ٹرمپ کے مواخذے کیلئے عائد الزامات ہاؤس کمیٹی سے منظور

Share Article

امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی نے ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ڈیموکریٹس کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی منظوری دے دی جس کے بعد مواخذے کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی کے لیے پیش کیے الزامات کی منظوری کے دوران ہاؤس جوڈیشری کمیٹی میں واضح تقسیم نظر آئی جہاں الزامات کی منظوری کے لیے 17 کے مقابلے میں 23 ووٹ حاصل ہوئے۔ایوان نمائندگان نے ڈیموکریٹس کی جانب سے عائد یوکرین کی حکومت پر دباؤ اور تحقیقات میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے دونوں الزامات کی منظوری دے دی ہے۔

ٹرمپ کے مواخذے کے لیے پیش کیے گئے الزامات کی منظوری کے لیے اگلے ہفتے پورے ایوان پر مشتمل ووٹنگ ہوگی جہاں منظوری کی صورت میں ری پبلکنز پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے تیسرے صدر ہوں گے جن کے خلاف مواخذے کی کارروائی ہوگی۔رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کو صدارت سے ہٹانے کے امکانات صفر ہیں کیونکہ سینیٹ میں حکمران جماعت ری پبلکن کی اکثریت ہے جہاں حتمی فیصلہ ہوگا۔ایوان نمائندگان کی کمیٹی کے چیئرمین جیری نیڈلر کا کہنا تھا کہ ٓج دردناک دن ہے کیونکہ تیسری مرتبہ ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کے سامنے صدر کے مواخذے کے لیے ووٹنگ ہوچکی ہے۔

اس موقع پر ری پبلکنز نے ٹرمپ کا دفاع کرتے ہوئے ڈیموکریٹس پر تنقید کی اور کہا کہ یہ معاملات سیاسی طور پر اٹھائے گئے ہیں جس کا مقصد ہے کہ 2016 کے صدارتی انتخاب کو بدلنا چاہتے ہیں۔ری پبلکن کے رکن اور سینیٹ جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین لنزے گراہم کا کہنا تھا کہ ‘امریکی ایوان نمائندگان میں ایک مضحکہ خیز لمحہ ہے اور اس کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے’۔ٹرمپ کے مواخذے کی منظوری کی صورت میں ان کے خلاف کارروائی کا آغاز نئے سال کے اوائل میں ہوگا جبکہ اسی دوران 2020 کے صدارتی انتخاب کے لیے مہم میں بھی تیزی آئے گی۔ڈیموکریٹس کے امیدوار جو بائیڈن نومبر میں ہونے والے انتخاب میں ٹرمپ کے مخالف ہوں گے جن پر ٹرمپ نے کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے تفتیش کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہوں نے الزامات کو مسترد کردیا تھا۔یاد رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان میں اپوزیشن کی جماعت ڈیموکریٹ کے رہنماؤں نے دو روز قبل ہی ایوان نمائندگان میں باقاعدہ طور پر الزامات کا اعلان کردیا۔ڈیموکریٹس نے ٹرمپ پرجو دو الزامات عائد کیے تھے، ان پر پہلا الزام تھا کہ انہوں نے سیاسی مخالف کی تفتیش کے لیے یوکرین پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرکے اختیارات کا غلط استعمال کیا جو ملک سے دھوکہ دہی ہے۔

ڈیموکریٹس نے دوسرا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسکینڈل کے حوالے سے ہونے والی کانگریس کی تفتیش میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔یاد رہے کہ 25 ستمبر 2019 کو ڈیموکریٹس کی رکن اور ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے اعلان کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عہدے اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کے تحت مواخذے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ڈیموکریٹک حریف اور نائب صدر جو بائیڈن کو نقصان پہنچانے کے لیے غیر ملکی قوتوں سے مدد طلب کرکے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔امریکی تاریخ میں آج تک صرف دو امریکی صدور کا مواخذہ ہوا ہے، جن میں 1998 میں بل کلنٹن جبکہ 1868 میں اینڈریو جانسن کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *