حکومت تو نہیں ۔پر کیا عدالت بچوں کا بچپن بچا پایئگی؟

Share Article

نوجوانوں کا ملک ہندوستان۔40فیصد آبادی کی عمر18سال سے کم۔نوجوانوں کے اس ملک میں ایک کروڑ70لاکھ بچے مزدوری کرتے ہیں اور 50فیصدی بچے جنسی استحصال کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بچہ مزدوری روکنے اور بچوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کے لئے قانو ن بھی ہے۔ لیکن پھر بھی حالات بچوں کے لئے نا موافق ہیں۔جووینائل جسٹس ایکٹ( کیئر اینڈ پروٹیکشن اور چلڈرن ایکٹ 2008)اس کی سب سے عمدہ مثال ہے۔اس قانون کو نافذ ہوئے دس سال ہونے کو ہیں، لیکن زیادہ تر ریاستی حکومتیں ابھی تک اس قانون کو اپنے یہاں پوری طرح سے نافذ نہیں کر سکی ہیں۔
’بچپن بچاﺅ آندولن‘نام کے ایک اور غیر سرکاری ادارے نے بچوں کی اسمگلنگ اور سیکس ٹورزم کو روکنے کے سلسلہ میںہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی۔22جنوری کو اسی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے ملک کی تمام ریاستوں کو 6ہفتے کے اندر ’چلڈرن کرائم لاءبورڈ“،فلاح و بہبود کمیٹی اور اسپیشل پولس فورس تشکیل کرنے کے احکامات دیئے۔ عرضی کی سماعت کے دوران ’جسٹس دلویر بھنڈاری‘ اور’ جسٹس اشوک کمار گانگولی‘ کی بینچ نے تمام ریاستوں کو متعلقہ قانون کو پر اثر کرنے کے لئے اور اس قانون کے دیگر پہلوﺅں پر حلف نامہ دائر کرنے کے بھی احکامات دیئے۔دراصل، بچوں کی حفاظت کو لے کر مرکزی حکومت نے جووینائل جسٹس (کیئر اینڈ پروٹیکشن آف چلڈرن ایکٹ2000)لگایا تھا۔ لیکن تقریباً ایک دہائی گزر جانے کے بعد بھی زیادہ تر ریاستی حکومتوں نے اس پر عمل نہیں کیا ہے۔ نتیجتاً، جن ریاستوں میں بورڈ کی تشکیل ہوئی بھی ہے، وہاں بچوں کی حفاظت کی سمت میں کوئی بھی کارگراقداماتنہیںکئےجا سکے ہیں۔ملک میں ایک بھی ایسی ریاست نہیں ہے،جہاں متعلقہ قانون کے مختلف ایکٹ کے تحت ایک ساتھ چلڈرن کرائم لاءبورڈ اور بہبود اطفال کمیٹی کو قائم کیا گیاہو۔ اتنا ہی نہیں بچہ اسمگلنگ اور سیکس ٹورزم کو روکنے یا اس سے متاثر ہ لوگوںکو اس دلدل سے نکالنے کے لئے اسپیشل پولس فورس کی تشکیل بھی نہیں کی گئی ہے۔
ظاہر ہے، عدالت کے اس رویے سے اتنا تو علم ہو ہی جاتا ہے کہ ملک کا مستقبل کہے جانے والے بچے بے حد بدتر حالات میں جینے کو مجبورہیں۔ بچہ مزدوری ایسی ہی ایک لعنت ہے جو ملک کے بچوں سے ان کا بچپن چھین رہی ہے۔حالانکہ حکومت نے بچہ مزدوری استحصال کو روکنے کے لئے کئی قانون بنائے۔ لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ بچہ مزدور ہندوستان میں ہی ہیں۔ ملک بھر میں قریب ایک کروڑ 70لاکھ بچہ مزدور ہیں۔ اس میں سے 80فیصدکھیتوںاور کارخانوںمیں کام کرتے ہیں۔ بچہ مزدوروںکی بہت بڑی تعدا دکانوں، چائے باغانوں، دکانوں اور گھریلو کاموں میں بھی لگی ہوئی ہے۔غیر سرکاری اداروں کے تخمینہ کے مطابق ، ملک میں بچہ مزدوروں کی تعداد قریب 6کروڑ تک ہو سکتی ہے۔تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ بہت سار ے بچے پٹاخے یا دیگر کیمیکل بنانے والے کارخانوں میں کام کرتے ہیں۔ظاہر ہے ایسے بچوں کو نہ تو بہترتعلیم مل پا رہی ہے اور نہ ہی ان کی مناسب دیکھ بھال ہو پا رہی ہے۔ محض قانون بنا دینے سے ملک میں بچہ مزدوری جیسی برائی ختم نہیں ہونے والی ہے۔دراصل، حکومت کو یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ آخرکوئی بچہ کیوں بچہ مزدور بن جاتا ہے؟یقینی طور پر اس کے پیچھے اسباب صرف اقتصادی حالات ہی ہوتے ہیں۔غربت کی وجہ سے ماں باپ بچوں کوکم عمر میں ہی کاموں میں لگا دیتے ہیں تاکہ کچھ کمائی ہو سکے اور ان کا گزارا چل سکے۔ظاہر ہے، بچہ مزدوروں کی ایک سب سے اہم وجہ غریبی ہی ہے۔
بچوںکو مزدوری توکرنی پڑتی ہی ہے اس کے علاوہ دوسرے محاذ پر بھی انہیں استحصال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بچوںکے ساتھ جنسی تشدد جیسے گھناو¿نے جرائم بھی بڑھتے جارہے ہیں، سیکس ٹورزم کے نام پر بچوں کو سیاحوں کے سامنے سیکس کے لئے پیش کئے جانے کی باتیں اکثر سامنے آتی رہتی ہیں۔ کچھ سال قبل ہی انسانیت کو شرمسار کرنے والی واردات نوئیڈاکے نٹھاری میں سامنے آئی تھی۔ وہاں بچوں کو اغوا کرنے کے بعد نہ صرف ان پر جنسی تشدد کیا جاتا تھا بلکہ ان سے بھیک منگوانے کا کام بھی کروایا جاتا تھا۔
ہندوستانی بچوں کی بدحالی پر ایک سروے، بچوںکے لئے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے چائلڈ رائٹس اینڈ یو(کرائی) نے کیا ہے۔سروے کے مطابق ہندوستان کے تقریباً 50فیصدی بچوں کو تو اسکولی تعلیم بھی نہیں مل پاتی ہے۔ اس کے علاوہ، بڑی تعداد میں بچے جنسی استحصال کا شکار ہو تے ہیں۔ہندوستانی حکومت کے وزارت’ ترقی خواتین و اطفال‘ کے استحصال سے متعلق ایک مطالعہ کے مطابق، ہندوستان کے 53.22فیصد بچے جنسی استحصال کا شکار ہیں۔ ان میں لڑکیاں بھی ہیں اور لڑکے بھی۔ ہندوستان میں18سال سے کم عمر والے افراد کی تعداد تقریباً 40کروڑ ہے۔ ان میں بھی 21کروڑ لوگ 14سال سے بھی کم عمرکے ہیں۔یقینی طور پر یہ تعداد اپنے آپ میں کسی ملک کے لئے بہت معنی رکھتی ہے۔ ملک کی آبادی کے ایک بڑے حصے اور ملک کے معمار بننے والے ان بچوں پر توجہ دینے اور ان کے حالات میں بہتری کئے بغیر ملک کی مکمل ترقی ممکن ہی نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *