امریکہ خلیج کے خلاف ایرانی میزائلوں کا مقابلہ کیسے کرے گا؟

Share Article

 

وسط ستمبر کو سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے جواب میں امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادی ممالک کے دفاع کے لیے حکمت عملی کا اعلان کیا۔ امریکی محکمہ دفاع ‘پینٹاگان’ نے مشرق وسطی میں مزید اہلکاروں، ہوائی اور میزائل دفاعی ہتھیاروں کی تعیناتی کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ ان میں ایک پیٹریاٹ بیٹری ، چار سنٹینل راڈار اور 200 معاون عملہ شامل ہیں۔امریکہ کی طرف سے اسلحہ اور فوج کی تعیناتی ایرانی جارحیت کی روک تھام کے لیے واشنگٹن کی تازہ ترین کوشش کی عکاسی کرتی ہے۔ امریکا کی ان کوششوں سے خلیجی ممالک کو ایران کی طرف سے درپیش خطرات کا تدارک کیا جا رہا ہے۔بیس ستمبر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں امریکی وزیردفاع مارک ایسپر اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل جو ڈینفورڈ نے کہا تھا کہ ریاض نے آرامکو تنصیبات پر ایران کے حملے کے بعد امریکی مدد کی درخواست کی تھی۔

Image result for How will the United States fight Iranian missiles against the Gulf?
وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا کہ ایرانی حکومت مشرق وسطی کو غیر مستحکم کرنے اور بین الاقوامی معیشت پربھاری بوجھ ڈالنے کے لیے دانستہ طور پر مہم چلا رہی ہے۔مسٹر ایسپر نے کہا کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پرایران کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد اور ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ واضح ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار ایرانی ساختہ تھے۔ نیز یہ حملہ یمن سے نہیں کیا گیا۔ایران کے ساتھ 2015ء میں طے پائے جوہری معاہدے سے امریکی علاحدگی پر اختلافات کے باوجود فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پرایران کے ملوث ہونے کے موقف کی تائید کی تھی۔

Image result for How will the United States fight Iranian missiles against the Gulf?
اگرچہ پیٹریاٹ سسٹم بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک انتہائی موثر تسلیم شدہ دفاعی نظام اور جنگی تجربہ ہے لیکن اس کا ریڈار سسٹم صرف ایک محدود حد تک کام کرتا ہے۔ پیٹریاٹ سسٹم فی الحال ایک تجدید کے عمل سے گذر رہا ہے۔کمانڈ ، کنٹرول اور ریڈار میں بہت سی اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ اگست کے بعد سے فوج نے 15 پیٹریاٹ بٹالینوں میں سے نو کو اپ گریڈ کیا ہے۔ایران کی طرف سے درپیش خطرات کے پیش نظر پینٹاگان ‘اے این / ایم پی کیو 64 سینٹینیل’ بھی تعینات کر رہا ہے جو ایک 360 ڈگری ایکس رے ایئر ڈیفنس راڈار ہے۔ یہ سسٹم 75 کلومیٹر کی حدود میں ایکس بینڈ کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔تھاڈ ایک ایسا علاقائی دفاعی نظام ہے جو اپنی آخری پرواز کے آخری مرحلے میں فضا میں اہداف کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وزارت دفاع نے رواں سال کے اوائل میں پہلی بار اسرائیل میں ‘تھاڈ’ تعینات کرنے کا تجربہ کیا تھا۔

آرامکو حملوں کے تناظر میں دیکھا جائے پیٹریاٹ سسٹم میں متعدد خامیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ یہ نظام بڑی تعداد میں اڑنے والے ڈروں طیارون کو روکنے، کم بلند پر اڑنے والے کروز میزائلوں کو اپنی محدود راڈار صلاحیت کی وجہ سے نشانہ بنانے میں ناکام ہوسکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *