حکومت ،عوام اور حقوق انسانی کا تحفظ،سب کچھ ایک غلط فہمی

Share Article

’ہندوستانی جمہوریت‘، کیا اہمیت اور اصلیت ہے اس جمہوریت کی؟ یہ آپ اور ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں اس جمہوریت کا استعمال صرف اور صرف انسانی حقوق و اقدار کی پامالی کے لئے ہی ہوا ہے اوریہ سلسلہ بدستور جاری ہے، اس میں سرکاری اداروں کی بھی ملی بھگت ہے۔ مکوکااور افسپا جیسے قانون بنا کر حکومت عام آدمی کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے، یہ سمجھ سے باہر ہے۔دوسری جانب معصوم بچے اور اسکول اب ماﺅنوازوں کے نشانہ کی زدپر آ گئے ہیں۔فوج یاپولس کے ذریعہ فرضی مڈبھیڑ میں جتنی ہلاکتیں ہوئیں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں عام شہری جتنے ہلاک ہوئے وہ سب ایک طرف، پران سب اموات کے علاوہ ماﺅنوازوں کے حملے برداشت کر رہے لوگوں کی تعداد پر ہیومن رائٹس واچ کی سال 2010کی رپورٹ، ہندوستان میں ہو رہے حقوق انسانی کے استحصال کی اصل کہانی بیان کرتی ہے۔ یہ رپورٹ 2009کے دوران کی گئی تفتیش اور ریسرچ کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔
نکسلی ،پولس اور عوام
سال 2009میں ہندوستان میں ماﺅنواز اور علیحدہ پسند وں کے تشدد کے سبب بڑی تعداد میںنصف فوج اور پولس فورس تعینات کی گئی۔ سرکاری افسران ماﺅنوازوں اور علیحدہ پسندوں کے خلاف چلائے جانے والے آپریشن کے دوران کسی بھی طرح کا حقوق انسانی کااستحصال نہ ہونے کی یقین دہانی کراتے رہے۔ پھر بھی ملک کے کئی حصوں میں عام لوگوں کی بے وجہ گرفتاری، حوالات میں موت اور فرضی مڈبھیڑ کی خبریں آتی رہیں۔
نکسل مخالف مہم کے نام پر ڈاکٹر ونائک سین کو جیل میں ڈالنے کا معاملہ حقوق انسانی کو پائمال کرنے کی ایک زندہ مثال ہے۔ چھتیس گڑھ میں تو عوام ماﺅنوازوں اور حفاظتی دستوں کے درمیان پس رہی ہے۔حکومت حفاظتی دستوں کے ذریعہ عام آدمی پرمظالم روکنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔جولائی 2009میں منی پور کے ایک بھرے بازار میں پولس نے ایک شخص کا قتل کر دیا۔ ایک فوٹو گرافر اس پوری واردات کو اپنے کیمرے میں قید کر چکا تھا۔ باوجود اس کے ریاست کے وزیر اعلیٰ نے اسے دہشت گرد قرار دے کر اسے مارنے کے لئے پولس کی ستائش کی۔ بعد میںجب مخالفت ہوئی تو ریاستی حکومت کو اس واردات کی جوڈیشیل انکوائری کے احکامات دینے پڑے۔منی پور کی’ شرمیلا اروم ‘کی کہانی ہندوستان میں حقوق انسانی کو بری طرح سے کچلنے کی کہانی صاف بیان کرتی ہے۔ حالات اتنے خطرناک ہیں کہ بڑے تو بڑے بچے بھی اس مکڑی کے جال میں پھنس چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ماﺅنوازوں نے 12سے 17سال کی عمر تک کے بچوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ ماﺅنواز یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ بچوں کو اپنی ٹیم میں شامل کر رہے ہیں۔ غریبی اورماﺅنوازوں کے خوف کے سبب بچوں کا مستقبل تاریکی میں ڈوب چکاہے۔بہار اور جھارکھنڈ کے کئی علاقوں میں ماﺅنوازوں اور حفاظتی دستوں کے درمیان ہونے والی مڈبھیڑ کے سبب بچے اسکول تک نہیں جا پا رہے ہیں۔ دور دراز کے علاقوں میں ماﺅنوازوں نے کئی اسکولوں کی عمارتیں تباہ کر دی ہیں۔وہیں کئی اسکولوں پر حفاظتی دستوں کا قبضہ ہے۔ملک کے کئی حصوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کے قتل کے لئے دہشت گرد ذمہ دار رہے ہیں۔ سال 2009کے دوران تقریباً 2000لوگ دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں۔اس میں تقریباً500بے قصور عام شہری بھی شامل ہیں۔2008میں قریب 1000عام شہری گولیوں کا شکارہوئے۔حفاظتی دستوں اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں اکثر عام آدمی کو اپنی جان گنوانا پڑتی ہے۔رپورٹ کے مطابق، حفاظتی دستوں کے ذریعہ فرضی مڈبھیڑ دکھا کر بھی لوگوں کو مار دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردوں سے مڈبھیڑ کے دوران ہوئی گولی باری کے شکار ہو گئے۔
سال 2009میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر (حقوق انسانی)نونیتھم پلے نے اپنے ہندوستانی دور ے کے دوران یہاں کی حکومت کو ان پالیسیوں اور قانونوں کو نافذ کرنے کا مشورہ دیاتھا، جو حقوق انسانی کا تحفظ کرتے ہیں۔پلے نے ’افسپا ‘جیسے قانون کو ختم کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے قانون حقوق انسانی کے بین الاقوامی معیار کے خلاف ہیں۔ حالانکہ ہندوستان کی جانب سے ابھی بھی ان مشوروں پر عمل ہونا باقی ہے۔ہندوستان میں خواتین کے حقوق سے لا پرواہی ہمیشہ سے ہوتی آ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک تجزیہ کے مطابق، دو تہائی شادی شدہ خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔ طبی سہولیات کے بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں ہندوستانی خواتین ہر سال حمل اور زچگی کے دوران دم توڑ دیتی ہیں۔ اعدادو شمار کے مطابق، پوری دنیا میں زچگی سے ہونے والی اموات میں سے ایک چوتھائی ہندوستان میں ہوتی ہیں۔ ہندوستان کی یہ شرح روس ،چین اور برازیل سے کئی گنا زیادہ ہے۔
کیسے-کیسے قانون؟
ملک میں ایسے بھی قانون ہیں،جن کا مقصد صرف اور صرف حفاظتی دستوں کے ان جوانوں کوتحفظدیناہے، جن پر حقوق انسانی کے استحصال کا الزام لگتا ہے۔ آئی پی سی کی دفعہ 197اور افسپا (آرمڈ فورس اسپیشل پاور ایکٹ)جیسے قانون کا یہی کام ہے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی سرگرمیاں(روک تھام)ایکٹ 2008بھی ایک ایسا قانون ہے، جو دہشت گردی کو اور فروغ دیتا ہے ۔ ساتھ ہی تلاشی اور قرقی جیسے اختیارات بھی دیتا ہے جس کے تحت ، کسی شخص کو بناکسی الزام کے 180دنوں تک جیل میں رکھا جا سکتاہے، جس میں39دنوں کی پولس حراست بھی شامل ہے۔پہلے یہ مدت 90دنوں کی تھی۔مکوکا جیسے سخت قانون بھی اس ملک میں ہیں، جس کے حساب سے پولس کے سامنے دیا گیا بیان بھی گواہ کے طور پر قابل تسلیم ہوتا ہے۔ جبکہ یہ دنیا جانتی ہے کہ حراست کے دوران کسی شخص سے کچھ بھی قبول کرا لینا پولس کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔گجرات بھی اسی طرح کے قانون بنانے کی راہ پر ہے۔ حالانکہ ابھی تک اس پر صدر کی مہر نہیں لگ سکی ہے۔ہندوستانی حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ قومی حقوق انسانی کمیشن لوگوں کے حقوق کی یقینی طور پر حفاظت کرتا ہے۔لیکن ایسا ہے نہیں۔کمیشن عموماًسرکاری رویہ کو ہی صحیح ٹھہرانے کی کوشش کرتی ہے۔کمیشن کے پاس ایسے ذرائع بھی نہیں ہیں، جن سے وہ کسی معاملہ کی خود تفتیش کر سکے۔ اس کے پاس فوج سے وابستہ حقوق انسانی کے استحصال کے معاملات کی تفتیش کا بھی اختیار نہیں ہے۔ریاستی حقوق انسانی کمیشن کی حالت تو اور بھی خراب ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *