حیدرآباد گینگ ریپ: اہم ملزم نے کیا انکشاف، جب ڈاکٹر کو جلایا تو وہ زندہ تھی

Share Article

نئی دہلی تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد (Hyderabad) میں عورت ویٹنري ڈاکٹر سے گینگ ریپ (Gangrape) کے بعد قتل اور لاش جلا دیے جانے کے معاملے میں عدالت نے تمام ملزمان کو سات دن کے لئے پولیس حراست میں بھیج دیا ہے. پولیس حراست میں ملزمان نے اس معاملے سے منسلک کئی اہم انکشافات کیے ہیں.مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، گینگ ریپ اور قتل کے اس گھناؤنے جرم کے اہم ملزم نے بتایا ہے کہ جس وقت چاروں ملزم ڈاکٹر کو مرا سمجھ کر جلانے جا رہے تھے، اس وقت وہ زندہ تھی۔

ایک خبر کے مطابق اہم ملزم محمد پاشا نے بتایا کہ گینگ ریپ کے بعد عورت بھاگ نہ جائے، اس لیے ان لوگوں نے اس کے ہاتھ پیر باندھ دیئے تھے۔ اہم ملزم پاشا کے مطابق، ان چاروں نے ریپ کے بعد بھی متاثرہ کو زبردستی شراب پلائی. جب وہ بیہوش ہو گئی، تب اسے لاری میں ڈال کر پل کے نیچے لے گئے. اس کے بعد پل کے نیچے ہی پٹرول سے متاثرہ کو جلا دیا۔

Image result for hyderabad rape case victims

ملزم نے بتایا کہ انہیں لگا تھا کہ عورت مر چکی ہے، لیکن جب انہوں نے آگ لگائی، تو وہ چلانے لگی۔ ملزم پاشا نے بتایا کہ وہ لوگ کافی دیر تک عورت کو جلتا دیکھتے رہے۔ انہیں لگا کہ پولیس کی گرفت میں آ جائیں گے، لہٰذا متاثرہ کو مار دیا۔

غور طلب ہے کہ 29 نومبر کو حیدرآباد کے سائبرآباد ٹول پلازہ کے قریب ایک عورت کی ادھجلي لاش ملی تھی. عورت کی شناخت ایک ویٹنري ڈاکٹر کے طور پر ہوئی تھی. پولیس کے مطابق، خاتون کی گینگ ریپ کے بعد قتل کیا گیا، پھر لاش کو پٹرول سے جلا دی اور پل کے نیچے پھینک دیا گیا. واردات میں شامل چاروں ملزمان کی شناخت محمد پاشا، نوین، چتاكتا كےشاول اور شیوا کے طور پر ہوئی ہے. پولیس کی تحقیقات میں پتہ چلا کہ ملزمان نے واردات کو انجام دینے کے لئے سازش کے تحت لیڈی ڈاکٹر کی اسکوٹی پنکچر کی تھی، تاکہ وہ خاتون ڈاکٹر کو اپنے جال میں پھنسا کر واردات کو انجام دے سکے۔

اسکوٹی ٹھیک کرانے کے بہانے جھانسے میں پھنسایا
پولیس کا کہنا ہے کہ چاروں ملزمان نے خاتون ڈاکٹر کو ٹول پلازہ پر اسکوٹی پارک کرتے دیکھا تھا. تبھی ایک ملزم شیوا نے اس اسکوٹی کی ہوا نکال دی. جب لیڈی ڈاکٹر فون پر اپنی بہن کو پریشانی بتا رہی تھی، تبھی ملزم چتاكتا كےشاول اور شیوا وہاں مدد کے لئے پہنچ گئے. شیوا اسکوٹی ٹھیک کرانے کے بہانے لیڈی ڈاکٹر کو کچھ دور لے گئے، جہاں باقی ملزم تاک لگائے بیٹھے تھے. جیسی ہی لیڈی ڈاکٹر وہاں پہنچی، ملزمان نے اسے یرغمال بنا لیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *