ایماندار لوگوں کو اسمبلی میں پہنچائو

Share Article

سنتوش بھارتیہ
بہار کے انتخابات صرف نتیش کمار، لالو یادو اور رام ولاس پاسوان کے لیے نہیں، بلکہ ریاست کے لوگوں کے لیے بھی ایک سخت آزمائش ہے۔ بہار کے لوگوں کو اب یہ طے کرنا ہے کہ آئندہ اسمبلی میں ان کی نمائندگی کون لوگ کریںگے، زمینی سطح پر کام کرنے والے سماجی اور سیاسی کارکن یا پھر پیسے والے؟ تعلیم یافتہ لوگوں کو اسمبلی میں بھیجا جائے گا یا پھر غنڈے اور مجرمانہ شبیہ والے لوگ انتخاب جیتیںگے؟ بہار کے عوام کے سامنے ایسے کئی سوالات ہیں ، جن کا جواب اسے دینا ہے۔ کیا اس بار منتخب ہو کر آئے اراکین اسمبلی پر یہ بھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ آئندہ پانچ برسوں تک ریاست کے لوگوں کے مسائل کو دور کرنے کی ذمہ داری نبھا پائیںگے؟ جمہوریت کو مضبوط کرنے اور اسے چلانے کی ذمہ داری سیاسی پارٹیوںپرہوتی ہے، لیکن بہار اسمبلی انتخابات میں جس طرح کے امیدواروں کو ٹکٹ دیا جارہا ہے، اس سے لوگوں کا یقین اٹھتا جارہا ہے۔
انتخاب جیتنے کے لیے ہر پارٹی نے مجرموں اور سماج میں خراب شبیہ والے لوگوں کو ٹکٹ دیا ہے۔ ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیا جارہا ہے، جو پیسہ خرچ کرسکتے ہیں، جن کے پاس مخالفین کو ہرانے کی طاقت ہے اور جو صحیح لوگ ہیں، زمین سے جڑے ہیں، جنہوں نے سالہا سال اپنا خون پسینہ ایک کر کے اپنی پارٹی کو مضبوط بنایا ہے، اسے کھڑا کیا ہے، انہیں نظرانداز کردیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پارٹی کو اپنے مخالفین سے زیادہ اپنے باغیوں سے خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام کے کسی بھی بنیادی سوال اور سماجی-اقتصادی ایشوز کا اثر اس انتخاب میں نہیں نظر آرہا ہے۔ ہر سیاسی پارٹی کا دھیان صرف اور صرف انتخاب میں کامیابی پر ہے۔ ناخواندگی، بیروزگاری، بیماری اور فاقہ کشی جیسے مسائل پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں سے یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اسمبلی میں کتنی بار صحت، تعلیم، بیروزگاری اور مہنگائی جیسے سوالوں پر بحث ہوئی؟ جو امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں، کیا وہ ان ایشوز کو سنجیدگی سے اٹھانے کی قابلیت رکھتے ہیں؟ اس سوال پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔
بہار کی سیاست میں ایک نیا ٹرینڈ چل پڑا ہے، بھائی- بھتیجے کا۔ ہر سیاسی پارٹی میں لیڈر اپنے بیٹے-بیٹیوں، بہوؤں یا رشتہ داروں کو ٹکٹ دینے اور دلانے میں مصروف ہیں۔ صرف چھوٹے ہی نہیں، بڑے لیڈروں کے درمیان بھی ایسی ہوڑ چل رہی ہے۔ کنبہ پروری کا ہر پارٹی میں بول بالا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر سی پی ٹھاکر نے اپنے عہدہ سے اس لیے استعفیٰ دے دیا، کیوں کہ ان کے بیٹے کو پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا۔ جب ضمنی انتخابات ہوئے تھے تو نتیش کمار 17میں صرف 5سیٹیں ہی جیت پائے تھے۔ ویسے ان کی اس بات کے لیے تعریف ہونی چاہیے کہ تب انہوں نے اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کے رشتہ داروں کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ اب جب پوری ریاست میں انتخابات ہو رہے ہیں تو وہ ویسی ہمت نہیں دکھا سکے۔
ریاست کے مسلم ووٹروں کے سامنے بھی چیلنج ہے۔ ایک طرف لالو یادو اور رام ولاس پاسوان ہیں، جنہیں اب تک اقلیتوں کی حمایت ملتی آئی ہے۔ دوسری طرف نتیش کمار اور بی جے پی ہے، جو انہیں لبھانے کے لیے ہرممکن کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کانگریس بھی ہے، جو ریاست میں تنظیم کی باگ ڈور ایک مسلم کو سونپ کر مسلمانوں کو واپس اپنے خیمے میں لانا چاہتی ہے۔ بابری مسجد کے معاملے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کے خلاف گیا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ملک کے عوام نے ایک پختہ رد عمل کا اظہار کیا اور فرقہ پرست تنظیموں کی کوششوں کے باوجود پورا ملک پرامن رہا۔ مسلمانوں کے تحفظ کے علاوہ ایک اور سچ یہ ہے کہ ملک کی دوسری ریاستوں کے مقابلے بہار کے مسلمانوں کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے۔ بہار کے مسلمان سب سے زیادہ غریب ہیں۔ بہار کے مسلمان بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو تعلیم ملے، نوکری ملے اور سماج میں انہیں برابری کا درجہ ملے۔ بھاگلپور فسادات جیسی واردات پھر سے نہ ہوں یہ بھی ہر مسلم ووٹر سوچتا ہے۔ غریبی، بیروزگاری، ناخواندگی اور عدم تحفظ کے ماحول میں مسلمانوں کو اس انتخاب میں فیصلہ لینا ہے۔ بہار میں انتخابات کے دوران مسلم ووٹوں کے ٹھیکیدار پیدا ہوتے ہیں، جو ہر پارٹی سے سودا کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو ووٹ کے دلالوں سے بچنا ہوگا، کیوں کہ انہی لوگوں کی وجہ سے انتخاب کے بعد مسلمانوں سے جڑے ایشوز غائب ہوجاتے ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد بہار میں اچھی خاصی ہے۔ وہ تقریباً پچاس سیٹوں پر فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں، لیکن بہار کے مسلمانوں کے مسائل کو اٹھانے والا صحیح آدمی انتخاب نہیں جیت پاتا ہے۔ اس لیے ضروری یہ ہے کہ ویسے ہی امیدواروں کو ووٹ دینا چاہیے جو مسلمانوں کے مسائل کو اٹھا سکیں، اس کا حل نکال سکیں۔ چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا ہو۔
بہار کے انتخابات کچھ معنوں میں بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ یہاں انتخاب میں غنڈہ گردی، جرم اور دولت کا زبردست استعمال ہوتا ہے۔ انتخاب پر ذات کا اثر سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ امیدوار منتخب کرنے سے لے کر نتیجہ آنے تک انتخاب ذات پات کے رنگ میں شرابور رہتا ہے۔ پولنگ بوتھ پر قبضہ کرنا یا لوٹنے کی واردات عام ہے۔ الیکشن کمیشن کے لیے بہار میں انتخاب کرانا کشمیر سے زیادہ پریشانی کا سبب ہے۔ آج کل سیاسی پارٹیاں گاؤں میں شراب باٹنے لگی ہیں، ساتھ ہی سیاسی پارٹیاں اور ان کے امیدوار کھلے عام پیسے بانٹتے دیکھے جارہے ہیں۔ اس جرم کے خلاف لوگ کھڑے ہوں، نہیں تو بہار میں جمہوریت کٹہ مشینری یا دلال مشینری یا رائفل مشینری میں تبدیل ہوجائے گی۔
بہار کے لوگوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک جواب دہ حکومت بنانے کی ذمہ داری عوام کی ہے، اس لیے ووٹ دیتے وقت یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اگر اچھے لوگ نہیں منتخب ہوئے، تو ان کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔ اگر ابھی نہیں جاگے تو پھر جاگنے کا کوئی مطلب نہیں ہوگا۔ بہار کے لوگوں سے ہم یہی امید کرتے ہیں کہ وہ پارٹیوں کے دائرے سے اوپر اٹھ کر انہیں منتخب کریںگے، جن میں سمجھ داری ہوگی، جن میں علم ہوگا، جن میں حب الوطنی ہوگی اور جو جمہوریت کے تئیں وفادار ہونگے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *