا باعث تھا، وہیںکرائم برانچ کے لےے یہ ان کی غلطی کی اصلاح اور عزت بچانے کا ایک بہترین موقع تھا، ہمارے ججمنٹ میں سپریم کورٹ نے ان حضرات کو جو پھٹکار لگائی، اس سے انھیں شرم و حیا اوراپنی غلطیوںاور مکرو فریب کا احساس ہوجانا چاہئے تھا۔

چاہئے تو یہ تھا کہ یہ حضرات جھوٹ،مکروفریب اور تعصب چھوڑ کر سچائی ایمانداری اور غیر جانبداری کے ساتھ اکشر دھام پر حملہ کی سازش و جرم میں واقعی ملوث لوگوں کو پکڑتے اور انھیں تختہ دار تک پہنچاتے، چونکہ ہماری رہائی تو ابھی آدھا انصاف ہے، سوامی ناراین طریق سے جڑے اور مارے گئے ہندو بھائیوں کے ساتھ کہاں انصاف ہوا ہے؟ کرائم برانچ نے تو انھیںبھی دھوکہ دیا ہے،لیکن بنجارا اینڈ کمپنی سے شاید اتنی زیادہ امید رکھنا بےکار ہے۔ جھوٹ کے سہارے بلندیاں حاصل کرنے والوں سے سچائی کی توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے؟ چنانچہ بے غیرتی و بے حیائی کی حد تو اس وقت ہوگئی کہ سپریم کورٹ کے شک و شبہات سے پاک بالکل واضح اور صاف صاف انصاف کے بعد بھی ان حضرات نے ہمارے خلاف نظر ثانی کی اپیل کی۔

(جاری ہے)

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *