جھارکھنڈ کی اپوزیشن پارٹیاں تنظیمی تبدیلیاں کتنی مؤثر ثابت ہوں گی؟

Share Article

الیکشن کی آہٹ ہوتے ہی جھارکھنڈ میں تقریباً مردہ ہوچکی کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل نے اپنی اپنی تنظیم کو مضبوطی دینے کے لیے نئی ٹیم بنانے کی قواعد شروع کردی ہے۔ کانگریس نے جہاںتیز طرار سابق آئی پی ایس افسر ڈاکٹر اجے کمار کو انتخابی نیّا پار کرانے کی ذمہ داری سونپی ہے،وہیں راشٹریہ جنتا دل کے قومی صدر لالو پرساد نے اپنی قریبی سابق وزیر انپورنا دیوی کو پارٹی کا صدر بناکر پارٹی میںجان ڈالنے کی کوشش کی ہے۔کانگریس کے نو منتخب ریاستی صدر ڈاکٹر اجے کمار نے یہ صاف اشارہ دیا کہ گٹ بازی کرنے والوں کے لیے پارٹی میںکوئی جگہ نہیں ہے اور عوام کے بیچ رہنے والے لیڈروں اور کارکنوں کو ہی پارٹی میں توجہ دی جائے گی۔
کانگریس گٹ بازی کا شکار
جھارکھنڈ میں کانگریس پوری طرح سے گٹ بازی میںپھنسی نظر آرہی تھی۔ سابق ریاستی صدر سکھدیو بھگت کی مخالفت جہاں ایم ایل ا ے منوج یادو گٹ کر رہا تھا اور انھیں ہٹانے کے لیے ایڑی چوٹی ایک کیے ہوئے تھا، لیکن دلی دربار میںرسائی کی وجہ سے سکھدیو بھگت صدر تو بنے رہے لیکن پارٹی کی عوامی مقبولیت تیزی سے گرتی چلی گئی۔ تنظیم پر اپنی پکڑ بنانے میںبھی بھگت پوری طرح سے ناکام رہے۔ اس سے پہلے صدر، رکن پارلیمنٹ پردیپ کمار بالموچو کی مدت کار میںبھی کانگریس کی صورت حال انتہائی قابل رحم رہی۔ بالموچو دو تین لیڈروں کو چھوڑ کر کسی پر بھی توجہ نہیںدیتے تھے۔ اس وجہ سے لیڈروں اور کارکنوں میںکافی ناراضگی تھی۔ بالموچو کے بعد سے ہی کانگریس قومی پارٹی ہوتے ہوئے بھی پچھلگو پارٹی بن کر رہ گئی ۔ تنظیم میںگٹ بازی پوری طرح سے حاوی تھی اور یہی وجہ ہے کہ اسمبلی میںجہاںپچھلی بار 11 اراکین اسمبلی چن کر آئے تھے، وہیںاس بار صرف چھ ایم ایل اے ہی الیکشن جیت پائے ۔ لوک سبھا انتخابات میں تو کانگریس کو بری طرح ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس کا ایک بھی امیدوار لوک سبھا کے الیکشن میںپرچم نہیںلہرا پایا۔ سبودھ کانت سہائے جیسے قدآور لیڈر بھی رانچی لوک سبھا سے دو لاکھ ووٹوںکے فرق سے ہارے۔ ویسے تو کانگریس کا پورے ملک میںکم و بیش یہی حال تھالیکن جھارکھنڈ میںتنظیم میںپیدا ہوئی گٹ بازی کی وجہ سے ہی کانگریس کی کرکری ہوئی۔ پارٹی کے عہدے سے بالموچو کی چھٹی ہوگئی اور سکھدیو بھگت کو قومی صدر کا تاج پہنایاگیا۔ لیکن سکھدیو بھی کوئی کرشمہ نہیںدکھا پائے اور وہ کانگریس میںجان پھونکنے میںپوری طرح سے ناکام رہے۔ انھیںپارٹی کے ایک بڑے گٹ کی بھاری مخالفت بھی برداشت کرنی پڑی۔ حالانکہ اس کے لیے سکھدیو ہی قصوروار مانے جاتے ہیں۔ انھوںنے اپنے آگے پیچھے پریکرما کرنے والے ایسے لیڈروں کو اہم عہدوںپر بٹھادیا، جن کو کوئی عوامی حمایت حاصل نہیں تھی۔ انھوں نے ایک ایسے لیڈر کو پارٹی کا جنرل سکریٹری بنا دیا، جسے پچھلے اسمبلی انتخاب میںمحض تین ہزار ووٹ ہی مل پائے تھے۔

 

 

 

 

 

پارٹی میں قیادت کی تبدیلی کی مانگ بہت دنوںسے ہورہی تھی اور پارٹی کو بھی ایک ایسے لیڈر کی تلاش تھی جو انتخابی نیّا کو پار لگادے۔ 2019 میں لوک سبھا کے انتخابات ہونے ہیں اور کانگریس اس بار بی جے پی کو چاروںخانے چت کرنے کی کوشش میںہے۔ وہ مشن 2019 کو کامیاب کرنے کو لے کر کوئی کور کسر نہیں چھوڑنا چاہتی ہے۔ حالانکہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ نو منتخب ریاستی صدر ایک تیز طرار لیڈر ہیں۔ ان کی شبیہ بھی ایک ایماندار کے روپ میںبنی ہوئی ہے ۔ تیز طرار آئی پی ایس شبیہ ہونے کی وجہ سے جھارکھنڈ میںمقبول بھی ہیں لیکن مردہ کانگریس میںوہ کتنی جان پھونک پائیںگے،یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ا ن کے ریاستی صدر پر نامزدگی کو لے کر مخالفت بھی شروع ہوگئی ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پردیپ کمار بالموچو تو کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ بالموچو کا ماننا ہے کہ صدر کے عہدے پر غیر آدیواسی کو بٹھانے سے کانگریس کی حالت مزید خراب ہوگی۔ یہاںآدیواسی اور مہتو ووٹروںکی اکثریت ہے،اس لیے جھارکھنڈ میںآدیواسی کو اگر صدر بنایا جاتا ہے تو پارٹی مضبوط ہوگی۔ جھارکھنڈ کی تشکیل کے بعد سے تقریباً 17 سال تک آدیواسی ہی صدر کے عہدے پر بنے رہے لیکن پارٹی کی حالت دھیرے دھیرے خراب ہوتی چلی گئی۔ پارٹی کے لیڈر بیان اور پوسٹروں تک ہی سمٹ کر رہ گئے۔ تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے زمینی سطح پر کوئی کام نہیںکیا گیا۔
کانگریس میںتنظیمی تبدیلیاں
اب پارٹی نے ڈاکٹر اجے پر بھروسہ کیا ہے لیکن وہ پارٹی کو گٹ بازی سے نکال کر تنظیم کو مضبوط کرپاتے ہیں یا نہیں، یہ دیکھنا ہوگا۔ ریاستی صدر کا عہدہ سنبھالتے ہی انھوںنے اپنے دروازہ کھول دیا، جس کی وجہ سے چھوٹے کارکن بھی ریاستی صدر سے کھل کر اپنی باتیںرکھ رہے ہیں۔ پہلے اس طرح کا طریقہ کار نہیں دیکھا گیا تھا، یہ کارکنوںکا ہی کہنا ہے۔ ڈاکٹر اجے کا بھی ماننا ہے کہ پارٹی کے لیے جھارکھنڈ میںبے پناہ امکانات ہیں اور ہم پنچایت سطح تک تنظیم کو مضبوط کرکے بہتر رزلٹ دیںگے۔ بندوق چمکانے اور ٹھیکداری کرنے والوںکے لیے اب پارٹی میںکوئی جگہ نہیںہے۔ ہر بوتھ پر دس کارکن تیار کریںگے اور عام جنتا کے بیچ جاکر ان لوگوںکے مسائل کو دور کرنے کی کوشش کریںگے،اس سے پارٹی کی عوامی حمایت تیز سے بڑھے گی۔
ویسے کانگریس نے غیر آدیواسی کو صدر بناکر یہ پیغام دینے کا کام کیا ہے کہ کانگریس تنظیم کے تحت ہی الیکشن لڑے گی۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ کانگریس بہار کی مانند پچھلگو پارٹی کی طرح رہ کر ہی الیکشن لڑے گی۔ کانگریس جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ساتھ مل کر جھارکھنڈ میںالیکشن لڑے گی، اب یہ طے ہوچکا ہے ۔ کانگریس کی قیادت میںتبدیلی سے اپوزیشن اتحاد کے امکانات کو بھی تقویت مل رہی ہے ۔ اپوزیشن کے سیاسی گٹھ بندھن کے مضبوط ہونے کے بھی آثار بڑھ گئے ہیں۔ اس کا فائدہ بی جے پی کے خلاف الیکشن لڑنے میںبھی ملے گا۔ 2014 کے الیکشن میںکانگریس اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے ایک دوسرے کے خلاف امیدوار کھڑے کیے تھے۔ اس وقت جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ساتھ تال میل نہیںہوسکا تھا، جس کے نتیجے میںکانگریس کو کئی سیٹوں پر نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس دوران کانگریس پارٹی گٹ بازی اور انتشار سے نبرد آزما رہی تھی۔ اس الیکشن میںکانگریس پرانی غلطیوں کو نہیں دہرانا چاہے گی۔ نو منتخب ریاستی صدر اچھے اسپیکر تو ہیںہی ، سیاست کے چانکیہ بھی مانے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کانگریس نے ان پر بھروسہ کرکے ایک بڑی ذمہ داری سونپی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوںپارٹیوںکے نومنتخب صدر انتخابات میںویترنی کو پار لگا پاتے ہیں یا نہیں۔ پارٹی تنظیم کو کیسے مضبوطی دے پائیںگے، یہ ان لوگوںکے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے۔
پارٹی کا مینڈیٹ بڑھا ہے: انپورنا
راشٹریہ جنتا دل کی نو منتخب ریاستی صدر انپورنا دیوی کا یہ دعویٰ ہے کہ پارٹی کا مینڈیٹ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لالو کی قیادت میںپارٹی تنظیم کی توسیع ہورہی ہے اور یہ امید ہے کہ تمام اپوزیشن لالو کی قیادت میںجھارکھنڈ، بہار میں الیکشن لڑے گا اور آر جے ڈی بھگوا کو یہاںسے بھگانے میںپوری طرح سے کامیاب رہے گا۔ بی جے پی سے عوام پریشان ہیں۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے سبب کاروبار پوری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے صنعتی دھندے بند ہورہے ہیں اور ملک میںبے روزگاری کے مسائل بڑھے ہیں۔ رگھوور سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ سرکار صرف اعلانوں کی سرکار ہے۔ ترقی کے نام پر ریاست میںلوٹ مچی ہوئی ہے۔ بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ روزی روٹی کی تلاش میںلوگ دوسری ریاستوںکی طرف کوچ کررہے ہیںلیکن سرکار مومینٹم جھارکھنڈ اور مائنس شو کا انعقاد کرکے یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ سرمایہ کار جھارکھنڈ کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔ سرکار یہ بتائے کہ جھارکھنڈمیںکون سی صنعت لگی ہے۔ عوام بی جے پی سرکار کے وعدوں سے اب اوب چکے ہیں اور تبدیلی چاہ رہے ہیں۔ آر جے ڈی دیگر پارٹیوںکے ساتھ متبادل بن کر ابھررہا ہے۔ انھوںنے دعویٰ کیا کہ اس بارمہا گٹھ بندھن کی ہی سرکار بنے گی۔ تنظیم کے بارے میںپوچھنے پر انھوںنے قبول کیا کہ جھارکھنڈ میںتنظیم کچھ کمزور ضرور ہے لیکن اسے مضبوط بنایا جائے گا۔ قومی صدر لالو پرساد نے جو ذمہ داری دی ہے ، اس پر کھرا اترنے کی کوشش کروںگی۔ ہر ضلع اور پنچایتوں میںجاکر وہاںکے لوگوںسے مل کر تنظیم کو مضبوط بنایا جائے گا۔ پچھڑوں، دلتوں اور اقلیتوں کی پوری حمایت مل رہی ہے اور امید ہے کہ پارٹی آئندہ الیکشن میںایک بڑی جیت حاصل کرے گی۔ کیا پارٹی کے سابق صدور نے تنظیم کو مضبوط کرنے پر کوئی دھیان نہیںدیا؟ اس بارے میںپوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ سبھی پارٹیوںکو مضبوط کرنے میںلگے ہوئے ہیں اور تنظیم کو مضبوط کرنے میںپورے جوش و خروش کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

ٹھیکیداری کرنے والوںکے لیے تنظیم میںجگہ نہیں: ڈاکٹر اجے
کبھی پولیس سروس میںاپنی محنت کے لیے مشہور ڈاکٹر اجے کمار کو کانگریس نے جھارکھنڈ میںاپنی تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے ریاستی صدر بنایا ہے۔ پارٹی اعلیٰ کمان کو یہ بخوبی احساس ہے کہ ڈاکٹر اجے اپنی ذمہ داری کو اچھی طرح نبھائیں گے۔ تیز طرارڈاکٹر اجے کی شبیہ کبھی رابن ہڈ والی تھی۔ پولیس سروس سے استعفیٰ دینے کے بعد کارپوریٹ کی دنیا میںہاتھ آزمائے لیکن یہ جب انھیںراس نہیں آیا تو سیاست کے میدان میںکود پڑے اور اب انھیںکانگریس نے ایک اہم ذمہ داری سونپی ہے۔ نومنتخب ریاستی صدر بی جے پی سرکار پر تابڑ توڑ الزام لگا کر یہ ثابت کر نے میںلگے ہوئے ہیں کہ بی جے پی صنعت کاروںکی سرکار ہے اور ترقی کے نام پر یہاںبدعنوانی کی گنگا بہہ رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ وزیر اعلیٰ رگھوور داس کے دیے ہوئے کام نہیں ہوتے۔ ترقی کے نام پر غریب آدیواسیوں کی زمین چھینی جارہی ہے اور اس کی وجہ سے آدیواسی اور غریب کسان روزی روٹی کی تلاش میںدوسری ریاستوںکی طرف نقل مکانی کررہے ہیں۔ ریاست میں صرف کاغذوں پر ہی ترقی ہوئی ہے۔ بنیادی سہولتوںکا فقدان ہے۔ کسانوںکو فصل کے مناسب دام نہیںمل پارہے ہیں۔ اس کی وجہ سے کسان قرض میںپھنس کر خودکشی کو مجبور ہیں۔ کانگریس کے دور حکومت میںکسانوںکی حالت بہتر تھی۔ ریاست میںلاء اینڈآرڈر کے بارے میںچرچا کرتے ہوئے انھوںنے کہا کہ ریاست میںلاء اینڈ آرڈر کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
بی جے پی کی مشکلیں
جھارکھنڈ میںبی جے پی سرکار اپنے ہی لیڈروں کو تحفظ نہیںدے پارہی ہے تو عام لوگوں کے بارے میںسوچنا بے معنی ہے۔ آئے دن تاجروںاور عام لوگوںکی ہلاکتیںہورہی ہیں۔ نکسلی سرگرمیاں بھی لگاتاربڑھ رہی ہیںلیکن وزیر اعلیٰ یہ دعویٰ کررہے ہیںکہ نکسلیوں کو مٹا دیا گیا ہے۔ ریاست میںاب نکسلواد ہے ہی نہیں۔ بی جے پی صنعت کاروںکی سرکار ہے اور ریاست میںتاجروں،افسروں اور صنعت کاروںکی ہی ترقی ہو رہی ہے۔ عام لوگوںکی صورت حال قابل رحم ہے اور لوگ بھوک سے مررہے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ غیر ملکی دوروں میں مشغول ہیں۔ مومینٹم جھارکھنڈ اور مائنس شو کے بارے میں انھوںنے کہا کہ یہ صرف دکھاوا ہے اور عوام کو ورغلانے کا کام کیا جارہاہے۔
تنظیم کے بارے میںچرچاکرتے ہوئے انھوںنے کہا کہ جھارکھنڈ میں کانگریس کے لیے بے پناہ امکانات ہیں۔ پارٹی تنظیم کو بوتھ سطح پر مضبوط کرے گی۔ چیلنجز تو بہت ہیں لیکن اسے قبول کرکے ترجیح کے تحت منصوبہ بنا کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس قومی پارٹی ہے اور پنچایت سطح تک تنظیم کی موجودگی ہے۔ تنظیم کو سرگرم کرنامیری ترجیح ہے اور اگر سبھی عام لوگوں کے لیے وقت نکالیںگے تو پارٹی کی عوامی مقبولیت بڑھنا طے ہے۔ تنظیم کو ہر بوتھ تک لے جانا ہے ،ہم تبھی پارٹی کو مضبوط مانیں گے۔
تنظیم سے جڑے لوگ کافی اچھے ہیں اوروہ نئے جوش و طاقت کے ساتھ کام میںجٹیںگے۔ انھوںنے کہا کہ وہ یہ صاف کہہ چکے ہیںکہ بندوق چمکانے اور ٹھیکیداری کرنے والوں کے لیے کانگریس میںکوئی جگہ نہیں ہے۔ صرف پوسٹر اور بینر میںنام چاہیے تو کانگریس میںکام مت کیجئے۔ یہ میںواضح کرناچاہتا ہوں کہ میرے آگے پیچھے کرنے سے بھی کوئی فائدہ نہیںہوگا۔ ضلع کی سطح پر تنظیم کو مضبوط کرنے کے بارے میںپوچھے جانے پر انھوںنے کہا کہ ہمیںکام کرنے والے ہاتھ چاہئیں،سیاست تو بعد میںہوتی رہے گی۔ اگر عام جنتا کا مجھ سے بھلا نہیںہوا تو سیاست کرنے کا کوئی جواز نہیںہے۔ ہم ایسے لوگوںکو اوپر سے نیچے تک چنیںگے جو عوام کا کام کرسکیں۔ جن کو الیکشن لڑنا ہے،وہ عوام کے بیچ رہ کر جنتا کا کام کریں۔ ہم سارے معیار سختی سے طے کریںگے۔جن کو تنظیم میںرہنا ہے، انھیںعوام کے بیچ رہنا ہی ہوگا۔ بوتھ سطح تک تنظیم کو مضبوط کرنا ہماری ترجیح ہے۔ تنظیم کو مضبوط کرکے بہتر رزلٹ دینا ہے۔میںبس اتنا جانتا ہوں کہ عوام انتظار کررہے ہیں۔ ان کی باتوںکو رکھنے والا، اوپر تک پہنچانے والا شخص ہوناچاہیے ۔ کانگریس اس ذمہ داری کو نبھائے گی۔ ہم سب کی کوشش سے تنظیم کو مضبوط کریںگے اور جھارکھنڈ کو بہتر متبادل بھی دیںگے ۔ عوام بھی تبدیلی چاہ رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *