کیسے منائیں ہم عید؟

Share Article

سنتوش بھارتیہ
رمضان کا مقدس مہینہ رخصت ہوا چاہتا ہے اور شادمانیوں و مسرتوں کے دن عید کی آمد آمد ہے۔چاروں طرف خوشیوں کا ایک شور بپا ہے اور شور ہو بھی کیوں نہیں! مسلمانوں کوایک ماہ تک بھوکا پیاسا رہ کر یہ دن نصیب ہوتا ہے۔ اللہ ایک ماہ تک ماہ رمضان کے ذریعہ اپنے بندوں کے صبر کا امتحان لیتا ہے، جو برگزیدہ بندے اس  امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہیں ان کے لیے رب کائنات کی جانب سے تحفتاً عید کا دن پیش کیا گیا ہے۔یوں تو بالخصوص یہ دن روزہ داروں کے لیے ہے تاہم غیر مذاہب کے لوگ بھی اس دن روزہ داروں کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں اور باہمی رواداری و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی عمدہ نظیر پیش کرتے ہیں۔یقیناً عظیم مذہب ہے اسلام۔خوشی کے دن (عید) کو بھی عبادت سے خالی نہیں رکھا گیا۔یعنی عید کے دن بھی ہر مسلمان پر عبادت لازمی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اسلام میں تکبر اور فخر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے،یعنی خوشی کے دن بھی تم اپنے رب کا شکر بجا لائو اور اس کے آگے سجدہ ریز ہو جائو۔
یو ںتو ہر موقع و محل پر غریبوں و ہمسایوں کا خیال رکھنا اسلام ہی نہیں بلکہ انسانیت کا اولین فرض ہے، لیکن عید کے موقع پر غریبوں کا جس طرح سے خیال رکھا جاتا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔عید سے قبل فطرے کی شکل میں مسلمان اپنے مال کا کچھ حصہ غریبوں کے لیے نکالتے ہیں، جس سے یہ لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں، لیکن اس بار ہمارے ملک کے حالات کچھ بدلے بدلے سے ہیں۔مہنگائی نے تمام تر خوشیوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ عام آدمی کو دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ ہمارے پیارے وزیر اعظم تقاریب میں آتے ہیں اور یہ کہہ کر چلے جاتے ہیں کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کر ہی ہے۔ کوشش کس پیمانے اور کس سطح پر ہو رہی ہے، نہیں معلوم۔گزشتہ دو برسوں سے مہنگائی ریکارڈ پر ریکارڈ درج کر ہی ہے اور مسٹر منموہن یہ کہہ کر اپنا پلہ جھاڑ لیتے ہیں کہ مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔شاید ہمارے وزیر اعظم عوام کو بے وقوف سمجھ بیٹھے ہیں۔ وہ شاید یہ بھول رہے ہیں کہ یہ 21ویں صدی ہے اور 21ویں صدی کے عوام کسی بھی قیمت پر بے وقوف نہیں ہو سکتے۔انہیںیہ نہیں دکھائی دے رہا ہے کہ نکسلیوں کی طرح دوسرے لوگ بھی اب اپنا حق چھیننے کے لیے طاقت کے استعمال کو فوقیت دے رہے ہیں۔کسانوں کی تحریک بھی ا نہیں نہیں دکھائی دے رہی ہے۔اگر ملک بھر کے کسان متحد ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے تو ملک کے حالات کس حد تک ابتر ہو جائیں گے شاید اس کا اندازہ ہمارے وزیر اعظم کو نہیں ہے۔فوج کی زبان کو بھی وہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں۔مسائل اتنے زیادہ ہیں اور ملک کے عوام اس قدر پریشان ہیں کہ کسی بھی طرح کی خوشی میں شریک ہونے کو دل نہیں چاہتا۔ اگر دل چاہتا ہے تو صرف حکومت کو جھنجوڑنے کو کہ آپ کی یہ کیسی پالیسیاں ہیں۔ ملک کی ایک بڑی آبادی بھوک و پیاس سے تڑپ رہی ہے اور آپ دولت مشترکہ کھیلوں کے نام پر کروڑوں اربوں روپے پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔حکمران وافسران بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں اور کروڑوں روپے کے گھوٹالے کر رہے ہیں۔غریبوں کو دہلی کے پوشیدہ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے کہ ہمارے غیر ملکی مہمانوں کو آپ کی منحوس صورت نظر نہ آئے ،اس لیے آپ ایسی جگہوں پر رہو جہاں مچھروں اور گندگی کا انبار ہو، گویاصاف و شفاف اور اچھے ماحول میں رہنا آپ کا حق نہیں ہے، کیونکہ آپ غریب ہیں اور غریب ہونا بڑا جرم ہے۔تو غریب لوگ کیسے عید منائیں گے؟ کیسے عید کی خوشیوں میں شریک ہونگے؟ کیونکہ وہ تو غریب ہیں اور غریبی بڑا جرم ہے۔کیا ہوگا اس ملک کا ! یہاں امیر تو امیر ترین ہوتا جار ہا ہے اور غریب غریب ترین ہوتا جا رہا ہے۔امیر بدعنوانی اور گھوٹالے کرکے اپنی دولت میں اضافے کر رہے ہیں اور غریبوں کی ماں یعنی حکومت ان کی زندگی کو مزید تاریک بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ تبھی تو وہ مہنگائی پر قابو نہیں پا رہی ہے۔وہ غریبوں کو گھٹ گھٹ کر جینے پر مجبورکر رہی ہے۔
چلئے مہنگائی کے حوالے سے ہم آپ کو یہاں ایک بات بتاتے ہیں۔ 12اگست کو رمضان کا مقدس مہینہ شروع ہوا۔10اگست کو سیب کے دام50روپے فی کلو تھے، لیکن12اگست کوسیب کے دام80روپے فی کلو ہو گئے۔ اسی طرح کیلا، پپیتا، انار، انناس اور دیگر پھلوں سمیت سبزیوں کی قیمتوں میںرمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی20سے30فیصد کا اضافہ ہوگیا۔یہ سب کیا ہے ؟شاید حکومت کی نا اہلی۔ حکومت منافع خوروں اور جمع خوروں کی پرور ہے، عام آدمی کے مفادات سے اسے کیا سروکار۔میں آپ کو یہ بات بھی بتا دوں کہ مستقبل قریب میں مہنگائی میں کوئی کمی آنے والی نہیں ہے اور یہ عام آدمی کی کمر ایسے ہی توڑتی رہے گی،کیونکہ اب تہواروں کا موسم شروع ہوگیا ہے۔ عید کے بعد نوراترے، دسہرہ اور دیوالی وغیرہ جیسے تہواروں ہونگے، جن پر منافع خور خوب دولت جمع کریں گے اور غریب اشیائے ضروریہ کو ترستے رہیں گے۔
چلئے اب کچھ بات عید کی خریداری کے حوالے سے ہوجائے۔یہ ہم سب جانتے ہیں کہ عید خوشی اور شادمانی کا دن ہے، اس لیے بوڑھے، بچے، نوجوان سب عید کی خریداری کے لیے خاصے پر جوش ہوتے ہیں۔ نئے کپڑے خریدنا گویا عید کی ایک رسم بن گئی ہے۔ہر مسلمان چاہے وہ کتنا ہی غریب کیوں نہ ہو عید پر اپنے اور اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑوں کا بندوبست کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔ لیکن اس کمر توڑ مہنگائی کا کیا کیجئے۔ کیسے غریب لوگ عید پر نئے کپڑے زیب تن کریں گے۔ آج ایک اوسط درجہ کے کرتے پاجامے کی قیمت 500روپے سے کم نہیں ہے، ساتھ ہی اوسط درجہ کی جینس بھی600روپے سے کم میں نہیں آتی۔ خواتین کے ملبوسات کا تو پوچھنا ہی کیا۔کہتے ہیں عید کی جتنی خوشی مردوں کو ہوتی ہے اس سے دوگنی خوشی عورتوں کو ہوتی ہے۔تو جب عورتوں کو خوشی زیادہ ہوتی ہے تو لباس بھی ہر حال میں نیا ہی چاہئے۔ عورتوں کی اس نفسیات کو دکاندار بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔ اسی لیے عورتوں کے ملبوسات کی قیمت مردوں کے مقابلے تین سے چار گنا تک زیادہ ہوتی ہے۔بات عید کے مخصوص پکوان سویوں اور شیر کی کی جائے تو یہاں بھی مہنگائی آڑے آ رہی ہے۔چینی کی قیمت جہاں38روپے فی کلو ہے وہیںدودھ بھی32روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے اور چاول و خشک میوئوں کی قیمتیں بھی آسمان چھو رہی ہیں اور اس پر بھی مزے کی بات یہ کہ سب میں زہریلی ملاوٹ ہے۔ سبزیاں، دودھ، پنیر، کھویا، دال، چاول دال آٹا حتیٰ کہ کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے، جس میں ملاوٹ نہ ہو۔تو کیسے غریب لوگ عید منائیں گے!حکومت تو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے یا سوچنے والی ہے نہیں۔اب یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ جتنا ممکن ہو سکے ہم غریبوں کی مدد کریں اور انہیں عید کی خوشیوں میں شریک  کریں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

One thought on “کیسے منائیں ہم عید؟

  • September 10, 2010 at 4:01 pm
    Permalink

    بھارتیہ صاھب !
    آپ نے دل کو چهو لینے والی باتیں کہی ہیں .
    مبارکباد کے مستحق ہیں.

    جاوید اختر، راشد
    اکھلا، نی دلھی-١١٠٠٢٥.
    9313007131  

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *