کشمیر مذاکرات کار اپنے مقصد میں کتنا کامیاب

Share Article

ایسا لگتا ہے کہ کشمیر میں بات چیت کی نئی پہل شروع ہونے سے پہلے ہی پٹری سے اتر گئی ہے۔اگر اس پہل کا مقصد ان لوگوں تک پہنچناتھا جو کہ کشمیر میں ہندوستان کے اقتدار کو چیلنج دیتے ہیں، تو یہ پہل اپنے مقصد میں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ مولوی عمر فاروق اور یاسین ملک کی مشترکہ حریت قیادت نے ہندوستانی سرکار کے ذریعہ مقررکردہ مذاکرات کار سابق آئی بی ڈائریکٹر دنیشور شرما سے بات چیت خارج کر دی ہے۔
شرما کی تقرری پر کئی لوگوں کو حیرانی ہوئی،کیونکہ مرکز میںنریندر مودی کی قیادت والی سرکار کشمیر مسئلے کے حل کے لئے اس راستے کی حامی نہیں تھی۔پچھلے تین برسوں کے دوران سرکار نے سخت رخ اپناتے ہوئے فوج اور نیم فوجی دستوں کو یہاں کی پوزیشن سے نمٹنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ لاء اینڈ آرڈر بنائے رکھنے کے نام پر سیکورٹی دستوں کے ذریعہ پیلیٹ گن کے استعمال کو مناسب ٹھہرایا گیا۔ غور طلب ہے کہ پیلیٹ گن کے چھروں کی چوٹ سے کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے اپنی آنکھیں کھو دی تھیں۔اب غصہ ختم ہو گیا ہے ۔اب مسئلے کے سیاسی حل کی کوشش ہونی چاہئے۔

 

 

 

 

 

بی جے پی کا کھیل
جب کشمیر کے سبھی فریقوں اور اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کے لئے ہندوستانی سرکار کے نمائندہ کی شکل میں دنیشور شرما کے نام کا اعلان ہوا،تب اس پر وادی میں بہت زیادہ حوصلہ نہیں دکھائی دیا۔ مرکز میں برسراقتدار بی جے پی کے لوگوں نے ہی سرکار کے اس پہل کی اہمیت کم کردی۔ وزیراعظم دفتر میں جونیئر وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یہ کہہ کر اس پہل پر پانی پھیرنے کی کوشش کی کہ شرما ایک مذاکرات کار نہیں، بلکہ سرکار کے ایک نمائندہ ہیں اور کشمیر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
شرما خود ایسا ماحول بنانے میں ناکام رہے، جو لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرتا۔ جب وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے 23اکتوبر کو یہ اعلان کیا کہ نئی دہلی بات چیت کا مسلسل عمل شروع کرے گی تو انہوں نے یہ صاف کردیا تھا کہ شرما کسی کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ دنیشور شرما کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ سرکار کے نمائندہ کی شکل میں کسی بھی اسٹیک ہولڈر سے بات چیت کر سکیں۔ جموں و کشمیر کے لوگوں کی جائز مانگوں کو سمجھنے کے لئے وہ لوگوں سے مسلسل بات چیت کریں گے۔
جلد ہی بی جے پی کے کئی لیڈروں نے آرٹیکل 370 جیسے متنازع ایشوز کو اچھال کر اس سرگرمی پر ٹھنڈا پانی ڈالنا شروع کردیا۔ ان میں سے کچھ نے یہ بھی کہا کہ حریت کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی ہے۔ حالانکہ نائب وزیر اعلیٰ نرمل سنگھ نے قبول کیا تھا کہ حریت ایک اسٹیک ہولڈر ہے۔ بہرحال الگ الگ حلقوں سے آنے والے رد عمل سے یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ شرما کی تقرری صرف ایک تقرری تھی، اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھی۔ شرما کے سری نگر پہنچنے سے بہت پہلے وزیر اعظم مودی خود میدان میں آڈٹے۔انہوں نے سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم کے اس بیان کی پُر زور تردید،جس میں چدمبرم نے آزادی کا موازنہ خود مختاری سے کیا تھا۔ انہوں نے چدمبرم کے بیان کو شرمناک اور ناقابل قبول قرار دیا تھا۔ حالانکہ ان کے اس بیان سے ان کی منشا ظاہر نہیں ہوتی، لیکن اس سے یہ خیال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ نئی دہلی ان لوگوں سے بات چیت کرنے کے موڈ میں نہیں ہے، جو مخالفت اور عدم اتفاق کے سُروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلے کے سیاسی حل کا دائرہ بہت سکڑا ہوا ہے ۔
شرما کے بیان سے یہ سمجھنا مشکل ہو گیا کہ جو سرگرمی وہ شروع کرنے والے ہیں، وہ مسئلے کاسیاسی حل تلاش کرنے کے لئے ہے بھی یا نہیں۔انہوں نے تشدد کا راستہ ترک کرنے والے نوجوانوں کے لئے روزگار کی بات کی اور انہیں ایسے راستے سے دور ہٹانے کی بات کی جو کشمیر کو ایک اور ملک شام میں بدل دیں گے۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ غیر ضروری بات کر رہے تھے۔تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نئے اوتار میں انہیں ان کے کردار کے ساتھ بھیجا گیا ہے؟سری نگر آنے سے پہلے شرما نے کچھ بیان دیئے جو کہ صلح صفائی کے لئے تعینات کئے گئے مذاکرات کار کے لئے بے معنی تھے۔
کانگریس کی مجبوری
سینئر کانگریسی لیڈر پی چدمبرم نے خود مختاری کی بات کی تو پارٹی نے خود کو اس بیان سے الگ کر لیا۔ ماضی میں بھی کانگریس اسی کشمکش کی حالت میں دکھائی دی ہے۔جموں و کشمیر میں کانگریس ایک سیاسی طاقت ہے اور 2021 میں اقتدار میں لوٹنے کی خواہش رکھتی ہے لیکن ملک کے باقی حصوں میں یہ ہچکولے کھاتی راشٹرواد کی کشتی میں بنے رہنے کیلئے سخت محنت کر رہی ہے۔
جب وزیر اعظم نے چدمبرم کے بیان کی مذمت کی ،تب کانگریس ترجمان نے اس بیان سے پارٹی کو الگ کر لیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ وہی کانگریس ہے، جس نے 2010 میں اپنی سرکار کے ذریعہ مقرر کردہ تین مذاکرات کار وں کی رپورٹ کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا تھا۔ فی الحال کانگریس راشٹر وادی ہونے کے معاملے میں بی جے پی کے ساتھ کونٹنمنٹ کررہی ہے لیکن چدمبرم کے بیان کو خارج کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی جیسے اپنے ہی لیڈروں کوخارج کرنا، جنہوں نے بالترتیب 1952,1975 اور 1986 میں کشمیر مسئلے پر سمجھوتے کئے تھے۔
کانگریس کا رویہ بی جے پی کی طرح ہو گیا ہے۔کانگریس نے بھی ایک ایسا اسٹینڈ لیا ہے جو بات چیت اور مسئلے کے حل کے خلاف ہے ۔ بی جے پی کی ہاں میں ہاں ملانے کے بجائے کانگریس کو آزادانہ اور پروگریسیو طاقتوں کے ساتھ جڑنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس 2004 میں بی جے پی کو چیلنج دے کر اقتدار میں نہیں آئی تھی۔ جموں و کشمیر کے معاملے میں کانگریس کی وراثت داغدار رہی ہے۔ اگر کشمیر کے سیاسی ایشو پر وہ ایک واضح اور پرو پیپل رخ نہیں اپنائے گی تو وہ خود کا نقصان کرے گی۔ چدمبرم پر اپنے رد عمل کے مد نظر، کانگریس کو سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی صدارت والی جموں و کشمیر پالیسی گروپ کی تشکیل کی دلیل کو بھی سمجھا جانا چاہئے۔

 

 

 

 

 

 

حریت کی کشمکش
گیلانی ، میر واعظ اور ملک کے مشترکہ حریت قیادت کے ذریعہ جاری بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اگر بی جے پی کے لوگوں کے متضاد بیان کو دیکھا جائے تو اس پہل میںکچھ بھی ایسا نہیں ہے،جسے نیا کہا جائے۔
اس رد عمل کو بے کار بتاتے ہوئے مشترکہ حریت قیادت نے کہا کہ جس طرح ہندوستانی سرکار کے ذریعہ دنیشور شرما کو جموں و کشمیر کے مذاکرات کار مقرر کئے جانے کو بڑھا چڑھا کر دکھایا گیا، وہ کچھ اور نہیں، بلکہ سرکار کے وقت گزارنے کی پالیسی ہے۔یہ پالیسی عالمی دبائو، علاقائی مجبوری اور کشمیر کے لوگوںپر ملٹری سپریشن کی ریاست کی پالیسی کی ناکامی کی وجہ سے اپنائی گئی ہے۔
حالانکہ قیادت کا رد عمل کچھ حقائق پر مبنی ہے، لیکن لیڈروں کو دیگر طبقوں کے ساتھ بھی غور و فکر کرنا چاہئے تھا ۔جیسا کہ انہوں نے 2016 میں ہوئے ہڑتالوں کے دوران کیا تھا۔ قیادت نے رد عمل دینے کے لئے ایک ہفتہ کا وقت لیا اور پھر جب رد عمل آیا تو اس سے بہتوں کو حیرانی ہوئی۔انہیں بات چیت کے لئے رسمی دعوت نامہ ملنے تک انتظار کرنا چاہئے تھا۔
جس طرح شرما اور بی جے پی نے اپنے اپنے رد عمل دیئے، اس سے اس پہل میںکوئی حتمیت دکھائی نہیں دیتی۔ اس پس منظر میں مشترکہ حریت قیادت کو اپنے لوگوں کا ایک گروپ تشکیل کرنا چاہئے تھا اور اپنی مانگوں کا ایک چارٹر پیش کر کے گیند کو شرما کے پالے میں ڈال دینا چاہئے تھا۔ اگر ہندوستانی سرکار سچ مچ وقت گزارنا چاہتی ہے اورزمینی حقیقت سے دھیان بھٹکانا چاہتی ہے تو ایسا کرنے سے یہ صاف ہو جاتا ۔ شاید قیادت کا رد عمل ان کے عام رد عمل کی طرح تھا۔ چونکہ شرما صرف مین اسٹریم کی پارٹیوں کے ساتھ ہی ملاقات کر پائیںگے، لہٰذا ا س سے صورت حال میںبدلائو کی کوئی امید نہیں ہے۔ بات چیت کے دروازے بند کرنا وقت کے خلاف ہے ۔ اس صورت حال کے لئے کون قصوروار ہے، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *