اسرائیلی قید میں بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیر کی حالت تشویشناک

Share Article
Hunger strike in Israeli captivity worsens Palestinian detention

اسرائیلی جیل میں انتظامی حراست کے خلاف بہ طور احتجاج مسلسل 40 دن سے بھوک ہڑتال کرنیوالے فلسطینی 38 سالہ سلطان احمد محمود خلف کی حالت تشویشناک ہوگئی ہے۔ دوسری جانب صہیونی جیل حکام اور فوج اسیر کے معاملے میں مسلسل لاپرواہی اور مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہو رہی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق شہداء و اسیران فائونڈیشن کی رپورٹ کے مطابق مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث اسیر محمود خلف کی حالت تشویشناک ہے۔ اس کے جسم میں شدید تکلیف ہے اور سانس لینے میں بھی دشواری ہے۔ کمر اور گردوں میں بھی تکلیف ہے۔خلف نے بتایا کہ اسیر کے ہاتھوں اور پائوں کے پٹھے کمزور ہوگئے ہیں اور آنکھوں کی بینائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ وہ کھڑے ہو کرنماز ادا کرنے سے قاصر ہے اور وہیل چیئر پربیٹھ کرنماز ادا کرتا ہے۔

انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ اسیر خلف کونام نہاد اسپتال’نیٹزان’ منتقل کیا گیا ہے مگر اسے وہاں پرکسی قسم کی طبی سہولت نہیں دی گئی۔ اس کے کمرے میں غیرمعمولی رطوبت ہے اور اس کے پاس لیٹنے کے لیے بستر تک نہیں۔ اسے کسی چیزکی ضرورت پڑتی ہے تو انتظامیہ اسے کسی قسم کی معاونت فراہم نہیں کرتی۔خیال رہے کہ محمود خلف کو اسرائیلی فوج نے 8 جولائی 2019ء کو حراست میں لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد اس اسے انتظامی قید میں ڈال دیا گیا جس پر اس نے بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کررکھی ہے۔ محمود خلف کے علاوہ اس وقت اسرائیلی جیلوں میں 7 فلسطینی انتظامی قید کے خلاف بہ طوراحتجاج بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئے ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *