حکومت کشمیر کے درد کو بھی سمجھے

Share Article

یاسین ملک
جموں کے تعلق سے انڈین اسٹیٹ نے ابھی تک کوئی ایسا فیصلہ ہی نہیں کیاہے، جو اسے کرنا چاہیے تھا۔ پہلے اٹل بہاری واجپئی کی حکومت آئی۔ انہوں نے initiatives لیے، حالانکہ اس وقت initiative لینا رِسکی تھا، کیوں کہ اس کے بعد ملی ٹینٹ لوگوں کی طرف سے حملے بھی ہوئے، لیکن اس کے باوجود واجپئی صاحب نے پہل کی۔ پہلے وہ یہاں آئے ، یہاں اسپیچ دی۔ کشمیریوں سے کہا کہ وہ مایوس نہ ہوں۔ اس کے بعد وہ اسلام آباد گئے اور مینارِ پاکستان سے تاریخی تقریر کی۔ انہوں نے کشمیریوں میں کافی امیدیں جگائیں۔ لیکن اس کے بعد ان کی حکومت ہی نہیں رہی۔ پھر منموہن سنگھ جی آئے۔ پاکستان کی طرف سے پیس پروسیس شروع ہوا۔ مشرف نے مڈل پاتھ کی بات کی۔ منموہن سنگھ جی نے بھی ایسی ہی باتیں شروع کیں۔ پھر ہماری بھی ملاقاتیں ہوئیں منموہن سنگھ جی سے۔ لیکن اتنا عرصہ گزر گیا، کچھ ہوتا ہی نہیں۔ 2008 میں ایجی ٹیشن ہوا۔ لوگوں کو امید تھی کہ مختلف سیاسی پارٹیوں پر مشتمل شاید کوئی پارلیمانی کمیٹی یہاں کا دورہ کرے گی اور یہاں کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرے گی، کیوں کہ کشمیر کو کمیونل لائن، ایتھنک لائن پر ڈیوائڈ کیا گیا ہے، یہ صرف انتظامیہ کا معاملہ نہیں ہے۔

سیاسی پارٹی جب اقتدار میں ہوتی ہے تو کچھ اور بولتی ہے اور جب اقتدار سے باہر ہوتی ہے تو کچھ اور بولتی ہے۔ ہر ایک اسٹیٹ کی ایک پالیسی ہوتی ہے، کشمیری لوگوں کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ انڈین اسٹیٹ کی کیا پالیسی ہے، کیوں کہ اس سے ایک خطرہ اور بھی ہے۔ جو نئے لڑکے ہیں، وہ تو انتشار اور لڑائی جھگڑے کے ماحول میں ہی پیدا ہوئے ہیں۔ آپ ان کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ افغانستان کا مسئلہ حل ہو رہا ہے، یا دوسری جگہوں کے مسئلے حل ہو رہے ہیں، لیکن کشمیر کا کچھ نہیں ہو پایا۔ کیا آپ ان کو دوبارہ بندوق کی طرف لے جا رہے ہیں؟

ابھی انڈین اسٹیٹ نے مائنڈ نہیں بنایا ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے، کچھ آگے کرنا بھی ہے یا نہیں کرنا ہے۔ 1947 کے بعد ڈائیلاگ بھی ہوئے، محمد عبداللہ سے بھی ہوئے، پاکستان سے بھی ہوئے، کشمیریوں سے بھی ہوئے۔ ڈائیلاگ آخری امید ہوتا ہے، دنیا کے کسی بھی آدمی کے لیے۔ حکومت ہند کشمیر میں ڈائیلاگ انسٹیٹیوشن میں لوگوں کا اعتماد بحال کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ پی چدمبرم جب وزیر داخلہ تھے، تو انہوں نے پارلیمنٹ میں کشمیر کے تعلق سے لمبی چوڑی تقریر کی تھی اور کہا تھا کہ یہ یونیک ایشو ہے جس کے لیے یونیک سولیوشن کی ضرورت ہے، لیکن ہوا کچھ نہیں۔ حکومت ہند میں قوتِ ارادی نہیں ہے، وِل نہیں ہے۔ یہ چاہتے ہوئے بھی کر نہیں پاتے، مطلب ان کے اندر وِل نہیں ہے۔ بی جی پی کشمیر میں پیس پروسیس کی آرکیٹیکٹ ہے، لیکن جب وہ اقتدار سے باہر گئی تو اس کے خلاف ہوگئی۔ واجپئی جی نے ’انسانیت‘ لفظ کا استعمال کیا تھا، لیکن آج بی جے پی کا اسٹینڈ پوری طرح مزاحمتی (Offensive) ہے۔
انڈین سول سوسائٹی کے لیے میں نے بہت کام کیا ہے۔ میں بہت سی ریاستوں میں گیا ہوں۔ دہلی، بنگلور، کولکاتا، ممبئی وغیرہ کا دورہ کیا۔ انڈین سول سوسائٹی نے عدم تشدد کی تحریک چلانے میں بہت بڑا رول ادا کیا ہے۔ 1994 میں جب میں نے بندوق اٹھائی تھی، تو اس وقت کشمیر میں 50 ہزار سے زیادہ کشمیری لڑکوں کے ہاتھوں میں بندوق تھی۔ اس وقت کشمیر میں کوئی غیر ملکی ملی ٹینٹ نہیں تھا۔ انڈین سول سوسائٹی کا یہ کہنا تھا کہ فارین ڈپلومیٹ کی مدد لی جائے، لیکن اُلٹے میرے 500 ساتھیوں کو قتل کیا گیا، 200 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے باوجود ہم نے فیصلہ کیا کہ عدم تشدد کی تحریک چلتی رہنی چاہیے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کے باوجود عدم تشدد کی تحریک کے خلاف ملٹری فورس کا استعمال کیا گیا۔2008 میں 93 لوگ مار دیے گئے، 2010 میں 124 لوگ مارے گئے، جن میں نوجوان بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ انڈین سول سوسائٹی سے صرف ’فائر فائٹر‘ کا کام لیا جاتا ہے۔ جب کشمیر میں آگ ہے تو بڑے بڑے بیان دیے جاتے ہیں آزادی کے، لیکن جب صورتِ حال نارملائز ہو تو چہرہ بھی نہیں دکھاتے۔ اس سے کشمیری لوگ کیا سمجھیں؟ کیا یہ سمجھیں کہ انڈین سول سوسائٹی صرف فائر فائٹر کا کام کرتی ہے، حالات کو نارملائز کرنے کے لیے۔ جب میں نے عدم تشدد کی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا تو یہاں کے بہت سے لوگوں نے اسے اس وقت پسند نہیں کیا۔ اس کے بعد ملی ٹینٹوں نے میرا اغوا کر لیا۔ آج جب اس موومنٹ میں سلیکٹو ٹرانزیشن ہوئی ہے، توحکومت ہند سوچ رہی ہے کہ کشمیر میں اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ افغانستان کے بارے میں آپ جانتے ہی ہیں کہ پوری دنیا نے وہاں طالبان سے لڑنے کا فیصلہ کیا، انہوں نے جتنی بھی ملٹری فورس انہیں دستیاب تھی، اسے طالبان کے خلاف لگا دیا، لیکن وہ انہیں ہرا نہیں سکے۔ اب انہوں نے ان (طالبان) کے ساتھ بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لیے ’شکاگو کمیٹی فار افغانستان‘ بھی بنائی گئی ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے صدر نے اپنے عوام سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ افغانستان سے امریکی فوج کو واپس بلائیں گے۔ اب اس سے پوری دنیا کے عوام کو کیا پیغام جاتا ہے؟ کیا یہ کہ عدم تشدد پر مبنی تحریک کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا اورصرف پرتشدد تحریک ہی سے کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے؟
ہم نے فائر فائٹر کا کام بہت کر لیا۔ جب یہاں بندوق تھی، انڈین اسٹیٹ اور انڈین فوج کا ایک کانسٹینٹ ایپروچ تھا کہ ایک ماحول بننا چاہیے مسئلہ حل کرنے کے لیے، ایک پرامن ماحول بننا چاہیے، جس میں ٹرانزیشن ہوگی۔ اب آپ مانتے ہیں کہ یہ ٹرانزیشن اِن کے لیے شکست ہے اور اُن کے لیے فتح ہے۔ آپ اِس وقت کشمیر کا جو ماحول دیکھ رہے ہیں، وہ (ہندوستان) اسی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ لہٰذا، اب تو ماحول سازگار ہے، پوری طرح امن ہے، تو اب آپ کو کشمیر مسئلہ کا کوئی حل نکالنا چاہیے۔ ہندوستان اور پاکستان کو کشمیریوں کے ساتھ آئیڈیولوجیکل ڈائیلاگ کرنا چاہیے، تاکہ ہمیں کوئی ایسا راستہ مل سکے جہاں ہندوستان اور پاکستان کے متعلقہ شہریوں کی باتیں سامنے آ سکیں، اور وہ ماحول تیار ہو جس میں کوئی ایسا حل نکل سکے جو ہندوستان اور پاکستان اور کشمیری عوام کے لیے قابل قبول ہو۔ صرف بیان بازی سے کام نہیں چلے گا۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، ہندوستان کے وزیر خارجہ نے دو سال پہلے یعنی 2010 میں انڈین پارلیمنٹ میں ایک تاریخی بیان دیا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ ’یونیک‘ ہے اور اس کا حل بھی ’یونیک‘ ہونا چاہیے۔ اس سے کشمیر کے لوگوں کو کافی امید بندھی تھی، لیکن اس کے بعد ڈِلیوری کہیں نہیں ہے۔ یہاں کا یہ حال ہے کہ فوج کی طرف سے ایک بیان آتا ہے، ریاستی حکومت دوسرا بیان دیتی ہے، دہلی سے تیسرا بیان آتا ہے، بی جے پی چوتھا بیان دیتی ہے۔ ہم کشمیری عوام کو آخر یہ کیسے یقین دلائیں کہ ہم کشمیر مسئلہ کے حل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انڈین اسٹیٹ کو سب سے پہلے اسے ایک نیشنل ایشو بنانا چاہیے، بڑی سیاسی پارٹیوں کو اعتماد میں لے کر، کیوں کہ یہاں جو رولنگ پارٹی ہے وہ ایک بیان دیتی ہے، جو اپوزیشن پارٹی ہے وہ دوسرا بیان دیتی ہے۔ سیاسی پارٹی جب اقتدار میں ہوتی ہے تو کچھ اور بولتی ہے اور جب اقتدار سے باہر ہوتی ہے تو کچھ اور بولتی ہے۔ ہر ایک اسٹیٹ کی ایک پالیسی ہوتی ہے، کشمیری لوگوں کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ انڈین اسٹیٹ کی کیا پالیسی ہے، کیوں کہ اس سے ایک خطرہ اور بھی ہے۔ جو نئے لڑکے ہیں، وہ تو انتشار اور لڑائی جھگڑے کے ماحول میں ہی پیدا ہوئے ہیں۔ آپ ان کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ افغانستان کا مسئلہ حل ہو رہا ہے، یا دوسری جگہوں کے مسئلے حل ہو رہے ہیں، لیکن کشمیر کا کچھ نہیں ہو پایا۔ کیا آپ ان کو دوبارہ بندوق کی طرف لے جا رہے ہیں؟ جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ مشرف صاحب نے اپنے لوگوں سے کہا تھا کہ اگر ہمیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنا ہے تو ہمیں ایک نئے اینوویٹو آئیڈیا کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی واجپئی صاحب نے بھی کہا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ایک آئیڈیولوجیکل ڈائیلاگ پروسیس کی ضرورت ہے، جس میں ہر پارٹی اپنا ایک اسٹینڈ لے کر آئے گی، پھر وہ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا ایسا سولیوشن ہو سکتا ہے جو تینوں کے لیے قابل قبول ہو۔ لیکن ہندوستان ایسا کچھ کر ہی نہیں رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *