ہم گائے کھانے والے نہیں،بیچنے والے بھی نہیں،محافظ ہیں

Share Article

p-12گئو کشی کے نام پر ملک میں مسلمانوں اور دلتوں کو بربریت کا نشانہ بنانے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔فرقہ پرست عناصر گئو رکشا کے نام پورے ملک میں تانڈو کررہے ہیں اور حکومت ان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کرتی ہے جس کی وجہ سے ان کا حوصلہ بلند ہے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کوایسے گناہوں کی سزا دی جارہی ہے جس گناہ کو اس نے انجام دیا ہی نہیں ہے۔مسلمانوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ گئو کشی کرتے ہیں۔وہ خود گائے کا گوشت کھاتے ہیں اور بڑے پیمانے پر گائے کا گوشت ایکسپورٹ کرتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی گائے کو قتل کرنے والے مسلمانوں کی بہ نسبت ہندوئوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔آج ہمارے ملک سے جو بیف ایکسپورٹ ہوتا ہے، ان میں بڑے نام ہندوئوں کے ہی ہیں۔مثال کے طور بیف ایکسپورٹ کرنے والی ایک بڑی کمپنی الکبیر ایکسپورٹ کے مالک مسٹر ستیش اور اتل سبھروال ہیں۔اسی طرح عربین ایکسپورٹ کے مالک سنیل کپور، ایم کے آر فروزن ایکسپورٹ کے مالک مدن اے ٹب، بی ایم ایل کے مالک اے ایس بندر ،النور ایکسپورٹ کے مالک مسٹر اے سود ہیں۔ ایسے نہ جانے اور کتنے بیف ایکسپورٹ کمپنیوںکے مالک ہندو ہیں اور ان کمپنیوں کے ذریعہ گائے کا گوشت بیرون ملک بھیجا جاتا ہے، مگر الزام مسلمانوں کے سر ڈال دیا جاتا ہے۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ سبز انقلاب لانے کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد بیف ایکسپورٹ میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ہندوستان بیف کے کاروبار میں پہلی پوزیشن پر آگیا ہے ۔2015 میں اس کارو بار سے ملک نے 4.8 ارب ڈالر کا غیر ملکی زر مبادلہ حاصل کیا۔APEDA کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا بیف ایکسپورٹر ہے۔ اس کے بعد برازیل اور آسٹریلیا کا نمبر آتا ہے۔جب سے بی جے پی کی حکومت بنی ہے ۔بیف ایکسپورٹ کی خوب حوصلہ افزائی ہوئی اور اس حوصلہ افزائی کے نتیجے میں بی جے پی حکومت میں بیف ایکسپورٹ میں 14فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 2014-15
کے دوران ہندوستان میں 24 لاکھ ٹن گوشت ایکسپورٹ ہوا ہے جو کہ دنیا میں ایکسپورٹ کئے جانے والے کل گوشت کا 58.7فیصد ہے۔اگر ہم مذکورہ اعدادو شمار کا جائزہ لیتے ہیں تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آج ملک میں کچھ فرقہ پرست عناصر کی طرف سے جا بجا مسلمانوں اور دلتوں کو گئو کشی کے نام پر جو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے دراصل یہ سازش کا ایک حصہ ہے ،ورنہ نہ تو مسلمان اور مسلم تنظیمیں مسلسل گئو کشی کی حوصلہ شکنی کرتی رہی ہیں۔
ابھی حال ہی میں ’’اتحاد ملت کونسل‘ کی طرف سے کانسٹی ٹیوشن کلب کے مائولنکر ہال میں ایک سمپوزیم منعقد ہوا۔اس سمپوزیم کا عنوان’Symposium On Beef Export Ban‘‘تھا۔اس سمپوزیم میں ملک کی نامور ہستیوں نے شرکت کی اور ملک کے موجودہ حالات اور موجودہ حکومت میں بیف ایکسپورٹ کے بڑھتے رجحان پر روشنی ڈالی ۔بیشتر شرکار نے بیف ایکسپورٹ کے بڑھتے رجحان کی حوصلہ شکنی کی۔ سمپوزیم کو خطاب کرتے ہوئے ’’ اتحاد ملت کونسل‘‘ کے صدر مولانا توقیر رضا نے کہا ’’کہ ہم جس نبی کا اتباع کرتے ہیں ،اس نبی نے کہا ہے کہ ’’ گائے کے دودھ اور اس کے گھی میں شفا ہے اور اس کے گوشت سے بچو کیونکہ اس کے گوشت میں بیماری ہے‘‘۔پھر ایک مسلمان گائے کے گوشت کھانے کو کیسے پسند کرے گا۔ میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ مسلمان گائے کا گوشت نہیں کھاتے ہیں ۔کچھ مسلمان کھاتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اس گائے کو ذبح کرنے کے لئے بیچتا کون ہے ،وہ ہندو ہے۔ہندو گائے کو اپنی ماتا کہتے ہیں اور جب یہی ماتا بوڑھی ہوجاتی ہے تو اسے کسی قصائی کے ہاتھوں بیچ دیتے ہیں۔آج ملک میں زیادہ گئو کشی ہندوئوں کے ہاتھوں ہورہی ہے اور حکومت اس کا الزام مسلمانوں کے سر ڈالتی ہے۔کیونکہ حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے۔میں کہتا ہوں کہ صرف گائے نہیں بلکہ ان تمام جانوروں کی حفاظت حکومت کو کرنی چاہئے جو دودھ دینے والے ہیں کیونکہ دودھاری جانورخاندانوں کی پرورش میں معاون ہوتے ہیں‘‘۔ سمپوزیم کو خطاب کرتے ہوئے سید عزیز پاشا نے کہا کہ گئو کشی کا الزام مسلمانوں پرڈالنا اور دلتوںکوتشدد کا نشانہ بنانا دراصل یہ سب ووٹ بینک کا ایک حصہ ہے ۔حکومت ان ایشوز کو اٹھا کر سیاست کررہی ہے۔کیونکہ یوپی الیکشن قریب ہے اور بی جے پی کو یہ الیکشن جیتنا ہے اس لئے وہ اس طرح کے ایشوز کو اچھال رہی ہے۔ورنہ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کی حکومت کے دوران ہی بیف ایکسپورٹ زیادہ ہوا ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ مہمان خصوصی کی حیثیت سے اس سمپوزیم میں شریک تھے ۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت کہتی ہے ’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘مگر ایسا لگتا ہے کہ اس کے ’سب‘ میں مسلمان اور عیسائی شامل نہیں ہیں۔وہ وزیر اعظم جو ذرا ذرا سی بات پر ٹویٹ کرتے ہیں، انہوں نے اخلاق جیسے واقعہ پر کچھ نہیں کہا۔ایسا لگتا ہے کہ ملک میں جو گئو کشی کے نام پر تشدد کے واقعات ہورہے ہیں اس میں ان کی سرپرستی حاصل ہے ،یہی وجہ تو ہے کہ ان کی کابینہ کے لوگ مسلمانوں کے خلاف نازیبا بیان دیتے ہیں مگر انہیں کابینہ سے نکالا نہیں جاتا ہے۔میںخود گئو کشی کا مخالف ہوں لیکن کسی بھی مسئلے کو تشدد سے نمٹانا یا کسی چیز کو نافذ کرنے کے لئے قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے لینا اور مخصوص طبقے کو نشانہ بنانے کے مخالف ہوں۔ میں اس کے خلاف لڑی جانے والی ہر لڑائی میں ہمیشہ کھڑا رہوں گا۔
فلمی دنیا کے مشہور اداکار رضا مراد نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیر اعظم کا ’’ سوچھ ابھیان ‘‘ ایک اچھی بات ہے۔ لیکن سوچھ یعنی صفائی صرف کچرے اور جسم کی نہیں بلکہ ذہنوں کی بھی ہونی چاہئے۔میں آج ہی وارانسی سے آیا ہوں۔میں نے وہاں گنگا کے پانی میں اتر کر ایک آدمی کو سوریہ نمسکار کرتے دیکھا اور اس سے کچھ فاصلے پر ایک مسلمان گنگا کے پانی سے وضو کررہا تھا۔جب گنگا کا پانی ہندو اور مسلمانوں میں تفریق نہیں کرتا اور گنگا کا پانی ہندو اور مسلمانوں کے کھیتوںکو برابر سیراب کرتا ہے ہم اور تم کون ہیں جو گنگا کے بچوں میں تفریق کریں۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دہشت گردی صرف بندوق سے نہیں بلکہ زہریلے الفاظ سے بھی ہوتی ہے۔اسے روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
سمپوزیم کو خطاب کرتے ہوئے مشہور صحافی سنتوش بھارتیہ نے اتنہائی صاف گوئی سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی سیاسی اجلاس میں شامل نہیںہوتا ہوں کیونکہ میںایک صحافی ہوں، لیکن جب جناب توقیر رضا نے مجھے سمپوزیم کے اجلاس کے عنوان کے بارے میں بتایا تو میں اس میں شامل ہونے سے خود کو روک نہیں پایا۔آج ماحول عجیب و غریب بنا ہوا ہے ۔بیف کا استعمال عام طور پر ملک میں گائے سے جوڑ دیا جاتا ہے۔کیونکہ گائے سے جوڑنے کی صورت میں یہ ایک جذباتی مسئلہ بن جاتا ہے اور اس کا فائدہ کچھ لوگ اٹھاتے ہیں۔یہ لوگ سوچ سمجھ کر یہ کام کررہے ہیں۔عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ بیف کی جو ایکسپورٹ کمپنیاںہیں ان کے نام عربی میں رکھ دیئے جاتے ہیں ،جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ ایکسپورٹ کرنے والے مسلمان ہیں جبکہ اصلیت یہ ہے کہ اس کے ایکسپورٹ کرنے والے زیادہ تر جین اور ہندو ہیں،یہ سب کچھ سوچ سمجھ کر کیا جارہا ہے۔میں دیکھ رہا ہوں کہ اگر گائے کے نام پر سیاست بند نہیں ہوئی تو آنے والے وقت میں 1947سے بھی بد تر فساد ہوسکتا ہے۔ اس لئے اس طرح کی کانفرنس جگہ بہ جگہ ہونی چاہئے تاکہ لوگوںکو بیدار کیا جاسکے۔
جے این یو اسٹوڈنٹس اور مشہور طالب علم کنہیا کمار نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کے حالات بڑے عجیب ہوگئے ہیں۔جس موضوع پر بات ہونی چاہئے اس پر نہیں ہوتی ہے اور انتخاب کے موقع پر جو وعدے کئے گئے تھے وہ سب پیچھے جاچکے ہیں۔آج گئو رکشا، گنگا صفائی جیسے ایشوز اہم ہوگئے ہیں جبکہ حکومت کو ان ایشوز پر زور دینے کے بجائے عوام میں عدم مساوات ، مہنگائی،بے روزگاری جیسے مسائل پر توجہ دینی چاہئے۔
دلت لیڈڑ تیج سنگھ نے کہا کہ اگر دلت اور مسلم ایک ہوجائیں تو فرقہ پرستوںکو روک سکتے ہیں،جماعت اسلامی ہند کے مجتبیٰ فاروق نے کہا کہ دلتوں کی حمایت میں بولنے والے وزیر اعظم مسلمانوں کے مسائل پر خاموش کیوں ہیں۔ آل انڈیا مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے کہا کہ اگر وزیر اعظم میں واقعی حوصلہ ہے تو بیف ایکسپورٹ کو روکیں۔ان کے علاوہ دیگر کئی مقررین نے اپنے اپنے خطاب میں ملک کے حالات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت واقعی گئو کشی کو روکنا چاہتی ہے تو بیف ایکسپورٹ پر پابندی عائد کرے۔
آخر میں صدر جلسہ شاہی جامع مسجد فتح پوری کے امام مفتی مکرم نے کہا کہ دو تین سال سے یہ پتہ ہی نہیں چل رہا ہے کہ ملک میں سرکار چل رہی ہے یا جملہ بازی ۔موضوع سے ہٹ کر بات ہورہی ہے،اقلیتوں کے لئے زندگی تنگ کی جارہی ہے۔ملک کو ہندو راشٹریہ بنانے کی سازش ہورہی ہے،لیکن حکومت اپنے اس مقصد میں کبھی کامیاب نہ ہوگی۔کیونکہ ایسی سوچ کے حاملین ملک میں 2-4 فیصد ہی ہیں۔بقیہ تمام ہندوستانی چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو، سیکولر ہے اور تشدد سے نفرت کرتا ہے۔انہوں نے مسلم طبقہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔خاص طور پر مسجدوں ،مدرسوں اور خانقاہوں میں حالات حاضرہ کے تعلق سے قوم کو بیدار کرنے کی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *