شوہر، بیٹی، پارٹی … کچھ ایسے ایک ساتھ سنبھالتی گئیں سشما سوراج

Share Article

 

ہندوستان کی سابق وزیر خارجہ سشما سوراج کا منگل کی رات ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر 67 سال تھی۔ ہریانہ کے انبالہ کینٹ میں سشما سوراج کی پیدائش 14 فروری، 1953 کو ہوا تھا۔ ان کے والد هردیو شرما آر ایس ایس سے منسلک تھے اور تنظیم میں ان کی بہت اچھی پہچان تھی۔ انہوں نے انبالہ چھاؤنی کے SSD کالج سے BA کے کی ڈگری حاصل کی۔سشما ایک ذہین طالبہ تھیں اور انبالہ چھاؤنی کے ایس ایس ڈی کالج سے انہیں بہترین طالبہ کا ایوارڈ ملا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے قانون کے سیکشن سے LLB کی ڈگری لی اور 1973 سے انہوں نے سپریم کورٹ میں وکالت شروع کی۔ ان کا سیاسی کیریئر اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد ABVP کے ساتھ شروع ہوا۔

पति, बेटी, पार्टी... कुछ ऐसे एक साथ सब संभालती गईं सुषमा स्वराज

سشما سوراج تعلیم کے ساتھ اضافی نصابی سرگرمی میں بہت آگے رہیں۔ وہ کلاسیکی موسیقی کے علاوہ فائن آرٹس اور ڈرامہ دیکھنے وغیرہ میں کافی دلچسپی لیتی تھیں۔ وہ تین سال تک مسلسل SD College کے NCC کی بہترین فوجی طالبہ اعلان کی گئیں۔ ہریانہ کے زبان کے سیکشن میں ریاستی سطح مقابلہ میں انہیں مسلسل 3 سال تک بہترین ہندی اسپیکر کا ایوارڈ دیا گیا۔

पति, बेटी, पार्टी... कुछ ऐसे एक साथ सब संभालती गईं सुषमा स्वराज

سپریم کورٹ کے وکیل سے کی تھی شادی، بیٹی بھی ہیں وکیل
سال 1975 میں سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سوراج کوشل سے ان کی شادی ہوئی تھی۔ سوراج کوشلتین سال تک میزورم کے گورنر بھی رہے۔ سشما کی ایک بیٹی ہے جس کا نام بانسری کوشل ہے۔ بانسری نے بھی آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا ہے۔ اینر ٹیمپل سے قانون میں بیرسٹر کی ڈگری لینے کے بعد اپنے والد کی طرح کرائم وکیل ہیں۔

पति, बेटी, पार्टी... कुछ ऐसे एक साथ सब संभालती गईं सुषमा स्वराज

سشما سوراج لمبے وقت سے گردے کے مسائل سے پریشان چل رہی تھیں۔ کچھ دنوں پہلے ان گردے ٹرانسپلانٹ بھی ہوا تھا۔ مودی حکومت 2.0 میں شامل نہ ہو پانے کی وجہ بھی یہی تھی۔ انہوں نے نہ تو 2019 کا لوک سبھا الیکشن لڑا اور نہ ہی کابینہ میں کوئی عہدہ لیا تھا۔

पति, बेटी, पार्टी... कुछ ऐसे एक साथ सब संभालती गईं सुषमा स्वराज

2 سال پہلے جب ان گردے کے مسائل آئی تھی پورے ملک سے لوگ ان کے لئے دعائیں کر رہے تھے۔ یہی نہیں ملک بھر سے تمام لوگوں نے سوشل میڈیا سمیت پر انہیں گردے عطیہ کرنے کی پیشکش کی تھی۔ ان کی نوعیت اور فوری جواب کی وجہ سے انہیں لوگ بہت پسند کرتے تھے۔ کئی بار ذاتی زندگی کی تمام یادیں بھی وہ سوشل میڈیا پر اشتراک کرتی تھیں۔

पति, बेटी, पार्टी... कुछ ऐसे एक साथ सब संभालती गईं सुषमा स्वराज

خاتون سیاستدانوں میں اندرا گاندھی کے بعد ان کا نام ہمیشہ عزت سے لیا جائے گا۔ خالصتا بھارتی لباس اور بڑی سرخ بندی میں ان کی ایک تصویر سب کے دماغ میں درج ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک خاتون لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بہترین وزیر خارجہ بھی رہیں۔

पति, बेटी, पार्टी... कुछ ऐसे एक साथ सब संभालती गईं सुषमा स्वराज

پارلیمنٹ کے چھٹے سیشن میں لیڈر کے طور پر 15 ویں لوک سبھا میں وہ اپوزیشن کی سب سے مضبوط چہرہ تھیں۔1977-1982 اور 1987-1909 کے دوران دو بار ہریانہ سے اور 1998 میں ایک بار دہلی سے ممبر اسمبلی بنیں۔ اکتوبر 1998 میں انہوں نے دہلی کی پہلی خاتون وزیر اعلی کا عہدہ سنبھالا۔ سشما سوراج موجودہ وقت میں مرکز میں حکمراں بی جے پی اور اپوزیشن کی رکن دونوں ہی کردار میں اس کے مضبوط شناخت درج کرا چکی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *