ہم تو خود اپنے ہاتھوں بے عزت ہو گئے

Share Article

سنتوش بھارتیہ 
زی نیوز نیٹ ورک کے دو ایڈیٹر پولس کے ذریعے گرفتار کر لیے گئے۔ اس گرفتاری کو لے کر زی نیوز نے ایک پریس کانفرنس کی۔ اگر وہ پریس کانفرنس نہ کرتے تو شاید زیادہ اچھا رہتا۔ اس پریس کانفرنس کے دو اہم نکات رہے۔ پہلا یہ کہ جب عدالت میں کیس چل رہا ہے تو ایڈیٹروں کو کیوں گرفتار کیا گیا اور دوسرا یہ کہ پولس نے دفعہ 385 کیوں لگائی، اسے 384 لگانی چاہیے تھی۔ نوین جندل ملک کے ان 500 لوگوں میں شمار ہوتے ہیں، جن کے لیے سرکار، اپوزیشن پارٹی اور پوری پارلیمنٹ کام کر رہی ہے۔ جتنی بھی اقتصادی اصلاحات ہو رہی ہیں، ان کا فائدہ لینے والی قطار میں نوین جندل ایک اہم نام ہیں۔ نوین جندل پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ نوین جندل اور ان کی برادری کے لوگوں نے ہی پورے نظام کو ملک کے 75 فیصد لوگوں کے خلاف کھڑا کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے اس نظام نے نوین جندل کے حق میں زی نیوز کے دونوں ایڈیٹروں کو رات میں گرفتار کیا۔
زی نیوز کے ذریعے اس پورے واقعہ کو صحافت پر حملہ بتانا غلط ہے۔ زی نیوز کا کہنا ہے کہ اس کے ایڈیٹر اسٹنگ آپریشن کر رہے تھے، تاکہ وہ نوین جندل کو ایکسپوژ کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوین جندل ان پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ ان کی ایک کمپنی کو ملے کول بلاک کے خلاف خبریں اپنے چینل پر نہ دکھائیں۔ مذکورہ دونوں ایڈیٹر نوین جندل کے پاس گئے اور انہوں نے ان سے بات چیت کی، لیکن اس کا ریکارڈ ان کے پاس نہیں ہے۔ مذکورہ دونوں ایڈیٹر نوآموز نہیں ہیں۔ انہیں اسٹنگ آپریشن لفظ کا مطلب ضرور معلوم ہوگا۔ اسٹنگ آپریشن کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ خفیہ طور پر ہونے والے کسی بھی واقعہ، بات چیت کا یا تو کاغذی بیورہ رکھیں، آڈیو ریکارڈ رکھیں یا پھر ویڈیو ریکارڈ رکھیں۔ آج تو اتنے زیادہ سوفسٹکیٹیڈ انسٹرومنٹس آ گئے ہیں کہ بات چیت کرنے والے کو یہ پتہ ہی نہیں چلتا اور دو کلومیٹر دور بیٹھ کر بات ریکارڈ ہو جاتی ہے۔ پین میں ویڈیو کیمرہ ہوتا ہے، انگوٹھی میں ویڈیو کیمرہ ہوتا ہے اور ٹائی پن میں ویڈیو کیمرہ ہوتا ہے، جس سے ویڈیو ریکارڈنگ کی جاسکتی ہے۔ آڈیو ریکارڈنگ کے تو کئی طریقے موجود ہیں۔ مذکورہ دونوں ایڈیٹر اگر اسٹنگ آپریشن کر نے گئے تھے ، تو ان کے پاس آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ ضرور ہونی چاہیے تھی۔ اس کا نہ ہونا بتاتا ہے کہ یہ اسٹنگ آپریشن نہیں تھا۔
وہیں دوسری جانب نوین جندل نے اپنے یہاں آئے مذکورہ دونوں ایڈیٹروں کے ساتھ ہوئی ساری بات چیت ریکارڈ کر لی اور انہوں نے بات چیت کا ایک حصہ میڈیا کے سامنے عام کر دیا اور پولس میں شکایت بھی کردی۔ پہلے یہ نہیں معلوم تھا کہ زی نیوز کے ایڈیٹر کئی بار نوین جندل اور ان کے لوگوں سے مل چکے ہیں، پر خود پریس کانفرنس میں زی نیوز نے اس بات کا خلاصہ کیا کہ وہ لوگ کئی بار نوین جندل اور ان کے اہل کاروں سے مل چکے تھے۔ زی نیوز اس ’کئی گھنٹے‘ کی بات چیت کی سی ڈی کو منظر عام پر لانے کی بات کر رہا ہے، پر اپنے دونوں ایڈیٹروں کی کسی طرح کی بات چیت کے ریکارڈ کی جانکاری نہیں دے رہا ہے۔
زی نیوز کی دوسری دلیل بہت خطرناک ہے۔ زی نیوز کہتا ہے کہ اس کے لوگ ملے، انہوں نے پیسے مانگے، لیکن انہیں پیسے تو ملے نہیں۔ اس لیے ان پر دفعہ 385 کیوں لگائی گئی، جو پیسے کے لین دین کے بعد لگتی ہے۔ ان پر دفعہ 384 لگائی جانی چاہیے تھی، جو پیسے مانگنے اور پیسے مانگنے کے لیے دھمکانے کے بعد لگائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب زی نیوز یہ کہنا چاہتا ہے کہ جتنے بھی لوگ دھمکی دے کر پیسے مانگتے ہیں، چاہے وہ دبئی میں بیٹھے ڈان ہوں یا دہلی اور ممبئی کے مجرم، انہیں فون پر پیسے مانگنے کے عوض میں گرفتار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ان پر ایسی دفعات لگانی چاہئیں کہ ان کی ضمانت تھانے میں ہی ہو جائے۔
صحافت ایک ایسا پیشہ ہے، جسے لوگ میڈیکل پروفیشن سے زیادہ مقدس مانتے ہیں۔ جب سب جگہ امید ٹوٹ جاتی ہے، تب لوگ صحافی کے پاس جاتے ہیں اور یہ توقع کرتے ہیں کہ ان کی تکلیفوں کا علاج ہوگا، اس کا سودا نہیں ہوگا۔ کبھی سنتے تھے کہ ضلعوں میں کچھ ایسے صحافی ہوتے ہیں، جو رپورٹ کے عوض میں اہل کاروں سے پیسوں کی مانگ کرتے ہیں۔ انہیں لوگ برا بھلا کہتے ہیں، لیکن اگر دہلی میں بیٹھے قومی سطح کے صحافیوں کے بارے میں بھی ایسی رائے بننے لگے تو اسے صحافت کا المیہ ہی کہہ سکتے ہیں۔ صحافت ایک ایسا پیشہ ہے، جس پر ایک کہاوت بالکل صحیح ڈھنگ سے لاگو ہوتی ہے کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے، پر اب تو لگتا ہے کہ صحافت کے تالاب میں ایسی کئی مچھلیاں داخل ہو چکی ہیں۔
زی نیوز ادارہ نے جس طرح اپنے ایڈیٹروں کا ساتھ دیا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ زی نیوز کی پوری حمایت پاکر یا زی نیوز کے اشارے پر ہی مذکورہ صحافی نوین جندل سے بات چیت کرنے گئے ہوں گے۔ ایڈیٹر ادارہ کے مفادات کو دیکھے، یہ تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن ادارہ کے لیے پیسوں کی اُگاہی کرے، یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ میرا ماننا ہے کہ زی نیوز نے صحافت میں ایک نئی روایت قائم کی ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ دوسرے ادارے اس روایت پر عمل نہیں کریں گے اور صحافتی وقار کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری نبھائیں گے۔ جب ویڈیو ریکارڈنگ کی سہولت نہیں تھی اور سوفسٹکیٹیڈ ٹیپ ریکارڈرس دستیاب نہیں تھے، تب بھی اسٹنگ آپریشن ہوتے تھے، انٹرویو ہوتے تھے، اسٹوریاں بریک ہوتی تھیں اور ان رپورٹس پر وزراء اور وزرائے اعلیٰ کے استعفے ہوتے تھے۔ ان دنوں عدالتیں مقدمہ ہونے پر رپورٹر کے ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹ کو ثبوت مانتی تھیں۔ آج جب اتنے وسائل دستیاب ہیں تو زی نیوز کے مذکورہ دو عظیم صحافی کس طرح کا اسٹنگ آپریشن کر رہے تھے، سمجھ میں نہیں آتا۔ صحافیوں کے دامن پر سب سے بڑا دھبہ نیرا راڈیا کے ٹیپ نے لگایا، جس میں کئی عظیم صحافی سرکار میں وزیر بنانے کا دعویٰ کرتے دیکھے گئے، اور دوسرا بڑا دھبہ زی نیوز سے متعلق نوین جندل والے واقعہ نے لگایا ہے۔ ہماری اپنی عزت ہمارے اپنوں نے ہی تار تار کر دی۔ اس کا افسوس کیسے منائیں، سمجھ میں نہیں آتا۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *