مارے ملک کی سیاست یا تو کنفیوژ ہو گئی ہے یا پھر غیر حساس ہو گئی ہے۔ کشمیر میں لوگ غیر مطمئن ہیں،سڑکوں پر ہیں، کرفیو لگا ہوا ہے۔ عام لوگوں کے گھروں میں راشن کی، دودھ کی، پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے،لیکن ہندوستانی سیاست کی زمین کا کوئی بھی آدمی کشمیر جانے کی ہمت نہیں دکھا پارہا ہے یا کشمیر نہیں جانا چاہتا ہے۔ کشمیر کے علاوہ سارے ملک میں ایسی نفسیات پیدا ہو گئی ہے گویا کہ پورے سری نگر میں رہنے والے لوگ ، دوسرے معنی میں کشمیر میں رہنے والے لوگ ہند مخالف ہیں، اور ان سے کوئی بات نہیں کرنی چاہئے۔ ان سے صرف بات فوج کے ذریعہ کرنی چاہئے۔ سوشل میڈیا کے اوپر ایک کمپین چل رہاہے جس میں فوج کے نام سے پوسٹ ڈالی جارہی ہے۔ نوجوان لڑکوں کے فوٹو دکھائے جارہے ہیں اور کہا جارہاہے کہ یہ سب دہشت گرد ہیں اور فوج نے ان سب کو مارنے کی قسم کھائی ہے۔پورے ملک میں کشمیر کے خلاف مہم چل رہی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کی سرکار اس مہم کو چلنے دے رہی ہے۔ اس کے پاس کوئی جانکاری نہیں ہے کہ کون اس گھنائونی مہم کو چلا رہاہے۔ اس کے پاس اس بات کے لئے بھی پہل کرنے کا وقت نہیں ہے کہ ہندوستان کی سیاسی پارٹیوں کے لوگ کشمیر جائیں، ٹھیک ویسے ہی جیسے وہ حیدرآباد جاتے ہیں، جیسے وہ اتر پردیش جاتے ہیں،جیسے وہ ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں جاکر وہاں کے لوگوں سے بات کرتے ہیں۔
کیا سیاستدانوں سے ایک بڑی چوک نہیں ہورہی ہے کہ وہ کشمیر کی آواز کو نہیں سننا چاہتے ہیں جو آواز کسی بھی صورت حال کے تابع ہو کر سڑکوں پر پتھر چلا رہی ہے۔ کیا وہ کشمیر کی حالت نہیں سمجھنا چاہتے۔کیا وہ کشمیر کے لوگوں کو یہ بھی نہیں بتانا چاہتے کہ ہم تمہاری تکلیفوں کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ پارلیمنٹ بھی خاموش ہے، سرکار بھی خاموش ہے اور سیاسی پارٹیاں بھی خاموش ہیں۔
یہ صورت حال کشمیر کے سوال کو الجھا رہی ہے۔ سالوں سے کشمیری عوام کے دل میں یہ احساس بھر گیا ہے کہ دلی یا ہندوستان یا انڈیا ان کی بات سننا ہی نہیں چاہتا اور تب کوئی حادثہ ہوجاتا ہے۔برہان وانی نام کا لڑکا پولیس کی گولی سے مر جاتاہے اور اس کے جنازے میں 5لاکھ لوگ شامل ہو جاتے ہیں۔ برہان وانی کو ہندوستان کے سوشل میڈیا نے ایک بڑے ملی ٹینٹ کی شکل میں پیش کیا، کچھ ٹی وی چینلوں نے بھی اس کام میں ہاتھ بٹایا، کچھ ناسمجھ پرنٹ کے صحافی بھی اس شور کو بڑھانے میں شامل ہو گئے جبکہ 15سال کی عمر میں برہان وانی نے فیس بک کے اوپر اپنی موجودگی درج کرائی،دیکھنے میں خوبصورت لڑکا تھا۔ کشمیر کے نوجوانوں میں اس کی پوسٹ کو لے کر کشش پیدا ہوئی اور وہ پوسٹ بیان مانا گیا۔ اس کی زبان بڑی آسانی سے علاحدگی پسندوں کی زبان مان لی گئی۔کشمیر میں فیس بک کے اوپر جو بھی نوجوان ہے، اس کی پہچان بڑی آسانی سے کی جاسکتی ہے۔انتظامیہ چاہتا تو اسے پکڑ کر جیل میں ڈال دیتا،لیکن کشمیریوں کا کہنا ہے کہ اسے گرفتار کر کے گولی ماری گئی۔دوسری طرف انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے ہاتھ میں ہتھیار تھے اور وہ آمنے سامنے کی لڑائی میں مارا گیا۔ انتظامیہ کی اس بات پر کشمیریوں کو بھروسہ نہیں ہے، شاید اس لئے اس کے جنازے میں پانچ لاکھ لوگ شامل ہوئے۔
اور یہیں پر حافظ سعید کود پڑتا ہے، پاکستان سرکار کود پڑتی ہے اور کشمیر کے سوال کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ حافظ سعید کشمیر کے سوال پر پوری دنیا سے کروڑوں،اربوں روپے اکٹھا کرتا ہے۔ وہ ایک ادارہ ’’ جماعت الدعوۃ ‘‘بھی چلاتا ہے اور ہندوستان میں بھیجے جانے والے دہشت گردوں کو رسد بھی مہیا کراتا ہے۔ پاکستان سے جو خبریں آرہی ہیں وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ حافظ سعید دہشت گردی کا کیمپ بھی چلاتاہے۔ لیکن مزے کی بات ہے کہ جب کشمیر میں امن رہتا ہے تب حافظ سعید کچھ نہیں بولتا اور جہاں تھوڑی بد امنی نظر آتی ہے وہاں وہ دنیا کے مسلمانوں کو بتانے کی کوشش کرتاہے کہ یہ سب اسی کی وجہ سے ہوا۔ جبکہ سچائی یہ نہیں ہے۔ نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم ہیں، غیرمستحکم ہیں،ان کے اوپر بد عنوانی کے الزام لگے ہیں۔اتنا ہی نہیں، پاکستان میں فوج کے اقتدار میں دوبارہ آنے کا ڈر ہے اور ان سے لڑنے کے لئے نواز شریف نے کشمیر کو پاکستان میں ملانے کا راگ چھیڑ دیا ہے۔ اس سے وہ اپنے گھریلو مسئلے کا رخ موڑنے میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔لیکن اس ساری صورت حال سے کشمیر کا سوال ایک بھول بھلیاں میں پھنستا جارہا ہے۔سارے ملک کو لگتا ہے کہ کشمیر میں چل رہی بے اطمینانی پاکستان اور حافظ سعید کی دین ہے۔ کشمیر میں ہو رہی پتھر بازی حافظ سعید کی مدد سے ہورہی ہے ،جو کہ بالکل غلط ہے۔ پاکستان کچھ پیسے بھیج سکتا ہے، حافظ سعید سوائے بیان بازی کے اور کچھ نہیں کرسکتا ۔کہیں بھی کچھ ہو اور کوئی کھڑا ہو کر یہ کہہ دے کہ میں نے یہ کرایا ہے،وہ سچ نہیں مانا جاسکتا ہے،لیکن یہی بات ان لوگوں کے لئے ایک بڑا ہتھیار بن جاتا ہے جو اس ملک کو ہندو اور مسلمان میں بانٹنا چاہتے ہیں۔ کشمیر کے بہانے ہر مسلمان کو شک کی نظر سے دیکھنے کا ایک دور سوشل میڈیا پر ایسی طاقتوں نے شروع کردیا ہے۔
کیا ہمارے ملک کے سیاستدانوں ، ہمارے ملک کی میڈیا، ہمارے ملک کی پارلیمنٹ اتنی ناسمجھ ہے کہ حافظ سعید کے بیان کی بنیاد پر ملک میں اپنی پالیسی طے کرتی ہے۔ کیا ہم اتنے غیر جانکار ہیں کہ جو یہ نہیں جانتے کہ کشمیر کے لوگ کیا چاہتے ہیں یا حافظ سعید جو بات بناوٹی طور پر بولتا ہے، اسے ہم کشمیر کی آواز سمجھ لیتے ہیں۔ یہیں پر ہندوستان کی ناسمجھی سمجھ میں آتی ہے۔ ہماری بیرونی پالیسی کو، ہماری دفاعی پالیسی کو کوئی تین دہشت گرد یا کوئی حافظ سعید جیسا آدمی اتنا زیادہ متاثر کر لے گا، اس سے بڑا دماغی دیوالیہ پن کا ثبوت اور کیا ہوسکتاہے؟
ہونا یہ چاہئے کہ ہم حافظ سعید کو پوری طور پر ایک ایسے جوکر کے طور پر دنیا کے سامنے رکھیں جو کشمیر کے لوگوں کے درد اور آنسو کے عوض ساری دنیا سے پیسہ اکٹھا کرتا ہے۔ کشمیر کے گزشتہ 20دنوں کے تنائو میں بھی اربوں روپے حافظ سعید کے کھاتے میں آئے ہیں،ایسا مجھے حافظ سعید کو جاننے والے ایک دوست نے بتایا۔ کشمیر کے لوگوں کے آنسو، درد اور تکلیف، جس کے لئے وہ سڑکوں پر پتھر چلا رہے ہیںیا آندولن کررہے ہیں،اس کی کوئی قیمت حافظ سعید کے لئے نہیں ہے۔اس کے لئے کشمیر میں ہونے والا ہر حادثہ،اس کے لئے پیسہ کمانے کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور نواز شریف جب برہان وانی کی موت کو شہید دیوس منانے یا کالا دیوس منانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو وہ کشمیر کی لڑائی کو برباد کرتے ہیں۔ کشمیر کے لوگوں کی لڑائی وہی ہے جو بنگال ، بہار، اڑیسہ کے لوگوں کی لڑائی ہے۔بھوک اور بے روزگاری کے خلاف راستہ تلاش کرنے کی لڑائی ہے، کشمیر کی لڑائی اس سے الگ نہیں ہے۔ نواز شریف اس لڑائی کو تباہ اور برباد کرنا چاہتے ہیں اور اسے فرقہ وارانہ تنائو کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
لیکن جب ہمارے ملک کے سیاست داں اس جال میں پھنستے ہیں، تب لگتا ہے کہ حافظ سعید اور نواز شریف زیادہ سمجھدار ہیں،ہمارے ملک کے لیڈر کم سمجھدار ہیں۔ہمارا ملک جمہوری ہے،طاقتور ملک ہے، تکنیکی اعتبار سے آگے ہے، ہمیں پاکستان اور حافظ سعید جیسے لوگوں کی جال سازی میں پھنس کر اپنے کو ان کے جال میں نہیں الجھانا چاہئے۔
اب کشمیر کا حال یہ ہے کہ کشمیر میں حریت کا بھی کنٹرول ختم ہو رہا ہے۔27جولائی کو حریت نے بیان دیا تھا کہ دوپہر کے بعد بند واپس ہو جائے اور لوگ اپنے گھروں کا سامان خرید سکیں۔ سرکار نے بھی کرفیو میں ڈھیل دی،لیکن 18سے 20 سال کے کچھ لڑکے نکل آئے۔انہوں نے موٹر سائیکل کو چلنے سے روک دیا۔ کھلی دکانوں کو بند کرا دیا اور دوبارہ کرفیو لگوا دیا۔ انتظامیہ کو جتناسمجھدار ہونا چاہئے، اتنی سمجھداری دکھانے میں کمی کر رہی ہے۔ ایک حادثہ کشمیر میں ہوتا ہے تو وہ عالمی سطح پر سرخیاں بنتا ہے اور کشمیر میں یہ چھوٹا واقعہ ہوتا رہے، اس کے پیچھے وہاں کی اندرونی سیاست بھی ہے۔کشمیر کی دو بڑی پارٹیوں میں سے ایک بڑی پارٹی کے گڑھ میں زیادہ حالت خراب رہی اور ایک پارٹی کے گڑھ میں کم حالت خراب رہی۔ اس بد امنی کو کشمیر کے لوگ سیاستدانوں کی اس سیاست کی شکل میں بھی دیکھتے ہیں کہ کشمیر میں صدر راج لگ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کا نوجوان مطمئن نہیں ہے،لیکن کسی بھی ایک قیادت کے تحت کام نہیں کر رہا ہے۔ کشمیر میں آج حریت بھی بے بس ہے، سرکار بھی بے بس ہے۔وہاں کے عام آدمی بھی بے بس ہیں۔ بس اگر کوئی خوش ہے تو وہ لوگ جو کشمیر کی اس بد امنی میں اپنی سیاست کو کامیاب ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں یا پھر وہ طاقتیں جو کشمیر کی اس حالت سے ساری دنیا سے پیسہ کمانے کا ایک زبردست موقع حاصل کرچکی ہے۔ میں ہندوستان کے سیاست دانوں سے ،ممبران پارلیمنٹ سے، سیاسی پارٹیوں سے اور خاص طور پر ہندوستان کی سول سوسائٹی سے یہ اپیل کرنا چاہوں گا کہ بغیر وقت ضائع کئے انہیں کشمیر جانا چاہئے اور کشمیر کے عام آدمی سے بات کرنی چاہئے اور وہ کیا کہتے ہیں،اسے دھیان سے سننا چاہئے۔یہ اس لئے ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں کوئی نہیں مانتا کہ کشمیر جنگ کے بل پر جیتا جاسکتا ہے۔کشمیر میں بھی یہ کوئی نہیں مانتا کہ کشمیر پاکستان میں جاسکتا ہے۔بولنا ایک بات ہے، حقیقت دوسری بات ہے۔اسی لئے کشمیر ایک لیبارٹری ہے جہاں کے لوگوں کو نفیساتی طور پر ملک کے ساتھ کیسے کھڑا کرے، اس کا استعمال ہونا ضروری ہے اور اس کا ایک ہی طریقہ میری سمجھ میں ہے کہ کشمیر کے لوگوں سے کھلی بات چیت پارلیمنٹ کو ،سیاستدانوں کو کرنی چاہئے اور ان طاقتوں کو روکنے کی کوشش کرنی چاہئے جو کشمیر کو ہندوستان سے الگ نفسیات والی ریاست دکھانے کی کوشش سوشل میڈیا پر کر رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here