کانگریس کیسے نمٹے گی ایس پی اوربی ایس پی کے چیلنجزسے؟

Share Article
akhilesh-and-mayawati
اس حقیقت سے سبھی لوگ واقف ہیں کہ ریاست مدھیہ پردیش میں کانگریس کے آڑے وقت میں ایس پی اوربی ایس پی ہی کام آئی تھی اورتبھی کانگریس وہاں حکومت بنا پائی تھی مگرکابینہ میں عدم شمولیت سے ان دونوں پارٹیوں کی ناراضگی کا اظہاردہلی میں حال ہوئی اپوزیشن میٹنگ میں ان کے دوررہنے سے ہوا۔پھر26دسمبرکوصدرسماج وادی پارٹی اکھلیش یادو کے مدھیہ پردیش میں ایس پی کے واحد ایم ایل اے کووعدہ کرنے کے باوجود ریاست میں وزیرنہ بنائے جانے سے ان کے بیان نے رہی سہی کسربھی دورکردی۔
اکھلیش یادو نے کہاکہ ان واقعات نے ایس پی کیلئے اپنا آئندہ راستہ چننے کا موقع دے دیاہے۔انہوں نے یہاں تک کہہ دیاکہ و ہ علاقائی پارٹیوں کوجوڑنے کی تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے چندرشیکھرراؤ کی کوششوں کوسراہتے ہوئے اورغیربی جے پی اورغیرکانگریس فرنٹ بنانے پران سے بات کرنے عنقریب حیدرآباد جائیں گے۔ عیاں رہے کہ کے سی آرنے حال میں اڑیسہ، مغربی بنگال، یوپی اوردہلی کے دورے کے دوران چنداہم علاقائی پارٹیوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی مگران کی اکھلیش سے ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔
ظاہرسی بات ہے کہ اگرکے سی آرعلاقائی پارٹیوں کواپنی جانب کھینچتے ہیں تویہ سیدھے کانگریس کانقصان ہوگا کیونکہ اس کا انہی علاقائی پارٹی پرانحصارہے۔ویسے یہ بات بھی اہم ہے کہ کے سی آردہلی میں وزیراعظم نریندرمودی سے بھی ملے ہیں۔لہٰذا بڑاسوال یہ ہے کہ کانگریس ایس پی اوربی ایس پی سے کیسے نمٹے گی؟ کانگریس فی الحال ’ویٹ اینڈ واچ‘ کررہی ہے۔دیکھئے ، آگے آگے کیاہوتاہے؟
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *