کیسے کہیں نیا سال مبارک ہو

Share Article

ششی شیکھر
سال 2010،جنوری:بیس روپے کلو ملنے والی پیاز دسمبر تک آتے آتے 80روپے کلو ملنے لگی۔ دودھ 35روپے اور پٹرول 60روپے تک پہنچنے کو بیتاب۔ جنوری میں سونا 16ہزار فی 10گرام تھا تو دسمبر تک اس کی چمک بڑھ کر 20ہزار روپے سے زیادہ ہو گئی۔ چاندی 24سے بڑھ 45ہزار روپے فی کلو کی قیمتیں پار کر گئی۔ ظاہر ہے، نئے سال کا استقبال کرنے کے لئے عام آدمی کو اپنی جیب ڈھیلی نہیں بلکہ کاٹنی پڑے گی۔ وہ عام آدمی جو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق روزانہ 20روپے میں اپنی زندگی گزارتا ہے، نئے سال کے پہلے دن کا استقبال کیسے کرے گا، یہ سوچنے والی بات ہے۔ لیکن اس سب کی فکر کسے ہے؟ اگر فکر ہوتی تو، کیا ایک لاکھ 76ہزار کروڑ روپے کا 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ ہوتا؟ فکر ہوتی تو کیا پارلیمنٹ کاسرمائی اجلاس بنا ایک دن کام کئے ختم ہو جاتا؟ فکر ہوتی تو کیا کارگل کے شہیدوں کے لئے الاٹ ہوئی زمین پر فوج کے سابق افسران اور لیڈران کی ملی بھگت سے قبضہ ہو پاتا؟ شاید نہیں۔
سوال کئی ہیں،لیکن یہ سوال ہی اس ملک کے حکمراں طبقہ کی منشاء کو صاف کردیتے ہیں۔ عام آدمی کے ساتھ کھڑے ہونے کا دعویٰ کرنے والے لیڈران کی قلعی کھول دیتے ہیں۔ سال2010ایسی کئی یادیں ہمیں دے گیا جو بہت جلد بھلائی نہیں جا سکیں گی۔ مثال کے طور پر ٹیپ معاملہ، میڈیا، دلال اور کارپوریٹ کے گٹھ جوڑ کا پردہ فاش ہوا۔معلوم ہوا کہ عام آدمی کی آواز سمجھا جانے والا میڈیا ایک سپر دلال نیرا راڈیا کے ذریعہ کارپوریٹ گھرانوں کی آواز بن گیا۔مشہور صحافیوں، لیڈران اور صنعت کاروں کو ایک دلال سے بات کرتے اور اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ، دنیا نے سنا۔ عام آدمی کے پیسوں کو اپنا مان کر لوٹ کی کھلی چھوٹ دی گئی۔بہار انتخابات کے دوران مرکزی حکومت کہتی رہی کہ بہار کی ترقی مرکز کے پیسے سے ہوئی ہے؟ لیکن اسپیکٹرم گھوٹالہ میں ڈوبے پونے دو لاکھ کروڑ روپے کس کے تھے؟ اس کا جواب حکومت نہیں دے سکی۔ اسپیکٹرم معاملہ پر جے پی سی کے مطالبہ کے حوالے سے اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کو ایک دن بھی نہیں چلنے دیا۔ اس سال پارلیمنٹ میں کام کے نام پر اتنا ہی ہوا کہ ممبران پارلیمنٹ نے اپنی تنخواہ، الائونس میں اضافہ سے متعلق بل پاس کروا لیا۔ راجیہ سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پاس تو ہوا، لیکن پارلیمنٹمیں آ کر اٹک گیا۔مجموعی طور پر پارلیمنٹ جیسے اہم ادارے سے بھی عوام کو مایوسی ہی ہاتھ لگی۔
پارلیمنٹ سے سڑک تک، یہ سال ہنگامے اور احتجاجی مظاہروں کے نام رہا لیکن سالوں بعد دہلی نے کسانوں کو متحد ہو کر اپنے حق کے لئے سڑک پر اترتے دیکھا۔ترقی کے نام پر جس طرح سے مشرقی اتر پردیش کے ہزاروں لاکھوں کسانوں کی زمین حکومت نے زبردستی ایکوائر کی ، وہ بھی بہت کم قیمت پر، اس نے ملک کے کسانوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔15اگست ، اس دن ملک آزادی کا جشن منا رہا تھا۔ دوسری جانب، علی گڑھ اور متھرا کی سڑکوں پر پولس کسانوں پر لاٹھیاں اور گولیاں برسا رہی تھی، لیکن اس ملک کی حکومت کو 114سال پرانے زمین ایکوائرنگ قانون کو بدلنے یا اس میں ترمیم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
تاریخ کے اوراق میں یہ سال گھوٹالوں کے سال کی شکل میں یاد رکھا جائے گا۔ چوتھی دنیا نے سب سے پہلے آئی پی ایل میں بڑے گھوٹالہ کا اشارہ دے دیا تھا۔بعد میں کیاہوا، سب جانتے ہیں۔ دولت مشترکہ کھیل عام آدمی کی جائیداد کی لوٹ کا کھیل بن گیا۔ بعد میں تفتیش شروع ہونے کے بعد بھی کلماڈی اپنے عہدہ پر قائم رہے۔ سب سے افسوسناک با ت یہ تھی کہ جن پردیسی مزدوروں نے دولت مشترکہ کھیلوں کو کامیاب بنانے میں اپنی جان تک گنوائی، انہیں ہی ہمارے ملک کے وزیر داخلہ اور دہلی کی وزیر اعلیٰ تمام مسائل کی جڑ بتا رہے تھے۔چوتھی دنیا نے اپنی خصوصی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اے کے انٹونی کو آدرش گھوٹالہ کی خبر بہت پہلے سے تھی۔ انہیں یہ خبرسماجوادی پارٹی کے ایک ممبر پارلیمنٹ یشویر سنگھ نے اگست 2010میں ہی خط کے ذریعہ دے دی تھی۔ اپنے خط میں یشویر سنگھ نے صاف صاف لکھا تھا کہ آدرش کو آپریٹو سوسائٹی (لمیٹڈ)نے غیر قانونی طریقہ سے قلابہ کے رہائشی علاقہ نیوی نگر اور ڈیفنس اسٹیٹ کے ارد گرد عمارت کی تعمیرات کی ہے۔ اس خط کا جواب اے کے انٹونی نے دیا تو ضرور، لیکن کارروائی کے نام پر کچھ بھی نہیں ہوا۔ ہاں، گھوٹالہ سامنے آنے پر اعلیٰ کمان (جیسا کہ اکثر ہوتا ہے) کے حکم پر وزیر اعلیٰ اشوک چوان سے  استعفیٰ لے لیا گیا۔کارروائی کے نام پر حکومت نے بس یہی کیا۔ یو پی اے حکومت کو بدعنوانی کے الزام میں اپنے کئی وزراء مثلاً راجہ اور تھرور سے استعفیٰ لینا پڑا، لیکن منتازعہ سی وی سی پی جے تھامس کی تقرری پر اپوزیشن کے سوالوں کا جواب نہیں دے پائی۔ تھامس کی معتبریت پر سپریم کورٹ کے ذریعہ شک ظاہر کرنے کے بعد بھی حکومت کوئی کارروائی کرنے سے قاصر رہی۔
بدعنوانی کے معاملہ میں سیاسی پارٹیوں کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں نظر آیا۔ کرناٹک میں بی جے پی حکومت کے سربراہ وی ایس یدیو رپا زمین الاٹمنٹ گھوٹالہ میں صاف صاف پھنستے نظر آئے، لیکن بی جے پی چاہ کر بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکی۔ حد تو تب ہو گئی جب فوج پر بدعنوانی کے الزامات عائد ہوئے۔ سکنا زمین گھوٹالہ میں خود آرمی کورٹ نے فوج کے دو افسران کے ملوث ہونے کی بات کہی۔لیفٹیننٹ جنرل اور میجر جنرل سطح کے ان افسران کے خلاف فوج کی عدالت نے کارروائی کے احکامات دئے ۔عام آدمی کا فوج اور عدلیہ سے بھروسہ اٹھتا نظر آیا جب سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ میں کہیں کچھ سڑ گیا ہے اور یہاں کنبہ پروری شباب پر ہے۔
نکسل ازم کے مسئلہ کے حوالے سے بھی حکومت صرف جوابی حملہ کرنے میں ہی مشغول رہی۔وزیر اعظم نے کانگریس کنونشن میں یہ ضرور کہا کہ اس مسئلہ کے خلاف لڑائی صرف حفاظتی دستوں کے ذریعہ ہی نہیں جیتی جا سکتی، کیونکہ اس مسئلہ کا ایک ہی پہلو ترقی کے ایشو سے بھی جڑا ہوا ہے لیکن وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور لوٹ مار کو روکنے کے لئے حکومت کے پاس کوئی مشینری ہی نہیں ہے۔ حالانکہ بہار انتخابات کے دوران وہاں کے رائے دہندگان پر مائونوازوں کی دھمکی اپنااثر نہیں دکھا سکی۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ جب ترقی ہوتے ہوئے نظر آئے گی تو اس کے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ علاوہ ازیں، 2010میں بھی حفاظتی ایجنسیاں دہشت گردانہ سرگرمیاں روک پانے میں ناکام رہیں۔پنے میں ہوئے دھماکہ میں ہیڈلی کا نام سامنے آیا۔ لاکھ کوششوں کے بعد بھی حفاظتی ایجنسیاں اسے ہندوستان لا نے میں ناکام رہیں۔ سال کے اواخر میں ایک بار پھر بنارس کی شام دھماکوں سے گونج اٹھی۔
لیکن کچھ مسئلے ایسے ہوتے ہیں، جنہیں سلجھانے کے بجائے الجھانے میں ہی حکومت کو زیادہ فائدہ نظر آتا ہے۔ ایسا ہی ایک مسئلہ ہے کشمیر کا۔ کشمیر کے حوالے سے اس سال بھی مرکز ی حکومت پش وپیش کی حالت میں تھی۔ جب وادی میں تشدد کی آگ بھڑکی تو دہلی سے ایک وفد کو بھیجا گیا، لیکن سینئر صحافی اور کشمیر پر بنے وفد کی صدارت کر رہے دلیپ پڈگائونکر نے سری نگر میں کہہ دیا کہ کشمیر میں امن بحالی کے لئے جاری بات چیت میں پاکستان کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ پڈگائونکر کا کہنا تھا کہ اگر لوگ یہ مانتے ہیں کہ بنا پاکستان کے ساتھ بات چیت کئے صورتحال کو بہتر کیا جا سکتا ہے تو یہ غلط ہوگا۔ پاکستان، کشمیر معاملہ میں 1947 سے ہی جڑا ہوا ہے۔ اس لئے امن کی بحالی کے لئے ان سے بات چیت ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس آدمی پر کشمیر میں امن کی بحالی کے لئے راستہ کھلوانے کی ذمہ داری تھی، وہی آدمی اس معاملہ میں ایسے غیر ذمہ دارانہ بیان دے کر آخر کیا ثابت کرنا چاہتا تھا۔ بات اگر نیت کی ہی کی جائے تو وفاقی نظام میں مرکزی حکومت کسی بھی حال میں بڑے بھائی کے کردار میں ہی خود دکھا ناچاہتی ہے۔ظاہر ہے، کشمیر کے معاملہ میں بھی مرکزی حکومت کی نیت بھی کچھ کچھ ایسی ہی ہے۔
ویسے جب بات نیت کی ہو رہی ہے تو گزشتہ سال ایک اور اہم مسئلہ مرکزی حکومت کی منشاء پر سوال کھڑا کرتا نظر آیا۔ یہ مسئلہ تھا، آر ٹی آئی کے کچھ ضواط میں ترمیم کی تجویز کا ۔حق اطالاعات(آر ٹی آئی)آزاد ہندوستان میں بنا ایسا پہلا قانون ہے، جس نے عام آدمی کو بدعنوان نظام سے سوال پوچھنے کی طاقت دی۔لیڈر اور نوکر شاہوں کو پہلی بار محسوس ہوا کہ کوئی ان سے بھی سوال پوچھ سکتا ہے۔حکومت کو عام آدمی کی یہی عادت اچھی نہیں لگتی۔ اس لئے اس قانون کو بے اثر بنانے کے لئے کچھ اہم ضوابط میں ترمیم کی بات کی گئی۔یہ ترمیم ایسی ہے، جو اگر پاس ہو گئی تو عام آدمی کے لئے سوال پوچھنا اتناہی مشکل کام ہو جائے گا، جتنا کہ ایک بدعنوان نظام کو عوام کے سوالوں کا جواب دینا۔علاوہ ازیں 2010کے پہلے سال میں آٹھ ایسے آر ٹی آئی کے سپاہیوں کا قتل کر دیا گیا، جنھوں نے بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ان کے سوالوں نے ناجائزکان کنی کرنے والوں کی پول کھول دی تھی۔ زمین گھوٹالوں کا پردہ فاش ہوا۔ یہ ایسے سوال تھے، جن سے بدعنوان لوگوں کی نیند حرام ہو گئی تھی۔ سچ اور اطلاعات کے یہ سپاہی بدعنوان لوگوں کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن گئے تھے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ہندوستان کی تصویر چمکتی ہوئی تو نظر آئی، لیکن کوئی بڑی حصولیابی ملی ہو، ایسا نہیں کہا جا سکتا۔ اس سال کے آخر میں براک اوبامہ، نکولس سرکوزی، وین جیا بائو اور دمتری میدویدیو ہندوستان کے دورہ پر آئے۔ ان دوروں میں سے جس کی بحث سب سے زیادہ ہوئی ہندوستان کے حساب سے وہ کامیاب نہیں مانا جا سکتا۔ سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے معاملہ پر امریکہ کا رخ واضح نہیں تھا۔ کشمیر کے لوگوں کے لئے نتھی ویزا کے مسئلہ اور سرحدی تنازعہ پر جیا بائو کا بیان بھی عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آیا۔ہاں، فرانس نے سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت کی کھل کر حمایت کی اور ہندوستان میں دو ایٹمی ریکٹر لگانے پر بھی اتفاق کیا۔روس چونکہ ہندوستان کا سب سے پرانا دوست رہا ہے،اس ناطے میدویدیو نے اپنے دورہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تیل، گیس، خلاء اور تکنیک کے شعبے میں معاہدے کئے۔ساتھ ہی دہشت گردی کے خلاف بھی جم کر بولے۔بین الاقوامی سطح پر 2010کا آخری مہینہ کچھ زیادہی ہی تذکروں میں رہا۔ وجہ وکی لیکس کے انکشاف تھے۔ جولین اسانجے اور وکی لیکس کے انکشافات نے امریکہ سمیت ہندوستانی لیڈروں کے دوغلے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ امریکہ کے جمہوری چہرے کی اصلیت تب سامنے آئی ، جب انکشافات کے بعد امریکہ نے اسانجے کو پھنسانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ ساتھ ہی دو ممالک کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کی پول بھی ان انکشافات کی وجہ سے ہی کھلی۔ امریکی حکمراں ہندوستان اور دیگر ممالک کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، یہبات سامنے آئی۔حکمرانوں کے مسکراتے چہروں کے پیچھے کی اصلیت بھی سامنے لانے میں وکی لیکس کامیاب رہا۔
ایک آخری امید: نومبر 2010میں جب بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج آئے، تو ایسا لگا کہ ایک آخری امید ابھی بھی باقی ہے۔ زیادہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس طرح سے بہار کے عوام نے ذات اور مذہب کو بھلا کر ترقی کے نام پر ووٹ دیا، وہ ملک کے لئے ایک پیغام بن گیا۔ امید تب اور بھی مضبوط ہوئی جب نتیش کمار نے رائٹ ٹو سروس ایکٹ، ناجائز جائداد ضبط کرنے کے لئے قانون بنانے اور ممبر اسمبلی فنڈ ختم کرنے کا اعلان کیا اور ہاں، اس ملک کے عوام کو خوشی کے کچھ لمحے سچن تیندولکر بھی دے گئے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں سنچری کی ہاف سنچری لگا کر۔
بہر حال، 2010نے عام آدمی کو ایک پیغام ضرور دیا ہے۔ پیغام یہ کہ اب پارٹی بدلنے سے نظام میں تبدیلی نہیں آنے والی۔ آپ کے پاس انتخاب کے نام پر متبادل کا فقدان ہے۔ یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔حل آپ کو خود تلاش کرنا ہے تو تمام، برائیوں کے بعد بھی ہمارے پاس خوش ہونے کے لئے تھوڑے ہی صحیح،لیکن کچھ اسباب ضرور ہیں۔ اس لئے نئے سال پر چوتھی دنیا کی جانب سے آپ سبھی کو دلی مبارکباد۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *