ہمیں اپنے ملک کا اعتماد برقرار رکھنا ہے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
پچھلے ہفتہ میں نے چوتھی دنیا کی رپورٹ میں انڈین ایکسپریس اور شیکھر گپتا کی صحافت پر کئی سوال اٹھائے۔ ان سوالوں کو اٹھاتے ہوئے مجھے ہمیشہ یاد رہا کہ گزشتہ برسوں میں انڈین ایکسپریس نے کیسی صحافت کی اور شیکھر گپتا نے آج اپنا مقام کتنی محنت سے بنایا ہے۔ لیکن سوال تو سوال ہے اور کبھی یہ سوال اتنی بڑی شکل میں ہمارے سامنے آکر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی وہ لکھنا پڑتا ہے جو نہیں لکھنا چاہیے۔ انڈین ایکسپریس کی پوری صحافت اور اس ایک واقعہ کو اگر تولیں تو لوگ الگ الگ نتیجہ نکالیں گے۔ انہیں لگے گا کہ اب تک کی گئی پوری صحافت ہلکی ہے اور یہ واقعہ، جس کا رشتہ فوج کی عزت اور ملک میں چل رہے تنازع سے زیادہ بھاری ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ امید کرنی چاہیے کہ یہ واقعہ، محض ایک واقعہ ہی بن کر رہ جائے گا، رجحان نہیں بنے گا اور شیکھر گپتا اور انڈین ایکسپریس مستقبل میں ان چیلنجز کا سامنا کریں گے جو صحافت کے پیشہ کے سامنے آکر کھڑے ہو گئے ہیں، اور اگر بڑے پیمانے پر دیکھیں تو ملک کے سامنے آکر کھڑے ہو گئے ہیں۔ جب ہم ہندوستانی صحافت کے پس منظر کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ صحافت کے بہت سے پیمانے ختم ہو رہے ہیں اور دوستی، رشتے، دباؤ زیادہ معنی رکھنے لگے ہیں۔ اب صحافیوں کے درمیان ویسے رشتے بھی نہیں رہے، جنہیں ہم اپنائیت کا رشتہ کہہ سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ آج سے پندرہ بیس سال قبل کے صحافی ایک دوسرے کے نظریے سے متفق نہیں ہوتے تھے اور ایک دوسرے کے خلاف رپورٹ بھی لکھتے تھے، لیکن ان کے باہمی رشتے بہت خوش گوار ہوتے تھے۔ آج ایسا نظر نہیں آتا۔ آج اگر کوشش بھی کریں تو یہ کوشش کتنی کامیاب ہوگی، کہہ نہیں سکتے۔ صحافت چاہے ہندی کی ہو یا انگریزی کی یا پھر اردو کی، صحافت تو صحافت ہے اور صحافت کا سب سے بڑا چیلنج سچائیوں کو سامنے لانا ہے۔ لیکن آج ہمارے ساتھی سچائی کو سامنے لانے کی جگہ سچائی کو چھپانے میں اپنی طاقت لگا رہے ہیں اور ایسی ایسی دلیلیں دے رہے ہیں، جو انہیں فائدہ پہنچاتی ہیں، جن کا اس ملک کے بنیادی سوالوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ایک دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ ہمارا معاشرہ بدعنوانی کے چنگل میں اتنا پھنستا جا رہا ہے کہ کوئی آدمی سو روپے رشوت دے کر اپنا کام کرانا زیادہ پسند کرے گا، بہ نسبت اس کے کہ وہ تھوڑی تکلیف برداشت کرے۔ یہ دلیل بہت خطرناک ہے۔  جب کچھ صحافیوں نے میرے سامنے یہ دلیل رکھی تو میں نے ان سے کہا کہ سو روپے رشوت کی بات کہہ کر ہمارے ساتھی ایک لاکھ کروڑ، دو لاکھ کروڑ، چھبیس لاکھ کروڑ کی رشوت یا لوٹ کو دلیل کا جامہ پہناتے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں ہے کہ سو روپے کی رشو ت دے کر عام آدمی سہولیات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو اسے یہ سہولیات حاصل کرنی چاہئیں۔ مجھے یہ بھی کہنے میں کوئی جھجک نہیں ہے کہ میں اس سو روپے کی رشوت کے خلاف نہیں ہوں۔ لیکن میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ ایک لاکھ کروڑ یا چھبیس لاکھ کروڑ کی لوٹ، چاہے وہ رشوت کی شکل میں ہو یا پھر چوری کی شکل میں ہو، اس ملک میں چلے۔ میری سیدھی دلیل یہ ہے کہ اگر اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ بدعنوانی کو روکتے ہیں، رشوت یا چوری کو روکتے ہیں، تو یہ سو روپے کی رشوت خود بخود کٹ کر پچاس روپے تک پہنچ جائے گی۔ لیکن وہ سارے لوگ، جو معاشرے میں پھیلی ہوئی ذاتی بدعنوانی کو بنیاد بناکر اونچی سطح پر ہونے والی بدعنوانی کو نظرانداز کرنے کی بات کرتے ہیں، وہ لوگ اس ملک کو تباہ کرنے کی بات کرتے ہیں۔ اسی طرح صحافت میں بھی میرا ماننا ہے کہ ایڈیٹر اگر اپنے کسی عزیز کے بارے میں رپورٹ شائع کرانے کے لیے نامہ نگار کو اشارہ کرتا ہے، یا جنہوں نے بہت بڑی گڑبڑ کی ہے، ان کو نظر انداز کرنے کا اشارہ کرتا ہے تو ایڈیٹر یہ کام ایک بار کرے گا، لیکن اس کا رپورٹر اسے سو بار کرے گا۔ یہاں پر بھی یہی اصول نافذ ہوتا ہے کہ ایڈیٹر اگر اپنی ذمہ داری پر سو فیصد کھرا اترنے کی کوشش کرے گا تبھی اس کا رپورٹر بھی سو فیصد کھرا اترنے کے لیے جی جان لگائے گا۔
چیلنجز بہت زیادہ ہیں اور اس لیے بھی زیادہ ہیں، کیوں کہ لوگوں کا اعتماد بہت سے اداروں سے اٹھ رہا ہے اور اب ان اداروں کے دائرے میں عدلیہ بھی آگئی ہے۔ جس ملک میں بیوروکریسی، مقننہ یعنی پارلیمنٹ اور اسمبلیاں اور عدلیہ لوگوں کے شک کے دائرے میں آ جائے، اس ملک میں لوگوں کا انتظامیہ سے بھروسہ اٹھ جانا فطری ہے، کیوں کہ یہی تینوں مل کر انتظامیہ کی تشکیل کرتے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر کسی کو مضبوط رول نبھانا ہے یا نبھانا چاہیے تو وہ صرف صحافت ہو سکتی ہے۔ اور اگر صحافی ہی اپنا فرض نہ نبھائے اور اُن چیزوں کے خلاف ہاتھ ملا لے، جن چیزوں کی وجہ سے ملک کے عام آدمی کا بھروسہ ٹوٹتا ہے یا ناامیدی پیدا ہوتی ہے تو پھر کیا کہہ سکتے ہیں۔ کیا ہم صحافیوں کا کسی سیاسی پارٹی یا کسی سیاسی لیڈر کے لیے ہتھیار کی شکل میں استعمال ہونا صحیح مانا جا سکتا ہے؟ یہ کسی کے اوپر الزام نہیں ہے، بلکہ صرف ایک خیالی صورتِ حال ہے۔ میں صرف ایک خیالی صورتِ حال کی بات کر رہا ہوں کہ اگر ہم دو وزیروں کے درمیان میں کسی ایک کی لڑائی اپنے سر لے لیں یا ملک میں بدعنوانی بنام ایمانداری کی لڑائی میں ہم بدعنوانی کی حمایت میں کھڑے ہو جائیں، کیوں کہ اگر ہم یہ کہیں کہ ہمیں دونوں فریقین کی بات کہنی ہے ، اور ظاہر ہے کہ اس میں ایماندار فریق اپنی بات کبھی کہہ نہیں پاتا، کیوں کہ وہ کانسپریٹر نہیں ہوتا، وہ سازش نہیں کرتا۔ اس لیے اس بات کا فیصلہ ہم صحافیوں کو خود کرنا چاہیے کہ واقعی سچائی کہاں کھڑی ہے۔ مجھے ایک بات کی خوشی ہے کہ تقریباً ہر ادارہ کے زیادہ تر صحافی مجھے فون کرتے ہیں اور مجھ سے ملنے بھی آ رہے ہیں۔ وہ اپنے اپنے اداروں میں چل رہے ایک عجیب قسم کے زہریلے ماحول سے بہت پریشان ہیں، اتنے زیادہ پریشان ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسے ٹوٹے گا۔ ان لوگوں کی یہاں بھی پریشانی ہے جو بہت جمہوری ادارے مانے جاتے ہیں، کہ اوپر سے حکم آتا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ صحافت کا ایک الگ مزاج ہوتا ہے، لیکن اگر آپ کے یہاں کام کرنے والا صحافی ہی، سب ایڈیٹر ہی یہ ماننے لگے کہ ہمارے ادارہ کا کام کسی ایک فلاں صاحب یا فلاں پارٹی کے لیے دلیل گڑھنا ہے، تو یہ صورتِ حال بہت اچھی نہیں کہی جاسکتی۔ ہمارے پیشہ کے اوپر بہت لوگ بھروسہ کرتے ہیں۔ ہمارے لکھے ہوئے کو لوگ ثبوت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ جہاں اتنا اعتماد اور عزت ملتی ہو وہاں پر ہم اس احترام کی بے عزتی کریں، ہم اس اعتماد کو توڑیں تو یہ صحافت کے تئیں ہمارا افسوس ناک رویہ ہوگا۔ میں ادب کے ساتھ اپنے ساتھیوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں اور خاص کر ساتھی ایڈیٹروں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ براہِ کرم عام آدمی کے، اس ملک میں رہنے والے لوگوں کے اور ان کے اعتماد کو تو بالکل مت توڑیے جو اس ملک کے مستقبل میں یقین رکھتے ہیں، جن کا ماننا ہے کہ آج دشواریاں ہیں، لیکن کل یہ دشواریاں شاید دور ہوں۔ آج عدم اعتماد ہے، لیکن کل اعتماد ہوگا۔ میں جانتا ہوں، میری اس بات کو میرے بہت سے ایڈیٹر ساتھی پسند نہیں کریں گے، لیکن پھر بھی مجھے یقین ہے کہ ابھی بھی سدھارتھ وَرد راجن، شیکھر گپتا، ایم جے اکبر، رجت شرما اور راجدیپ سردیسائی جیسے لوگوں میں کہیں نہ کہیں وہ ہمت، کہیں نہ کہیں وہ جذبہ باقی ہے، جو جذبہ ہندوستان جیسے ملک میں ان طاقتوں سے لڑنے کے لیے بنیادی شرط بن سکتا ہے۔ اگر ابھی بھی صحافی یہ ٹھان لے کہ وہ اس ملک کی خود اعتمادی کو توڑنے والوں سے سمجھوتہ نہیں کرے گا تو کوئی طاقت نہیں ہے جو ہمارے ملک کے مورال کو ڈاؤن کر سکے۔ بس خیال یہ رکھنا چاہیے کہ ہم انجانے میں وہ کام نہ کر بیٹھیں، اتنی بڑی غلطی نہ کر بیٹھیں کہ لوگ کہیں کہ انہوں نے ملک کا اتنا نقصان کر دیا جتنا کہ چین اور پاکستان بھی نہیں کر پائے۔ ہمیشہ اچھے کی تمنا کرنی چاہیے اور میں یہ تمنا دعا کی شکل میں کر رہا ہوں، ان سے جو اس ملک میں صحافت کو سمت دینے کے لیے کھڑے ہیں۔ یہ چھوٹی آس نہیں ہے، بلکہ یہ ملک کے ہر اس آدمی کی آس کا اظہار ہے جو اس ملک کے اخباروں، رسالوں اور خاص کر نیوز چینلوں سے سچائی کی، ایمانداری کی اور ہمت کی امید کیے بیٹھا ہے۔   g

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *